ویرات اور روہت کی ٹیسٹ ریٹائرمنٹ پر سوال، سابق بھارتی کرکٹر کا حیران کن انکشاف

یہ دونوں کھلاڑی مزید ٹیسٹ کرکٹ کھیلنے کے خواہشمند تھے،کرسن گھاوری

کراچی: بھارتی کرکٹ کے دو عظیم ستاروں، ویرات کوہلی اور روہت شرما کی مئی 2025 میں اچانک ٹیسٹ کرکٹ سے ریٹائرمنٹ نے دنیائے کرکٹ کو حیرت میں ڈال دیا تھا۔ یہ فیصلہ آسٹریلیا کے خلاف بارڈر-گاوسکر ٹرافی میں ناقص کارکردگی کے بعد سامنے آیا تھا، لیکن سابق بھارتی کرکٹر کرسن گھاوری نے اس معاملے پر ایک چونکا دینے والا انکشاف کیا ہے۔ ان کے مطابق، یہ دونوں کھلاڑی مزید ٹیسٹ کرکٹ کھیلنے کے خواہشمند تھے، لیکن بورڈ آف کنٹرول فار کرکٹ ان انڈیا (بی سی سی آئی) کی اندرونی سیاست نے انہیں ریٹائرمنٹ پر مجبور کر دیا۔

ریٹائرمنٹ کا پس منظر

مئی 2025 میں، بھارتی کرکٹ ٹیم کے دو ستونوں، ویرات کوہلی اور روہت شرما نے ٹیسٹ کرکٹ سے اچانک کنارہ کشی کا اعلان کیا۔ روہت شرما نے 7 مئی کو انسٹاگرام اسٹوری کے ذریعے اپنے فیصلے کا اعلان کیا، جبکہ ویرات کوہلی نے 12 مئی کو ایک جذباتی سوشل میڈیا پوسٹ کے ذریعے اس کی تصدیق کی۔ اس فیصلے نے شائقین، تجزیہ کاروں، اور سابق کھلاڑیوں کو حیران کر دیا، کیونکہ دونوں کھلاڑی اپنے کیریئر کے عروج پر تھے اور انگلینڈ کے آئندہ دورے کی تیاریوں میں مصروف تھے۔

بارڈر-گاوسکر ٹرافی 2024-25 میں بھارت کی 3-1 سے شکست نے دونوں کھلاڑیوں کی کارکردگی پر سوالات اٹھائے تھے۔ ویرات کوہلی نے سیریز میں صرف ایک نصف سنچری اسکور کی، جبکہ روہت شرما کی قیادت میں ٹیم مسلسل دباؤ میں رہی۔ تاہم، کرسن گھاوری نے اس نظریے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ناقص کارکردگی محض ایک بہانہ تھی، اور اصل وجہ بی سی سی آئی کی اندرونی سیاست ہے۔

کرسن گھاوری کا انکشاف

سابق بھارتی تیز گیند باز کرسن گھاوری، جنہوں نے 1970 کی دہائی میں بھارت کے لیے 39 ٹیسٹ میچز کھیلے، نے اس معاملے پر کھل کر بات کی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ویرات کوہلی اور روہت شرما دونوں ٹیسٹ کرکٹ میں اپنا سفر جاری رکھنا چاہتے تھے۔ گھاوری کے مطابق، ویرات کوہلی کم از کم مزید دو سال بھارت کے لیے ٹیسٹ کرکٹ کھیل سکتے تھے، لیکن سلیکشن کمیٹی اور بی سی سی آئی کے بعض فیصلوں نے انہیں اس فیصلے پر مجبور کیا۔

انہوں نے کہا کہ یہ انتہائی افسوسناک ہے کہ دونوں کھلاڑیوں کو ان کے شاندار کیریئر کے اختتام پر ایک مناسب الوداعی میچ تک نہ دیا گیا۔ گھاوری نے بی سی سی آئی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایسی عظیم شخصیات، جنہوں نے بھارتی کرکٹ کو نئی بلندیوں تک پہنچایا، کے ساتھ اس طرح کا سلوک ناقابل قبول ہے۔ انہوں نے اسے بی سی سی آئی اور سلیکشن کمیٹی کی "چھوٹی موٹی سیاست” کا نتیجہ قرار دیا، جو کھلاڑیوں کی مرضی کے خلاف انہیں کھیل سے الگ کرنے کا باعث بنی۔

