یاسر حسین کی نوجوانوں کو شادی آسان اور سادہ بنانے کیلئے بہترین تجاویز

میرے کچھ دوستوں کی شادی قریب ہے، وہ اخراجات کی وجہ سے پریشان ہیں اور ان کے چہروں پر خوشی کی بجائے فکر کی لکیریں ہیں

اداکار اور میزبان یاسر حسین نے عام لوگوں اور نوجوان نسل سے شادیوں کو آسان کرنے کی اپیل کی ہے۔

تقریبات کی پیچیدگیوں سے خبردار

ایک تازہ پروگرام میں یاسر حسین نے کہا کہ ہم نے تقریبات کو بڑھا کر شادیوں کو ایک مشکل کام بنا دیا ہے، ہمیں انہیں آسان بنانا چاہیے۔

سادہ نکاح اور ولیمے کی تجویز

انہوں نے کہا کہ قریبی رشتہ داروں اور دوستوں کی موجودگی میں نکاح کریں اور پھر ولیمے کا کھانا کھلا دیں، شادی کو بس اتنا ہی آسان ہونا چاہیے۔ یاسر نے اپنے دوستوں کی مثال دیتے ہوئے بتایا کہ ان کے کچھ دوست جن کی شادی قریب ہے، وہ اخراجات کی وجہ سے پریشان ہیں اور ان کے چہروں پر خوشی کی بجائے فکر کی لکیریں ہیں۔

غیر ضروری تقریبات سے گریز

ان کا کہنا تھا کہ 5 سے 6 تقریبات کے جھمیلے میں نہیں پڑنا چاہیے، یہ ایک ظلم ہے۔ اس موقع پر فیصل قریشی نے کہا کہ آج کل ایک عام شادی بھی 50 لاکھ روپے میں ہو رہی ہے۔

بہتر استعمال کی تجاویز

اس پر یاسر حسین نے کہا کہ اتنی رقم سے تو کوئی اچھا کاروبار شروع کیا جا سکتا ہے یا پھر ایک اپارٹمنٹ خریدا جا سکتا ہے۔

پس منظر

یاسر حسین ایک مشہور پاکستانی اداکار، میزبان اور فلم ساز ہیں جو ڈراموں، فلموں اور ٹاک شوز میں اپنی اداکاری اور مزاح کے لیے جانے جاتے ہیں۔ ان کی شادی اداکارہ اقرا عزیز سے 2019 میں ہوئی تھی جو خود ایک سادہ اور بجٹ دوست تقریب تھی، جسے میڈیا میں بہت سراہا گیا۔ حالیہ دنوں میں یاسر حسین نے متعدد ٹاک شوز اور انٹرویوز میں شادیوں کو سادہ بنانے کی بات کی ہے، جیسا کہ ایک حالیہ پروگرام کے خصوصی ایپی سوڈ میں جہاں انہوں نے یہ اپیل کی۔ یہ بیان پاکستانی معاشرے میں بڑھتے ہوئے شادیوں کے اخراجات کے تناظر میں دیا گیا ہے، جہاں روایتی تقریبات جیسے مایوں، مہندی اور بارات کی وجہ سے نوجوانوں پر مالی بوجھ بڑھ رہا ہے۔ فیصل قریشی، جو ایک تجربہ کار ٹی وی ہوسٹ اور اداکار ہیں، اس پروگرام میں شریک تھے اور انہوں نے شادیوں کے موجودہ اخراجات کی حقیقت بیان کی۔ یہ بحث معاشرتی دباؤ اور اقتصادی مسائل کو اجاگر کرتی ہے جو نوجوانوں کو شادی سے روکتے ہیں۔ یاسر حسین کی یہ اپیل ان کی ذاتی زندگی سے متاثر ہے، جہاں انہوں نے خود سادہ شادی کی اور اب دوسروں کو بھی اس کی ترغیب دے رہے ہیں۔

 تجزیہ

یاسر حسین کی یہ اپیل ایک بہت ہی مثبت اور عملی پیغام ہے جو پاکستانی معاشرے میں شادیوں کی پیچیدگیوں کو کم کرنے کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ سب سے پہلے، یہ نوجوان نسل کو مالی تناؤ سے بچاتا ہے، کیونکہ شادیوں کے بڑھتے اخراجات کی وجہ سے بہت سے لوگ شادی کی خوشیوں کی بجائے قرضوں اور پریشانیوں میں گھر جاتے ہیں۔ یاسر کی تجویز کہ صرف نکاح اور ولیمہ پر توجہ دی جائے، اسلامی روایات سے مطابقت رکھتی ہے جو سادگی کو ترجیح دیتی ہیں، اور یہ معاشرتی دکھاوے کو کم کر کے حقیقی خوشیوں کو فروغ دیتی ہے۔ مثال کے طور پر، ان کے دوستوں کی کہانی سے ظاہر ہوتا ہے کہ اخراجات کی فکر خوشیوں کو چھین لیتی ہے، جبکہ سادہ شادی سے لوگ اپنی زندگی کی بنیاد مضبوط کر سکتے ہیں۔ فیصل قریشی کی بات کہ ایک عام شادی 50 لاکھ روپے میں ہوتی ہے، اسے یاسر نے ایک اچھے کاروبار یا اپارٹمنٹ کی خریداری سے جوڑا، جو ایک دانشمندانہ مشورہ ہے۔ یہ نہ صرف مالی آزادی کو فروغ دیتا ہے بلکہ معاشرے میں برابری کو بھی بڑھاتا ہے، کیونکہ امیر اور غریب دونوں اسے اپنا سکتے ہیں۔ مجموعی طور پر، یہ پیغام نوجوانوں کو بااختیار بناتا ہے، خاندانی تعلقات کو مضبوط کرتا ہے اور غیر ضروری روایات سے نجات دلاتا ہے، جو ایک صحت مند اور خوشحال معاشرے کی بنیاد رکھ سکتا ہے۔ اگر یہ اپیل قبول کی جائے تو یہ شادیوں کو ایک خوشگوار موقع بنا دے گی نہ کہ ایک بوجھ، اور یہ معاشی مسائل کو کم کر کے خاندانوں کی خوشحالی میں اضافہ کرے گی۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین