آذربائیجان کے فرسٹ ڈپٹی وزیر دفاع اور چیف آف جنرل اسٹاف، کرنل جنرل کریم والیئف نے راولپنڈی میں جنرل ہیڈ کوارٹرز (جی ایچ کیو) کا دورہ کیا اور پاک فوج کے سربراہ، جنرل سید عاصم منیر سے ملاقات کی۔ اس موقع پر انہوں نے فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کو آذربائیجان کا اعلیٰ ترین فوجی اعزاز ’’پیٹریاٹک وار میڈل‘‘ پیش کیا۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے جاری کردہ بیان کے مطابق، جنرل عاصم منیر نے پاکستان اور آذربائیجان کے درمیان گہرے برادرانہ تعلقات کو مزید مضبوط کرنے کے عزم کا اعادہ کیا اور آذربائیجان و آرمینیا کے مابین امن معاہدے کی کامیاب تکمیل پر مبارکباد دی۔
ملاقات کے دوران، آذربائیجان کے وفد نے پاک فوج کی پیشہ ورانہ مہارت اور ’’معرکہ حق، آپریشن بنیان مرصوص‘‘ میں کامیابیوں پر خراج تحسین پیش کیا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق، وفد نے پاکستان کے یوم آزادی اور آذربائیجان کی فتح کی تقریبات کے موقع پر نیک خواہشات کا اظہار کیا۔
ترجمان پاک فوج نے بتایا کہ جنرل عاصم منیر نے مشکل حالات میں پاکستانی عوام کے ساتھ تعاون اور یوم آزادی کی تقریب میں آذربائیجان کے دستے کی شرکت پر شکریہ ادا کیا۔
اس موقع پر، کرنل جنرل کریم والیئف نے آذربائیجان کے صدر الہام علییف کی جانب سے جنرل عاصم منیر کو “پیٹریاٹک وار میڈل” عطا کیا، جو فوجی تعاون کے شعبے میں ان کی غیر معمولی خدمات کے اعتراف میں دیا گیا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق، کرنل جنرل والیئف نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی قربانیوں اور کردار کی تعریف کی اور دفاع و سیکیورٹی کے شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو مزید فروغ دینے کے عزم کا اظہار کیا۔
اس سے قبل، جی ایچ کیو پہنچنے پر کرنل جنرل کریم والیئف کو پاک فوج کے چاق و چوبند دستے نے گارڈ آف آنر پیش کیا۔ انہوں نے یادگار شہداء پر حاضری دی اور پھولوں کی چادر چڑھائی۔
پس منظر
پاکستان اور آذربائیجان کے درمیان گہرے تاریخی، ثقافتی اور فوجی تعلقات ہیں، جو دہائیوں پر محیط ہیں۔ دونوں ممالک نے ہمیشہ ایک دوسرے کے موقف کی حمایت کی ہے، خاص طور پر عالمی اور علاقائی معاملات میں۔ 1992 میں آذربائیجان کے آزاد ہونے کے بعد سے پاکستان نے اس کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی حمایت کی ہے، خاص طور پر ناگورنو-کاراباخ تنازع کے حوالے سے۔
2020 میں، دوسری ناگورنو-کاراباخ جنگ کے دوران، پاکستان نے آذربائیجان کی حمایت کا اعلان کیا تھا اور اس کی فتح کے بعد مبارکباد دی تھی۔ اس تنازع کے خاتمے کے بعد، 2023 میں آذربائیجان اور آرمینیا کے درمیان امن معاہدے کی کامیابی نے خطے میں استحکام کو فروغ دیا، جسے پاکستان نے سراہا۔
پاکستان اور آذربائیجان کے درمیان فوجی تعاون میں اضافہ حالیہ برسوں میں نمایاں رہا ہے۔ 2022 میں، دونوں ممالک نے مشترکہ فوجی مشقوں اور تربیتی پروگراموں کے معاہدوں پر دستخط کیے، جن کا مقصد دہشت گردی کے خلاف جنگ اور دفاعی صلاحیتوں کو بڑھانا تھا۔ اس کے علاوہ، آذربائیجان نے پاک فوج کی دہشت گردی کے خلاف کامیابیوں، خاص طور پر آپریشن ضرب عضب اور آپریشن بنیان مرصوص، کو عالمی سطح پر سراہا ہے۔
2024 میں، پاکستان کے یوم آزادی کی تقریب میں آذربائیجان کے فوجی دستے کی شرکت نے دونوں ممالک کے درمیان دوستی کے رشتے کو مزید اجاگر کیا۔ اسی طرح، پاکستان نے آذربائیجان کی فتح کی تقریبات میں شرکت کرکے اپنی یکجہتی کا اظہار کیا۔
تجزیہ
آذربائیجان کے فرسٹ ڈپٹی وزیر دفاع کی جانب سے جنرل عاصم منیر کو “پیٹریاٹک وار میڈل” کا اعزاز عطا کرنا نہ صرف پاک فوج کے سربراہ کی ذاتی خدمات کا اعتراف ہے بلکہ پاکستان اور آذربائیجان کے درمیان گہرے فوجی اور سفارتی تعلقات کی عکاسی بھی کرتا ہے۔ یہ اعزاز دونوں ممالک کے درمیان باہمی اعتماد اور تعاون کی ایک اہم علامت ہے۔
پیٹریاٹک وار میڈل آذربائیجان کا ایک اعلیٰ فوجی اعزاز ہے جو فوجی خدمات، بہادری، اور وطن کے لیے غیر معمولی کارکردگی کے اعتراف میں دیا جاتا ہے۔





