گھاوری نے مزید کہا کہ بی سی سی آئی کے چیف سلیکٹر اجیت اگارکرکر کی قیادت میں سلیکشن کمیٹی نے نئے کھلاڑیوں کو موقع دینے کے نام پر دونوں کھلاڑیوں پر دباؤ ڈالا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر کارکردگی ہی بنیاد تھی، تو دونوں کھلاڑیوں کو مناسب موقع کیوں نہ دیا گیا؟

ویرات اور روہت کا شاندار کیریئر

ویرات کوہلی اور روہت شرما بھارتی کرکٹ کے دو عظیم ستارے ہیں، جنہوں نے اپنے کیریئر میں ناقابل فراموش کارنامے انجام دیے۔ ویرات کوہلی نے 123 ٹیسٹ میچز میں 30 سنچریوں اور 31 نصف سنچریوں کے ساتھ 9,230 رنز بنائے، جبکہ روہت شرما نے 68 ٹیسٹ میچز میں 12 سنچریوں اور 17 نصف سنچریوں کے ساتھ 4,301 رنز اسکور کیے۔ ون ڈے انٹرنیشنل میں ویرات کے 302 میچز میں 14,181 رنز (57.88 کی اوسط سے، 51 سنچریاں) اور روہت کے 272 میچز میں 11,168 رنز (48.76 کی اوسط سے، 32 سنچریاں) ان کی عظمت کی گواہی دیتے ہیں۔

دونوں کھلاڑیوں نے بھارت کو متعدد تاریخی فتوحات دلائیں، جن میں آسٹریلیا میں ٹیسٹ سیریز جیت اور 2024 کا ٹی20 ورلڈ کپ شامل ہیں۔ لیکن گھاوری کا کہنا ہے کہ ان کے کیریئر کا اختتام ان کی صلاحیتوں اور خدمات کے شایانِ شان نہیں تھا۔

ون ڈے کرکٹ سے بھی ممکنہ کنارہ کشی

کرسن گھاوری کے انکشاف کے ساتھ ہی یہ اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں کہ ویرات کوہلی اور روہت شرما جلد ون ڈے انٹرنیشنل کرکٹ سے بھی ریٹائرمنٹ لے سکتے ہیں۔ اگر یہ درست ہوا تو دونوں کھلاڑی 2027 کے ون ڈے ورلڈ کپ میں حصہ نہیں لے سکیں گے، جو ان کے مداحوں کے لیے ایک بڑا صدمہ ہوگا۔ اطلاعات کے مطابق، بی سی سی آئی نے دونوں کھلاڑیوں کے ساتھ ان کے مستقبل کے منصوبوں پر بات چیت کی ہے، لیکن حتمی فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا۔

متضاد بیانات

جہاں کرسن گھاوری نے بی سی سی آئی کی اندرونی سیاست کو ریٹائرمنٹ کی وجہ قرار دیا، وہیں سابق بھارتی کوچ روی شاستری نے ایک مختلف مؤقف پیش کیا۔ شاستری نے دعویٰ کیا کہ ویرات کوہلی نے اپنی خاندانی زندگی کو ترجیح دینے کے لیے ٹیسٹ کرکٹ سے کنارہ کشی کی، خاص طور پر اپنی بیٹی وامیکا اور بیٹے اکائے کے ساتھ وقت گزارنے کے لیے۔ تاہم، شاستری نے بھی بی سی سی آئی کی جانب سے کوہلی کو الوداعی میچ نہ دینے پر مایوسی کا اظہار کیا۔

یہ متضاد بیانات اس معاملے کی پیچیدگی کو ظاہر کرتے ہیں۔ ایک طرف بی سی سی آئی کی اندرونی سیاست کا الزام ہے، تو دوسری طرف کوہلی کے ذاتی فیصلے کی بات کی جا رہی ہے۔ تاہم، روہت شرما کے بارے میں شاستری نے کوئی خاص تبصرہ نہیں کیا، جس سے گھاوری کے مؤقف کو تقویت ملتی ہے۔

سوشل میڈیا پر ردعمل

ایکس پر شائقین نے اس انکشاف پر ملے جلے ردعمل دیے ہیں۔ ایک صارف نے لکھا، "بی سی سی آئی نے کوہلی اور روہت جیسے عظیم کھلاڑیوں کے ساتھ ناانصافی کی۔ انہیں کم از کم ایک شاندار الوداع ملنا چاہیے تھا۔” ایک اور صارف نے کہا، "یہ اندرونی سیاست بھارتی کرکٹ کو تباہ کر دے گی۔ نئے کھلاڑیوں کو موقع دینا اچھا ہے، لیکن اس طرح لیجنڈز کی بے عزتی ناقابل قبول ہے۔” کچھ مداحوں نے شاستری کے بیان کی حمایت کی، لیکن زیادہ تر گھاوری کے انکشاف سے متفق نظر آئے۔

کرسن گھاوری کا انکشاف بھارتی کرکٹ کے انتظامی ڈھانچے میں شفافیت کی کمی کو اجاگر کرتا ہے۔ ویرات کوہلی اور روہت شرما جیسے کھلاڑی، جنہوں نے بھارتی کرکٹ کو عالمی سطح پر ایک نئی شناخت دی، کے ساتھ اس طرح کا سلوک نہ صرف شائقین کے لیے صدمے کا باعث ہے بلکہ بی سی سی آئی کی ساکھ کو بھی دھچکا لگاتا ہے۔ اگر گھاوری کا دعویٰ درست ہے کہ دونوں کھلاڑیوں کو ریٹائرمنٹ پر مجبور کیا گیا، تو یہ بی سی سی آئی کے اندرونی فیصلہ سازی کے عمل پر سنگین سوالات اٹھاتا ہے۔

بی سی سی آئی کی جانب سے الوداعی میچ نہ دینا ایک ایسی غلطی ہے جو شائقین کو طویل عرصے تک یاد رہے گی۔ دنیا بھر میں عظیم کھلاڑیوں کو ان کے کیریئر کے اختتام پر شاندار خراج تحسین پیش کیا جاتا ہے، جیسے کہ سچن ٹنڈولکر اور راہول ڈریوڈ کے ساتھ کیا گیا۔ کوہلی اور روہت، جو اپنی نسل کے عظیم کھلاڑی ہیں، کے ساتھ اس طرح کا سلوک غیر منصفانہ ہے۔

تاہم، روی شاستری کا بیان بھی کچھ حد تک قابل غور ہے۔ ویرات کوہلی کی عمر 36 سال اور روہت شرما کی 38 سال ہے، اور دونوں کھلاڑی طویل عرصے سے مسلسل کرکٹ کھیل رہے ہیں۔ خاندانی ذمہ داریوں اور ذاتی ترجیحات بھی فیصلے میں کردار ادا کر سکتی ہیں۔ لیکن گھاوری کے انکشاف کی روشنی میں، یہ امکان زیادہ ہے کہ بی سی سی آئی کا دباؤ فیصلہ کن ثابت ہوا۔

ون ڈے کرکٹ سے ممکنہ ریٹائرمنٹ کی افواہوں نے شائقین کے خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے۔ اگر یہ دونوں کھلاڑی 2027 کے ورلڈ کپ سے قبل ون ڈے کرکٹ سے کنارہ کش ہو جاتے ہیں، تو یہ بھارتی کرکٹ کے لیے ایک بڑا خلا ہوگا۔ بی سی سی آئی کو چاہیے کہ وہ اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے شفاف پالیسی اپنائے اور کھلاڑیوں کے ساتھ کھل کر بات چیت کرے۔

یہ واقعہ بھارتی کرکٹ کے مستقبل کے لیے ایک سبق ہے کہ عظیم کھلاڑیوں کی قدر کی جائے اور ان کے کیریئر کے اختتام کو شایانِ شان بنایا جائے۔ بی سی سی آئی کو اپنی پالیسیوں پر نظرثانی کرنی چاہیے تاکہ مستقبل میں ایسی تنقید سے بچا جا سکے۔ یہ انکشاف نہ صرف بھارتی کرکٹ بورڈ کے انتظامی ڈھانچے پر سوال اٹھاتا ہے بلکہ اس بات کی بھی نشاندہی کرتا ہے کہ کھیل کی سیاست کس طرح کھلاڑیوں کے کیریئر کو متاثر کر سکتی ہے۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین