جب انسان فطرت کے اصولوں کو پسِ پشت ڈال کر ترقی کے خواب بُنتا ہے تو وہ خواب اکثر بھیانک انجام کا پیش خیمہ بن جاتے ہیں۔ حالیہ بارشوں اور سیلاب نے وہ تباہی پھیلائی ہے جسے دیکھ کر انسانیت کا سر شرم سے جھک جانا چاہیے۔ کھیت کھلیان، بستیاں، سڑکیں، بازار اور رہائشی علاقے پانی میں اس طرح ڈوبے کہ جیسے فطرت نے انسان کو اُس کی اوقات یاد دلانے کا فیصلہ کر لیا ہو۔
ہم برسوں سےسنتےآ رہے ہیں کہ پانی اپنا راستہ خود بنا لیتا ہے، مگر ہم نے قدرتی گزرگاہوں کو بند کر کے یہ سمجھ لیا کہ شاید پانی ہماری مرضی کا محتاج ہے۔ ہم نے برساتی نالوں پر شاپنگ مالز کھڑے کیے، قدرتی نکاسی کے راستوں پر ہاؤسنگ اسکیمز بنائیں، اور برساتی پانی کی گزرگاہوں کو سرکاری منظوریوں سے دبا دیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ وہی پانی جو خاموشی سے گزر جایا کرتا تھا، اب طوفان بن کر تباہی مچا رہا ہے۔ دیواریں گریں، چھتیں اُڑیں، لوگ بے گھر ہوئے، اور جو کچھ برسوں میں بنایا گیا، وہ لمحوں میں بہہ گیا۔
افسوس اس بات کا نہیں کہ بارش آئی، دکھ اس امر کا ہے کہ ہم نے اُس بارش کا راستہ روکا جو صدیوں سے اپنا ایک قدرتی بہاؤ رکھتی تھی۔ آج ہر محلہ، ہر گلی، ہر سڑک کسی نہ کسی گندے نالے یا رُکی ہوئی نکاسی کی علامت بن چکی ہے۔ لوگ سروں پر چھتیں ڈھونڈتے پھر رہے ہیں اور حکومت صرف بیانات دیتی دکھائی دیتی ہے۔
یہ وہی پانی ہے جسے اگر عقل و تدبر سے سنبھالا جائے تو یہ زحمت نہیں بلکہ عظیم نعمت بن سکتا ہے۔ یہی سیلابی پانی اگر ڈیمز کی صورت میں محفوظ کیا جائے تو نہ صرف سستی بجلی پیدا کی جا سکتی ہے بلکہ زراعت، صنعت، معیشت اور روزگار کے دروازے بھی کھل سکتے ہیں۔ پاکستان جیسا ملک، جہاں زمین زرخیز، موسم موافق اور آبادی محنتی ہو، صرف پانی کے نظم و نسق سے خود کفالت کی معراج تک پہنچ سکتا ہے۔ مگر بدقسمتی یہ ہے کہ اس ملکِ خداداد پر عشروں سے ایسی اشرافیہ قابض ہے جس نے نہ صرف اس نعمت کو ضائع کیا بلکہ اسے عذاب میں بدلنے کا بندوبست بھی خود ہی کیا۔
حیرت کی بات یہ ہے کہ ان مسائل کے ذمہ دار وہی چہرے ہیں جو چالیس سال سے اس ملک پر حکمران ہیں۔ وہی خاندان، وہی نام، وہی چالاکیاں۔ کبھی کسی ایوانِ زیریں میں، کبھی ایوانِ بالا میں، اور کبھی وزارتی کرسیوں پر، وہ نسل در نسل اس قوم کو ترقی کے خواب دکھاتے رہے، مگر درحقیقت انہوں نے صرف اپنے محلات کو محفوظ بنایا اور عوام کو طوفانوں کے حوالے کر دیا۔
یہ المیہ صرف قدرتی آفات کا نہیں، یہ انتظامی نااہلی، سیاسی منافقت اور معاشرتی غفلت کا مشترکہ نتیجہ ہے۔ اگر آج بھی ہم نہ سنبھلے، اگر آج بھی ہم نے فطرت سے ٹکرانا ترک نہ کیا، اگر آج بھی ہم نے نکاسی آب، منصوبہ بندی، اور اربن ڈویلپمنٹ کو سنجیدگی سے نہ لیا، تو آنے والے دن اس سے کہیں زیادہ ہولناک ہو سکتے ہیں۔
وقت کا تقاضا یہ ہے کہ ہم قدرتی اصولوں کے مطابق اپنی بستیوں کی ازسرنو منصوبہ بندی کریں۔ نکاسی کے نظام کو بہتر بنائیں، ہاؤسنگ سوسائٹیوں کے قیام سے پہلے ماحولیاتی رپورٹ کو لازم قرار دیں، اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ان چالیس سالہ موروثی سیاسی گماشتوں کو عوامی عدالت میں لا کر ان سے اُن جرائم کا حساب لیا جائے جو وہ نسلوں پر مسلط کر کے گئے ہیں۔
کیونکہ اگر ہم نے اب بھی آنکھیں بند رکھیں تو اگلی بار صرف دیواریں نہیں گریں گی، بنیادیں بھی بہہ جائیں گی۔ یاد رکھو، فطرت کے ساتھ چھیڑ چھاڑ ہمیشہ نقصان دہ ثابت ہوتی ہے۔





















