کراچی: بھارتی کرکٹ ٹیم کے ابھرتے ہوئے ستارے شبمن گل ایک بار پھر سرخیوں میں ہیں، کیونکہ بھارتی کرکٹ سلیکٹرز انہیں ٹی 20 ٹیم کی کپتانی سونپنے پر سنجیدگی سے غور کر رہے ہیں۔ روہت شرما کی ٹیسٹ کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کے بعد شبمن گل کو ٹیسٹ ٹیم کی قیادت سونپی گئی تھی، اور ان کی قائدانہ صلاحیتوں نے سلیکٹرز کو متاثر کیا ہے۔ انگلینڈ کے خلاف حالیہ ٹیسٹ سیریز میں ان کی شاندار کارکردگی اور قیادت نے بھارتی کرکٹ بورڈ (بی سی سی آئی) کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیا کہ وہ ٹی 20 فارمیٹ میں بھی ٹیم کی باگ ڈور سنبھال سکتے ہیں۔
شبمن گل کی قائدانہ صلاحیتوں کا امتحان
روہت شرما نے مئی 2025 میں ٹیسٹ کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کیا تھا، جس کے بعد 25 سالہ شبمن گل کو انگلینڈ کے خلاف پانچ میچوں کی ٹیسٹ سیریز کے لیے بھارتی ٹیم کا کپتان مقرر کیا گیا۔ اس سیریز میں انہوں نے نہ صرف اپنی بیٹنگ سے سب کو متاثر کیا بلکہ اپنی حکمت عملی اور قائدانہ انداز سے بھی ٹیم کو 2-2 سے ڈرا کروانے میں کامیاب رہے۔ انگلینڈ کے مشکل حالات میں، جہاں گیند سوئنگ اور سیم کرتی ہے، شبمن نے 754 رنز بنائے، جن میں چار سنچریاں شامل تھیں، اور اس کارکردگی نے انہیں جولائی 2025 کے لیے آئی سی سی مینز پلیئر آف دی منتھ کا اعزاز بھی دلایا۔
ان کی اس شاندار کارکردگی نے سلیکٹرز اور ٹیم مینجمنٹ کو یہ اعتماد دیا کہ وہ نہ صرف ٹیسٹ فارمیٹ بلکہ ٹی 20 جیسے تیز رفتار فارمیٹ میں بھی قیادت کے لیے موزوں ہیں۔ ذرائع کے مطابق، بی سی سی آئی کے سلیکٹرز شبمن گل کو ٹی 20 ٹیم میں واپس لانے اور انہیں قیادت کا موقع دینے پر غور کر رہے ہیں، خاص طور پر آئندہ ماہ متحدہ عرب امارات (یو اے ای) میں شیڈول ایشیا کپ کے لیے۔
شبمن گل کی واپسی اور ممکنہ کپتانی
ایشیا کپ 2025، جو 9 سے 28 ستمبر تک یو اے ای میں کھیلا جائے گا، ٹی 20 فارمیٹ میں ہوگا اور اگلے سال 2026 کے ٹی 20 ورلڈ کپ کی تیاری کے طور پر اہم سمجھا جا رہا ہے۔ بھارت اس ٹورنامنٹ میں دفاعی چیمپئن کے طور پر شرکت کرے گا، کیونکہ اس نے 2023 میں سری لنکا کو شکست دے کر اپنا آٹھواں ایشیا کپ ٹائٹل جیتا تھا۔ اطلاعات کے مطابق، شبمن گل کو نہ صرف ٹی 20 اسکواڈ میں واپس لایا جا رہا ہے بلکہ انہیں موجودہ کپتان سوریا کمار یادو کے نائب کپتان کے طور پر بھی نامزد کیا جا سکتا ہے۔ کچھ ذرائع نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ سلیکٹرز انہیں ایشیا کپ کے لیے کپتانی سونپنے پر غور کر رہے ہیں، جو ان کے کیریئر کا ایک اہم موڑ ہوگا۔
شبمن گل نے اپنا آخری ٹی 20 انٹرنیشنل میچ جولائی 2024 میں سری لنکا کے خلاف کھیلا تھا۔ انہوں نے 21 ٹی 20 میچوں میں 578 رنز بنائے ہیں، جن میں ایک سنچری اور تین نصف سنچریاں شامل ہیں، اور ان کا ایوریج 30.42 ہے۔ آئی پی ایل 2025 میں انہوں نے گجرات ٹائٹنز کی قیادت کرتے ہوئے 650 رنز بنائے، جس میں ان کا اسٹرائیک ریٹ 156 کے قریب تھا، جو ان کی جدید ٹی 20 بیٹنگ کی صلاحیت کو ظاہر کرتا ہے۔
سلیکٹرز کی حکمت عملی اور چیلنجز
بھارتی سلیکٹرز کا شبمن گل پر اعتماد ان کی حالیہ کارکردگی، کم عمر ہونے، اور طویل مدتی قیادت کے امکانات کی وجہ سے ہے۔ روہت شرما اور ویراٹ کوہلی کی ٹی 20 انٹرنیشنل سے ریٹائرمنٹ کے بعد، بھارت ایک نئے لیڈر کی تلاش میں ہے جو ٹیم کو اگلے ٹی 20 ورلڈ کپ تک لے جا سکے۔ شبمن کی قائدانہ صلاحیتوں نے گجرات ٹائٹنز کو آئی پی ایل 2025 کے پلے آف تک پہنچایا، اور ان کی ٹیسٹ سیریز میں کامیابی نے انہیں سلیکٹرز کی نظروں میں ایک مضبوط امیدوار بنا دیا ہے۔
تاہم، ٹی 20 ٹیم میں شبمن کی واپسی اور ممکنہ کپتانی کے فیصلے کے ساتھ کچھ چیلنجز بھی ہیں۔ بھارت کا موجودہ ٹی 20 ٹاپ آرڈر، جس میں ابھیشیک شرما اور سنجو سیمسن شامل ہیں، کافی مضبوط ہے۔ ابھیشیک شرما آئی سی سی ٹی 20 رینکنگ میں سرفہرست بیٹر ہیں، جبکہ سنجو سیمسن نے حالیہ میچوں میں تین سنچریاں اسکور کی ہیں۔ اس کے علاوہ، یشسوی جیسوال بھی اوپننگ کے لیے ایک مضبوط امیدوار ہیں۔ اگر شبمن کو ٹیم میں شامل کیا جاتا ہے، تو سلیکٹرز کو انہیں اوپننگ یا نمبر تین پر فٹ کرنے کے لیے مشکل فیصلہ کرنا پڑے گا، جو ٹیم کے توازن کو متاثر کر سکتا ہے۔
اس کے علاوہ، موجودہ نائب کپتان ایکسر پٹیل، ہاردک پانڈیا، اور سنجو سیمسن جیسے کھلاڑی بھی قیادت کے خواہشمند ہیں، اور شبمن کو نائب کپتان یا کپتان بنانے سے ٹیم میں کچھ تناؤ پیدا ہو سکتا ہے۔ سلیکٹرز کو یہ یقینی بنانا ہوگا کہ ٹیم کا اتحاد برقرار رہے۔
سوشل میڈیا پر ردعمل
شبمن گل کی ممکنہ ٹی 20 کپتانی کی خبر سوشل میڈیا پر تیزی سے پھیلی، اور شائقین نے اس پر مخلوط ردعمل دیا۔ ایک صارف نے ایکس پر لکھا، "شبمن گل ایک شاندار انتخاب ہیں! ان کی قیادت میں ٹیسٹ ٹیم نے انگلینڈ میں کمال کیا، اب ٹی 20 میں بھی وہی جادو دکھائیں گے۔” دوسری جانب، کچھ صارفین نے خدشات کا اظہار کیا کہ ٹی 20 ٹیم میں ان کی جگہ بنانا مشکل ہوگا۔ ایک صارف نے تبصرہ کیا، "ابھیشیک اور سنجو اتنے اچھے فارم میں ہیں، شبمن کو کس جگہ فٹ کریں گے؟ سلیکٹرز کو سوچنا ہوگا۔”
شبمن گل کی ممکنہ ٹی 20 کپتانی بھارتی کرکٹ کے لیے ایک نئے دور کا آغاز ہو سکتی ہے۔ ان کی کم عمر، جارحانہ بیٹنگ، اور حالیہ قائدانہ کامیابیوں نے انہیں ایک مضبوط امیدوار بنا دیا ہے۔ انگلینڈ کے خلاف ٹیسٹ سیریز میں ان کی کارکردگی نے ثابت کیا کہ وہ دباؤ میں پرسکون رہ کر فیصلے کر سکتے ہیں، جو ٹی 20 جیسے تیز رفتار فارمیٹ کے لیے ضروری ہے۔ ایشیا کپ 2025 ان کے لیے ایک بہترین موقع ہوگا کہ وہ اپنی قائدانہ صلاحیتوں کو مختصر فارمیٹ میں منوائیں۔
تاہم، سلیکٹرز کے لیے سب سے بڑا چیلنج ٹیم کے توازن کو برقرار رکھنا ہوگا۔ ٹی 20 ٹیم میں پہلے سے موجود مضبوط اوپنرز اور دیگر قائدانہ امیدواروں کی موجودگی شبمن کی شمولیت کو پیچیدہ بنا سکتی ہے۔ اس کے علاوہ، ایشیا کپ کے فوراً بعد ویسٹ انڈیز کے خلاف ہوم ٹیسٹ سیریز شروع ہو رہی ہے، جو شیڈولنگ کے لحاظ سے شبمن کی قیادت کے لیے ایک اضافی امتحان ہوگا۔
پاکستان کے تناظر میں، یہ خبر اہم ہے کیونکہ ایشیا کپ میں بھارت اور پاکستان کا میچ 14 ستمبر کو شیڈول ہے، جو ہمیشہ کی طرح شائقین کے لیے ایک ہائی وولٹیج مقابلہ ہوگا۔ اگر شبمن گل کپتان ہوتے ہیں، تو یہ ان کے کیریئر کا سب سے بڑا امتحان ہوگا، کیونکہ پاکستان کے خلاف میچز ہمیشہ جذباتی اور دباؤ سے بھرپور ہوتے ہیں۔
بھارتی کرکٹ اب ایک نئے دور میں داخل ہو رہی ہے، جہاں شبمن گل جیسے نوجوان کھلاڑیوں سے بہت سی توقعات وابستہ ہیں۔ اگر سلیکٹرز انہیں ٹی 20 کپتانی سونپتے ہیں، تو یہ نہ صرف ان کے کیریئر کے لیے ایک سنگ میل ہوگا بلکہ بھارتی کرکٹ کے مستقبل کی سمت بھی طے کرے گا۔ شبمن گل کو اب یہ ثابت کرنا ہوگا کہ وہ روہت شرما اور ویراٹ کوہلی جیسے عظیم کھلاڑیوں کی جگہ لے سکتے ہیں اور بھارت کو نئی بلندیوں تک لے جا سکتے ہیں۔





















