ملک میں عید میلاد النبیؐ پر تین روزہ چھٹیوں کا اعلان

یہ تعطیلات آئندہ ماہ 4 سے 6 ستمبر 2025 تک ہوں گی

کویت سٹی: نبی آخر الزماں حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت باسعادت کے موقع پر کویت کی حکومت نے ایک اہم فیصلہ کرتے ہوئے تین روزہ سرکاری تعطیلات کا اعلان کیا ہے۔ یہ تعطیلات آئندہ ماہ 4 سے 6 ستمبر 2025 تک ہوں گی، جن کے دوران ملک بھر میں عقیدت و احترام کے ساتھ جشن میلاد النبیؐ منایا جائے گا۔ یہ فیصلہ کویت کی کابینہ کے حالیہ اجلاس میں کیا گیا، جس کا مقصد امت مسلمہ کے لیے اس مقدس دن کی اہمیت کو اجاگر کرنا اور عوام کو اس موقع پر مذہبی سرگرمیوں میں بھرپور شرکت کا موقع فراہم کرنا ہے۔ 

تین روزہ تعطیلات

کویت کی کابینہ نے اپنے ایک اعلامیے میں اعلان کیا کہ 4 ستمبر 2025، جو جمعرات کے دن ہے، نبی کریمؐ کی ولادت کے موقع پر سرکاری تعطیل ہوگی۔ اس دن تمام سرکاری وزارتیں، ادارے، اور سرکاری تنظیمیں بند رہیں گی تاکہ شہری عقیدت کے ساتھ اس دن کو منا سکیں۔ اس کے علاوہ، جمعہ اور ہفتہ، جو کویت میں ہفتہ وار تعطیلات کے دن ہیں، بھی شامل ہوں گے، جس کے نتیجے میں شہریوں کو تین دن کی مسلسل چھٹیاں میسر ہوں گی۔ سرکاری دفاتر اور ادارے اتوار، 7 ستمبر 2025 کو دوبارہ کھلیں گے۔

یہ فیصلہ کویت کے شہریوں اور رہائشیوں کے لیے ایک اہم موقع ہے کہ وہ اس مقدس دن کو مذہبی جوش و جذبے کے ساتھ منائیں۔ کویت، جو ایک اسلامی ملک ہے، ہمیشہ سے مذہبی تہواروں اور تقریبات کو بھرپور طریقے سے منانے کے لیے جانا جاتا ہے، اور اس سال جشن میلاد النبیؐ کی تقریبات بھی اسی روایت کو برقرار رکھیں گی۔

جشن میلاد النبیؐ کی تیاریاں

کویت میں ہر سال 12 ربیع الاول کو نبی کریمؐ کی ولادت کا دن بڑی عقیدت و احترام سے منایا جاتا ہے۔ مساجد، کمیونٹی سینٹرز، اور عوامی مقامات پر خصوصی محافل، نعت خوانی، اور دینی اجتماعات کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ گھروں اور گلیوں کو روشنیوں سے سجایا جاتا ہے، جبکہ خیرات اور صدقات تقسیم کیے جاتے ہیں۔ کویت کی مسلم کمیونٹی، جس میں مقامی کویتی شہریوں کے ساتھ ساتھ پاکستانی، بھارتی، بنگلہ دیشی، اور دیگر ممالک سے تعلق رکھنے والے رہائشی شامل ہیں، اس موقع پر اپنی مذہبی وابستگی کا بھرپور مظاہرہ کرتی ہے۔

کویت کی حکومت نے اس سال بھی مساجد اور دیگر مقامات پر خصوصی انتظامات کی ہدایت کی ہے تاکہ شہری محفوظ اور منظم انداز میں تقریبات میں شریک ہو سکیں۔ اس کے علاوہ، کویت کے نجی شعبے کے اداروں اور دکانداروں نے بھی اس موقع پر خصوصی رعایتیں اور خیراتی سرگرمیوں کا اعلان کیا ہے۔

کویت کا مذہبی تناظر

کویت ایک اسلامی ملک ہے، جہاں سنی اور شیعہ دونوں فرقوں کے ماننے والے ہم آہنگی کے ساتھ رہتے ہیں۔ ملک کی تقریباً 70 فیصد آبادی مقامی کویتی شہریوں پر مشتمل ہے، جبکہ باقی 30 فیصد غیر ملکی رہائشی ہیں، جن میں سے بڑی تعداد مسلم ہے۔ جشن میلاد النبیؐ کا دن کویت میں ایک اہم مذہبی تہوار ہے، جو نہ صرف مقامی شہریوں بلکہ غیر ملکی کمیونٹی کے لیے بھی اہمیت رکھتا ہے۔

اس سال تین روزہ تعطیلات کا اعلان اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ کویت کی حکومت اپنی اسلامی شناخت کو مضبوط کرنے اور عوام کو مذہبی سرگرمیوں میں شرکت کا زیادہ سے زیادہ موقع دینے کے لیے پرعزم ہے۔ یہ فیصلہ کویت کی دیگر اسلامی روایات، جیسے رمضان اور عیدین کی تعطیلات، کے تسلسل میں ہے، جو ملک کی مذہبی اقدار کو اجاگر کرتا ہے۔

سوشل میڈیا پر ردعمل

کویت کے اس فیصلے نے سوشل میڈیا، خاص طور پر ایکس، پر زبردست پذیرائی حاصل کی ہے۔ ایک صارف نے لکھا، "کویت کی حکومت کا یہ فیصلہ قابل تحسین ہے۔ تین دن کی تعطیلات سے ہر کوئی اپنے پیارے نبیؐ کی ولادت کو بھرپور طریقے سے منا سکے گا۔” ایک اور صارف نے تبصرہ کیا، "یہ ہماری اسلامی شناخت کی طاقت ہے کہ ہم اپنے نبیؐ کے دن کو اس طرح عزت دیتے ہیں۔” کچھ صارفین نے دیگر اسلامی ممالک سے بھی اسی طرح کے اقدامات اٹھانے کی اپیل کی۔

تاہم، کچھ صارفین نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ کیا تین دن کی تعطیلات معاشی سرگرمیوں پر اثر انداز ہوں گی، خاص طور پر کویت جیسے ملک میں جہاں تیل کی معیشت پر انحصار زیادہ ہے۔ ایک صارف نے لکھا، "تعطیلات اچھی ہیں، لیکن ہمیں معاشی توازن کو بھی مدنظر رکھنا چاہیے۔”

کویت کی حکومت کا جشن میلاد النبیؐ کے موقع پر تین روزہ تعطیلات کا اعلان ایک اہم فیصلہ ہے، جو نہ صرف اس کی اسلامی شناخت کو تقویت دیتا ہے بلکہ شہریوں کے درمیان مذہبی ہم آہنگی اور اتحاد کو بھی فروغ دیتا ہے۔ یہ فیصلہ کویت کے سماجی ڈھانچے کی عکاسی کرتا ہے، جہاں مقامی اور غیر ملکی مسلم کمیونٹیز ایک ساتھ مل کر مذہبی تہوار مناتی ہیں۔ تین دن کی تعطیلات شہریوں کو نہ صرف دینی سرگرمیوں میں حصہ لینے کا موقع دیتی ہیں بلکہ خاندانی اجتماعات اور خیراتی کاموں کے لیے بھی وقت فراہم کرتی ہیں۔

پاکستان کے تناظر میں، یہ خبر اہم ہے کیونکہ پاکستان میں بھی 12 ربیع الاول کو قومی تعطیل ہوتی ہے، اور پاکستانی کمیونٹی کویت میں اس موقع پر اپنی بھرپور شرکت کرتی ہے۔ کویت کا یہ اقدام پاکستان کے لیے ایک مثال ہو سکتا ہے کہ کس طرح مذہبی تہواروں کو قومی سطح پر منایا جا سکتا ہے۔ تاہم، پاکستان جیسے ملک میں، جہاں معاشی چیلنجز زیادہ ہیں، تین روزہ تعطیلات کا فیصلہ معاشی سرگرمیوں پر اثر انداز ہو سکتا ہے، اور اسے عملی جامہ پہنانے سے پہلے مقامی حالات کو مدنظر رکھنا ہوگا۔

یہ فیصلہ ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ مذہبی اقدار اور جدید طرز زندگی کے درمیان توازن قائم کیا جا سکتا ہے۔ کویت کی حکومت نے اس اعلان سے یہ پیغام دیا ہے کہ مذہبی تہوار نہ صرف روحانی ترقی کا ذریعہ ہیں بلکہ قومی اتحاد اور سماجی ہم آہنگی کو بھی فروغ دیتے ہیں۔ تاہم، کویت کو اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ یہ تعطیلات معاشی سرگرمیوں پر منفی اثر نہ ڈالیں، خاص طور پر نجی شعبے کے لیے، جو ملکی معیشت کا اہم ستون ہے۔

یہ اقدام کویت کی اسلامی شناخت کو عالمی سطح پر اجاگر کرتا ہے اور دیگر اسلامی ممالک کے لیے ایک رہنما اصول بن سکتا ہے۔ جشن میلاد النبیؐ کی تعطیلات کا یہ اعلان نہ صرف ایک مذہبی فیصلہ ہے بلکہ ایک سماجی اور ثقافتی عہد کی عکاسی بھی کرتا ہے کہ کویت اپنے شہریوں کی روحانی ضروریات کو اولین ترجیح دیتا ہے۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین