از قلم : ملک ثاقب شاد تنولی ایڈوکیٹ
مجھے ہے حکمِ اذاں — یہ جملہ صرف ایک اعلان یا صدا نہیں، بلکہ ایک ذمہ داری ہے، ایک پیغام ہے، جو ہر اُس شخص کے دل میں گونجتا ہے جو اس قوم، اس دین اور اس انسانیت سے محبت رکھتا ہے۔ اگر اذان کو صرف مسجد کی دیواروں تک محدود کر دیا جائے، تو اس کا مقصد ادھورا رہ جاتا ہے۔ یہ تو ایک پکار ہے بیداری کی، دعوت ہے عمل کی، اور عہد ہے روشنی پھیلانے کا۔
آج اگر ہم اپنے اردگرد نظر دوڑائیں تو ہمیں اندھیرے ہی اندھیرے دکھائی دیتے ہیں۔ کہیں جہالت کا اندھیرا ہے، کہیں نفرت، کہیں تعصب، کہیں مفاد پرستی، کہیں ظلم، کہیں ناانصافی۔ ایسے میں اگر کوئی شخص کہتا ہے "مجھے ہے حکمِ اذاں”، تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ صرف اذان دے کر خاموش ہو جائے، بلکہ اس کا کام اس اذان کی روح کو پھیلانا ہے — علم، عدل، سچائی، اتحاد، اور انسانیت کی روشنی کے ذریعے۔
ہم اذان دیتے تو ہیں، لیکن خود سوئے ہوئے ہیں۔ ہم دوسروں کو بلاتے ہیں، مگر خود راستہ نہیں دکھاتے۔ اگر ہم واقعی "اذان دینے” والے بننا چاہتے ہیں تو سب سے پہلے ہمیں اپنی ذات کو جگانا ہو گا۔ ہمیں اپنے دل، اپنے عمل، اپنے رویے، اپنے طرزِ فکر کو اس اذان کے پیغام کے مطابق بنانا ہو گا۔
یہ اذان ہمیں بتاتی ہے کہ اللہ سب سے بڑا ہے — یعنی دنیا کی ہر چیز سے، ہر طاقت سے، ہر خوف سے، ہر لالچ سے بڑا۔ تو پھر ہمیں کیوں جھکنا پڑتا ہے باطل کے سامنے؟ ہمیں کیوں سمجھوتے کرنے پڑتے ہیں سچ پر؟ ہمیں کیوں دب جانا پڑتا ہے ظلم کے نیچے؟ اس لیے کہ ہم نے اذان کو صرف الفاظ میں محدود کر دیا، اس کے مطلب کو اپنی زندگی سے نکال دیا۔
جب کوئی کہتا ہے "مجھے ہے حکمِ اذاں”، تو وہ ایک عہد کر رہا ہوتا ہے کہ وہ سچ بولے گا، عدل پر کھڑا ہو گا، مظلوم کے ساتھ ہو گا، اور ظالم کے خلاف۔ وہ اپنے علم سے جہالت کو شکست دے گا، اپنے کردار سے معاشرے کو جگائے گا، اور اپنے عمل سے انسانیت کو زندہ کرے گا۔
یہ کلمہ صرف مسجد کی چھت سے بلند ہونے کے لیے نہیں، بلکہ ہر اُس دل میں گونجنے کے لیے ہے جو حق کا متلاشی ہے۔ ہر اس زبان پر آنا چاہیے جو باطل سے ٹکرا سکتی ہے۔ ہر اس قدم میں ہونا چاہیے جو روشنی کی طرف بڑھتا ہے۔
اگر ہم واقعی اس جملے کا مطلب سمجھ لیں — مجھے ہے حکمِ اذاں — تو ہم صرف بولنے والے نہیں، بدلنے والے بن جائیں گے۔ اور یہی تبدیلی اس وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔





















