پنڈلیوں کی تکلیف ایک عام طبی مسئلہ ہے جو دنیا بھر میں لاکھوں افراد کو متاثر کرتا ہے۔ یہ تکلیف اکثر روزمرہ کی سرگرمیوں، جیسے کہ چلنا، دوڑنا، یا طویل عرصے تک بیٹھنا، سے وابستہ ہوتی ہے۔حالیہ برسوں میں، طرز زندگی میں تبدیلیوں، جیسے کہ کم جسمانی سرگرمی، غیر مناسب غذائیت، یا زیادہ دباؤ والی سرگرمیوں نے اس مسئلے کو مزید بڑھاوا دیا ہے۔ اس کے علاوہ، موسمیاتی تبدیلیوں اور گرم موسم میں پانی کی کمی جیسے عوامل بھی پنڈلیوں کی تکلیف کو بڑھاتے ہیں،ٹانگیں ہمارے جسم کا ایک اہم حصہ ہیں جو روزمرہ کی سرگرمیوں میں مسلسل استعمال ہوتی ہیں۔ خاص طور پر پنڈلی، جو چلنے اور دوڑنے کے لیے کلیدی کردار ادا کرتی ہے، اکثر تکلیف کا شکار ہوتی ہے۔ دنیا بھر میں کروڑوں افراد کو پنڈلیوں کی تکلیف کا سامنا ہوتا ہے، اور اس کی متعدد وجوہات ہو سکتی ہیں۔ ذیل میں ان اہم عوامل کا جائزہ لیا گیا ہے جو پنڈلیوں کی تکلیف کا باعث بنتے ہیں۔
مسلز کا اکڑ جانا
جب پنڈلی کے پٹھوں پر ضرورت سے زیادہ دباؤ پڑتا ہے یا وہ زیادہ استعمال ہوتے ہیں، تو اچانک تکلیف کا سامنا ہو سکتا ہے۔ اگر پنڈلی کو ایک ہی پوزیشن میں طویل عرصے تک رکھا جائے یا زیادہ دیر تک بیٹھا جائے، تو پٹھے اکڑ سکتے ہیں، جس سے تکلیف ہوتی ہے۔
پٹھوں پر ضرورت سے زیادہ دباؤ
روزمرہ کی سرگرمیوں جیسے کہ دوڑنا یا طویل چہل قدمی پنڈلی کے پٹھوں پر دباؤ بڑھاتی ہے، جس سے تکلیف کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ اس دباؤ کی وجہ سے پٹھوں میں تناؤ پیدا ہوتا ہے، جو درد کا سبب بنتا ہے۔
چارلی ہارس: اچانک شدید تکلیف
چارلی ہارس ایک ایسی حالت ہے جس میں پنڈلی کے پٹھوں میں اچانک شدید درد اور اکڑاؤ ہوتا ہے۔ یہ تکلیف چند سیکنڈ سے چند منٹ تک رہتی ہے، لیکن متاثرہ پٹھے کئی گھنٹوں تک تکلیف دہ رہ سکتے ہیں۔ یہ عارضہ عام طور پر رات کے وقت یا طویل عرصے تک ایک جگہ بیٹھنے سے ہوتا ہے۔ اس کی وجوہات میں خون کی گردش کے مسائل، پٹھوں پر زیادہ دباؤ، گرم موسم میں زیادہ جسمانی سرگرمی، پانی کی کمی، میگنیشم یا پوٹاشیم کی کمی، ریڑھ کی ہڈی کی چوٹ، یا گردوں کے امراض شامل ہیں۔
ایڑی کے پٹھوں کے مسائل
پنڈلی کے پٹھوں کو ایڑی سے جوڑنے والا پٹھا Achilles tendonitis کہلاتا ہے، جو ورم یا چوٹ کا شکار ہو سکتا ہے۔ اس پٹھے میں سوجن یا انجری سے نہ صرف ایڑی بلکہ پنڈلی میں بھی شدید تکلیف ہوتی ہے۔
گھٹنوں میں پانی کا جمع ہونا
گھٹنوں کے اندر موجود سیال چلنے پھرنے میں مدد دیتا ہے، لیکن چوٹ یا جوڑوں کی تکلیف کے باعث گھٹنوں کی پشت پر زیادہ سیال جمع ہو سکتا ہے، جسے Baker’s cyst کہا جاتا ہے۔ اس سے سوجن، سرخی، اور پنڈلیوں میں شدید درد ہوتا ہے، جو پنڈلی تک پھیل جاتا ہے۔
عرق النسا یا شیاٹکا
شیاٹک نرو یا نسا جسم کی سب سے بڑی رگ ہے، جو کمر کے نچلے حصے سے شروع ہو کر ٹخنوں تک جاتی ہے۔ اس رگ میں تکلیف کو عرق النسا کہتے ہیں، جو پنڈلیوں میں درد کا باعث بنتی ہے، خاص طور پر کھڑے ہونے یا چلنے کے دوران یہ تکلیف بڑھ جاتی ہے۔
خون کی گردش میں مسائل
پنڈلیوں کی تکلیف بعض اوقات ٹانگوں کے نچلے حصے میں خون کے بہاؤ میں کمی کی وجہ سے بھی ہوتی ہے۔ خون کی گردش کے مسائل والے افراد میں یہ تکلیف جسمانی سرگرمی کے دوران زیادہ شدید ہو جاتی ہے۔
ہڈیوں کا انفیکشن
اگرچہ یہ عام نہیں، لیکن بعض اوقات جراثیم ہڈیوں تک پہنچ کر انفیکشن کا باعث بنتے ہیں۔ جب یہ انفیکشن ٹانگوں کے نچلے حصے میں ہوتا ہے، تو پنڈلیوں میں سوجن، گرمی، بخار، اور تھکاوٹ جیسی علامات سامنے آتی ہیں۔
رگوں کا پھول جانا
طویل عرصے تک کھڑے رہنے یا چلنے سے پنڈلیوں کی رگیں پھول سکتی ہیں، جو تکلیف، جلن، یا خارش کا باعث بنتی ہیں۔ اس سے پنڈلیوں میں درد کے ساتھ دیگر مسائل بھی پیدا ہو سکتے ہیں۔
نوٹ
یہ تحریر طبی جریدوں کی معلومات پر مبنی ہے۔ پنڈلیوں کی تکلیف کی صورت میں اپنے معالج سے مشورہ ضرور کریں۔





















