برمنگھم: برطانیہ کے دوسرے سب سے بڑے شہر برمنگھم میں ایک تاریخی تبدیلی دیکھنے میں آئی ہے، جہاں اسلام نے عیسائیت کو پیچھے چھوڑتے ہوئے باضابطہ طور پر سب سے بڑا مذہب بننے کا اعزاز حاصل کر لیا ہے۔ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق، شہر کی 32.2 فیصد آبادی اب خود کو مسلمان شناخت کرتی ہے، جبکہ 32 فیصد عیسائی ہیں۔ یہ اعداد و شمار 2021 کے قومی مردم شماری سے کافی مختلف ہیں، جب عیسائیوں کی شرح 34 فیصد اور مسلمانوں کی 29.9 فیصد تھی۔ یہ رپورٹ برمنگھم کے مذہبی منظر نامے میں اس اہم تبدیلی، اس کے پس منظر، اور اس کے سماجی و ثقافتی اثرات کا جائزہ پیش کرتی ہے۔
برمنگھم کا بدلتا مذہبی منظر نامہ
برمنگھم، جو ویسٹ مڈلینڈز کا دل سمجھا جاتا ہے، ہمیشہ سے اپنی ثقافتی اور مذہبی تنوع کے لیے مشہور رہا ہے۔ 2021 کی مردم شماری کے مطابق، ویسٹ مڈلینڈز میں 9.6 فیصد آبادی مسلمان تھی، جو لندن کے 15 فیصد کے بعد برطانیہ میں دوسری سب سے بڑی مسلم آبادی تھی۔ تاہم، نئے اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ برمنگھم میں مسلم آبادی نے عیسائیوں کو پیچھے چھوڑ دیا ہے، جو شہر کی آبادی کے ڈھانچے اور سماجی رجحانات میں ایک اہم تبدیلی کی عکاسی کرتا ہے۔
2021 میں، برمنگھم کی کل آبادی تقریباً 11.4 لاکھ تھی، اور اس وقت عیسائی 34 فیصد کے ساتھ سب سے بڑا مذہبی گروہ تھے، جبکہ مسلمان 29.9 فیصد کے ساتھ دوسرے نمبر پر تھے۔ صرف چار سال بعد، 2025 کے تخمینوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ مسلم آبادی نے 32.2 فیصد تک پہنچ کر عیسائیت (32 فیصد) کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ یہ تبدیلی آبادی کے اضافے، ہجرت، اور مذہبی وابستگی میں تبدیلی جیسے عوامل کی وجہ سے ہے۔
تبدیلی کے اسباب
برمنگھم میں مسلم آبادی کے اضافے کی کئی وجوہات ہیں۔ سب سے پہلے، شہر میں جنوبی ایشیا، مشرق وسطیٰ، اور افریقہ سے آنے والے تارکین وطن کی ایک بڑی تعداد موجود ہے، جن میں سے زیادہ تر مسلم ہیں۔ خاص طور پر پاکستانی، بنگلہ دیشی، اور صومالی کمیونٹیز نے شہر کے مسلم آبادی کے تنوع کو بڑھایا ہے۔ دوسری طرف، عیسائیت سے وابستہ افراد کی تعداد میں کمی واقع ہوئی ہے، کیونکہ برطانیہ میں سیکولرائزیشن کا رجحان بڑھ رہا ہے۔ 2021 کی مردم شماری کے مطابق، برطانیہ میں 37.2 فیصد افراد نے خود کو غیر مذہبی قرار دیا تھا، اور یہ رجحان برمنگھم میں بھی واضح ہے۔
مزید برآں، مسلم آبادی کی اوسط عمر عیسائی آبادی کے مقابلے میں کم ہے، جس کا مطلب ہے کہ مسلم خاندانوں میں شرح پیدائش نسبتاً زیادہ ہے۔ اس کے علاوہ، کچھ برطانوی شہریوں کی جانب سے اسلام قبول کرنے کے رجحان نے بھی اس تبدیلی میں کردار ادا کیا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق، ہر سال تقریباً 6,000 برطانوی شہری، جن میں زیادہ تر خواتین ہیں، اسلام قبول کرتے ہیں۔
سماجی اور ثقافتی اثرات
برمنگھم میں اس مذہبی تبدیلی کے گہرے سماجی اور ثقافتی اثرات ہیں۔ شہر کی مساجد، جیسے کہ برمنگھم سینٹرل مسجد اور گرین لین مسجد، کمیونٹی کے مراکز کے طور پر اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔ یہ مساجد نہ صرف عبادت کی جگہ ہیں بلکہ تعلیمی پروگرامز، سماجی خدمات، اور بین المذاہب مکالمے کے پلیٹ فارم بھی فراہم کرتی ہیں۔ دوسری طرف، عیسائی چرچز، خاص طور پر چرچ آف انگلینڈ سے وابستہ گرجا گھروں میں، عبادت گزاروں کی تعداد میں مسلسل کمی دیکھی جا رہی ہے۔
ایکس پر پوسٹس سے پتہ چلتا ہے کہ یہ تبدیلی کچھ لوگوں کے لیے تشویش کا باعث ہے۔ ایک صارف نے لکھا کہ برمنگھم کی مسلم آبادی کا ایک بڑا حصہ (تقریباً 20 فیصد) خود کو نہ تو برطانوی اور نہ ہی انگلش شناخت سے جوڑتا ہے، جو سماجی ہم آہنگی کے بارے میں سوالات اٹھاتا ہے۔ تاہم، دوسرے لوگوں نے اس تنوع کو برمنگھم کی طاقت قرار دیا، کیونکہ شہر کئی دہائیوں سے کثیر الثقافتی معاشرے کے طور پر ترقی کر رہا ہے۔
تاریخی پس منظر
برمنگھم میں مسلم آبادی کی موجودگی کوئی نیا رجحان نہیں ہے۔ 18ویں صدی میں، برطانوی سلطنت کے تحت ہندوستان سے آنے والے لاسکار (بحری جہازوں کے ملاح) برمنگھم اور دیگر بندرگاہی شہروں میں آباد ہونا شروع ہوئے تھے۔ 1947 میں تقسیم ہند کے بعد، پاکستانی اور بنگلہ دیشی کمیونٹیز کی بڑی تعداد برمنگھم میں آئی، جس نے شہر کے مسلم آبادی کے ڈھانچے کو مضبوط کیا۔ آج، برمنگھم کی مسلم کمیونٹی میں پاکستانی، بنگلہ دیشی، عربی، صومالی، اور ترک باشندوں کے ساتھ ساتھ تقریباً 100,000 برطانوی نومسلم بھی شامل ہیں۔
دوسری طرف، عیسائیت کی تاریخی بالادستی کو سیکولرائزیشن نے چیلنج کیا ہے۔ 2001 سے 2021 تک، برطانیہ میں عیسائیوں کی تعداد 71.7 فیصد سے کم ہو کر 46.3 فیصد رہ گئی، جبکہ غیر مذہبی افراد کی تعداد 14.6 فیصد سے بڑھ کر 36.7 فیصد ہو گئی۔ برمنگھم میں بھی یہی رجحان دیکھا جا سکتا ہے، جہاں عیسائی آبادی میں کمی اور غیر مذہبی افراد کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔
سوشل میڈیا پر ردعمل
ایکس پر اس خبر نے خاصی توجہ حاصل کی ہے۔ کچھ صارفین نے اسے برمنگھم کے کثیر الثقافتی کردار کی کامیابی قرار دیا، جبکہ دیگر نے ثقافتی شناخت اور سماجی ہم آہنگی کے بارے میں خدشات کا اظہار کیا۔ ایک صارف نے لکھا، "برمنگھم کا تنوع اس کی خوبصورتی ہے، لیکن ہمیں اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ تمام کمیونٹیز مل کر ترقی کریں۔” دوسری طرف، کچھ صارفین نے اس تبدیلی کو "ثقافتی تبدیلی” کے طور پر دیکھا اور اسے برطانوی شناخت کے لیے خطرہ قرار دیا۔ تاہم، یہ پوسٹس غیر مصدقہ ہیں اور انہیں حتمی حقائق کے طور پر نہیں لیا جا سکتا۔
برمنگھم میں اسلام کا سب سے بڑا مذہب بننا برطانیہ کے تیزی سے بدلتے ہوئے سماجی ڈھانچے کی عکاسی کرتا ہے۔ یہ تبدیلی نہ صرف آبادیاتی بلکہ ثقافتی اور سماجی طور پر بھی اہم ہے۔ برمنگھم ہمیشہ سے تنوع کا گہوارہ رہا ہے، اور اس شہر نے پاکستانی، بنگلہ دیشی، اور دیگر مسلم کمیونٹیز کو کامیابی سے اپنایا ہے۔ تاہم، یہ تبدیلی سماجی ہم آہنگی کے حوالے سے کچھ چیلنجز بھی لاتی ہے، جیسا کہ ایکس پر کچھ پوسٹس میں دیکھا گیا، جہاں شناخت کے مسائل پر بحث ہو رہی ہے۔
اس تبدیلی کا ایک اہم پہلو سیکولرائزیشن کا بڑھتا ہوا رجحان ہے، جس نے عیسائی آبادی کو سب سے زیادہ متاثر کیا ہے۔ برطانیہ میں، خاص طور پر انگلینڈ میں، مذہبی وابستگی کم ہو رہی ہے، اور غیر مذہبی افراد کی تعداد تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ یہ رجحان برمنگھم میں بھی واضح ہے، جہاں عیسائی آبادی میں کمی ہوئی ہے، جبکہ مسلم آبادی اپنی مذہبی شناخت کے ساتھ زیادہ فعال دکھائی دیتی ہے۔
پاکستان کے تناظر میں، یہ خبر اہم ہے کیونکہ برمنگھم کی مسلم آبادی میں پاکستانی نژاد افراد کی بڑی تعداد شامل ہے۔ یہ کمیونٹی نہ صرف برمنگھم کے معاشی اور ثقافتی ڈھانچے میں اہم کردار ادا کرتی ہے بلکہ پاکستان کے ساتھ ثقافتی اور خاندانی روابط کو بھی مضبوط کرتی ہے۔ تاہم، برطانوی معاشرے میں انضمام اور شناخت کے سوالات اب بھی اہم ہیں، اور مقامی حکام کو اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ تمام کمیونٹیز کے درمیان ہم آہنگی برقرار رہے۔
برمنگھم کی یہ تبدیلی برطانیہ کے مستقبل کے مذہبی اور ثقافتی منظر نامے کی ایک جھلک پیش کرتی ہے۔ یہ شہر ایک کثیر الثقافتی ماڈل کے طور پر ابھر رہا ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ اسے سماجی اتحاد اور مساوی مواقع کو یقینی بنانے کے چیلنجز کا بھی سامنا ہے۔ اگر برمنگھم کی مقامی حکومت اور کمیونٹی لیڈرز اس تنوع کو ایک طاقت کے طور پر استعمال کریں، تو یہ شہر نہ صرف برطانیہ بلکہ پوری دنیا کے لیے ایک مثالی ماڈل بن سکتا ہے۔





















