پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حکومت کا بڑے ریلیف کااعلان

نئی قیمتوں کا اطلاق 16 اگست سے شروع ہو کر 31 اگست 2025 تک جاری رہے گا

اسلام آباد: وفاقی حکومت نے عوام کو بڑھتی ہوئی مہنگائی سے کچھ ریلیف فراہم کرنے کے لیے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں خاطر خواہ کمی کا فیصلہ کیا ہے۔ وزارت خزانہ کی جانب سے جاری کردہ ایک نوٹیفکیشن کے مطابق، ہائی اسپیڈ ڈیزل، مٹی کا تیل، اور لائٹ ڈیزل آئل کی قیمتوں میں نمایاں کمی کی گئی ہے، جبکہ پیٹرول کی قیمت کو موجودہ سطح پر برقرار رکھا گیا ہے۔ یہ نئی قیمتیں 16 اگست 2025 سے اگلے 15 دنوں کے لیے نافذ العمل ہوں گی۔ یہ فیصلہ عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں کمی اور اوگرا کی تجاویز کی روشنی میں کیا گیا ہے

قیمتوں میں ردوبدل کی تفصیلات

وزارت خزانہ کے نوٹیفکیشن کے مطابق، پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردوبدل کا فیصلہ اوگرا اور متعلقہ وزارتوں کی سفارشات کے بعد کیا گیا۔ نئی قیمتوں کا اطلاق 16 اگست سے شروع ہو کر 31 اگست 2025 تک جاری رہے گا۔ نوٹیفکیشن میں درج ذیل اہم تبدیلیوں کا اعلان کیا گیا:

ہائی اسپیڈ ڈیزل (HSD): ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 12 روپے 84 پیسے فی لیٹر کی نمایاں کمی کی گئی ہے۔ اب اس کی نئی قیمت 272 روپے 99 پیسے فی لیٹر ہوگی، جو پہلے 285 روپے 83 پیسے فی لیٹر تھی۔

پیٹرول: حکومت نے پیٹرول کی قیمت میں کوئی تبدیلی نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے، اور یہ 264 روپے 61 پیسے فی لیٹر پر برقرار رہے گی۔

مٹی کا تیل: مٹی کے تیل کی قیمت میں 7 روپے 19 پیسے فی لیٹر کی کمی کی گئی ہے، جس کے بعد اس کی نئی قیمت 178 روپے 27 پیسے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے۔ اس سے قبل اس کی قیمت 185 روپے 46 پیسے فی لیٹر تھی۔

لائٹ ڈیزل آئل (LDO): لائٹ ڈیزل آئل کی قیمت میں 8 روپے 20 پیسے فی لیٹر کی کمی کی گئی ہے۔ اب اس کی قیمت 170 روپے 36 پیسے سے کم ہو کر 162 روپے 37 پیسے فی لیٹر ہوگی۔

یہ نئی قیمتیں رات 12 بجے سے نافذ العمل ہوگئی ہیں، اور عوام کو اگلے 15 دنوں تک اس ریلیف سے استفادہ حاصل ہوگا۔

فیصلے کا پس منظر

حکومت کا یہ فیصلہ عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں حالیہ کمی کے تناظر میں کیا گیا ہے۔ عالمی توانائی ایجنسی کے مطابق، خام تیل کے فیوچرز دو ماہ کی کم ترین سطح 62.7 ڈالر فی بیرل تک گر گئے ہیں، جبکہ ڈیزل کی قیمتوں میں بھی تقریباً 4.5 ڈالر فی بیرل کی کمی دیکھی گئی ہے۔ اس کے علاوہ، روس سے رعایتی نرخوں پر تیل کی درآمد نے بھی پاکستان کو قیمتوں میں کمی کا موقع فراہم کیا ہے۔

اوگرا نے عالمی مارکیٹ کے رجحانات اور مقامی معاشی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے وزارت خزانہ کو اپنی سفارشات پیش کیں، جن کی بنیاد پر یہ فیصلہ کیا گیا۔ وزارت خزانہ نے اس فیصلے کو عوام کے لیے ایک بڑا ریلیف قرار دیا ہے، خاص طور پر ہائی اسپیڈ ڈیزل اور مٹی کے تیل کی قیمتوں میں کمی سے ٹرانسپورٹ اور زرعی شعبوں کو فائدہ پہنچے گا۔

متوقع اثرات

ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں کمی کا براہ راست اثر ٹرانسپورٹ کے شعبے پر پڑے گا، کیونکہ یہ پاکستان میں بھاری گاڑیوں، بسوں، اور صنعتی مشینری کے لیے بنیادی ایندھن ہے۔ اس سے ٹرانسپورٹ کے کرایوں اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں ممکنہ طور پر کچھ کمی متوقع ہے۔ مٹی کے تیل کی قیمتوں میں کمی سے دیہی علاقوں میں رہنے والے افراد، جو اسے ایندھن اور روشنی کے لیے استعمال کرتے ہیں، کو بھی فائدہ ہوگا۔ لائٹ ڈیزل آئل، جو بنیادی طور پر صنعتی اور زرعی مقاصد کے لیے استعمال ہوتا ہے، کی قیمت میں کمی سے کسانوں اور چھوٹے کاروباری اداروں کو مالی ریلیف ملے گا۔

تاہم، پیٹرول کی قیمت کو برقرار رکھنے کا فیصلہ کچھ حلقوں کے لیے مایوسی کا باعث بن سکتا ہے، کیونکہ عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کی خبروں کے باوجود اسے کم کرنے کی توقع کی جا رہی تھی۔

سوشل میڈیا پر ردعمل

ایکس پر صارفین نے اس فیصلے پر ملے جلے ردعمل دیے ہیں۔ ایک صارف نے لکھا، "ڈیزل اور مٹی کے تیل کی قیمتوں میں کمی ایک اچھا قدم ہے، لیکن پیٹرول کی قیمت کم ہوتی تو عوام کو زیادہ ریلیف ملتا۔” ایک اور صارف نے کہا، "حکومت کو چاہیے کہ وہ عالمی مارکیٹ کے فوائد مکمل طور پر عوام تک منتقل کرے۔” کچھ صارفین نے اس فیصلے کی تعریف کی، خاص طور پر ٹرانسپورٹ اور زرعی شعبوں کے لیے اس کے ممکنہ فوائد کی وجہ سے۔

عالمی مارکیٹ کا کردار

عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں حالیہ کمی اس فیصلے کی بنیادی وجہ ہے۔ خام تیل کی قیمتوں میں 2 ماہ کی کم ترین سطح تک کمی نے پاکستان جیسے تیل درآمد کرنے والے ممالک کے لیے مالی دباؤ کو کم کیا ہے۔ اس کے علاوہ، روس سے رعایتی تیل کی درآمد نے بھی قیمتوں کو کنٹرول کرنے میں مدد کی ہے۔ تاہم، کچھ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ جاری رہ سکتا ہے، اور اگلے چند ہفتوں میں قیمتوں میں اضافے کا امکان بھی موجود ہے۔

حکومتی اقدامات اور مستقبل کی توقعات

وزارت خزانہ نے اس فیصلے کو عوام دوست قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت مہنگائی کو کنٹرول کرنے اور عوام کو ریلیف دینے کے لیے پرعزم ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے اس فیصلے کی حتمی منظوری دی، اور اوگرا کو ہدایت کی گئی کہ وہ عالمی مارکیٹ کے رجحانات کی مسلسل نگرانی کرے۔ اگلے 15 دنوں میں عالمی مارکیٹ کی صورتحال کے مطابق قیمتوں کا دوبارہ جائزہ لیا جائے گا۔

وفاقی حکومت کا پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا فیصلہ موجودہ معاشی حالات میں عوام کے لیے ایک خوش آئند قدم ہے۔ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 12 روپے 84 پیسے کی کمی سے ٹرانسپورٹ اور صنعتی شعبوں کو خاطر خواہ فائدہ ہوگا، جو بالآخر اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کو مستحکم کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔ مٹی کے تیل اور لائٹ ڈیزل آئل کی قیمتوں میں کمی سے دیہی علاقوں اور زرعی شعبوں کو بھی ریلیف ملے گا، جو پاکستان کی معیشت کا اہم حصہ ہیں۔

تاہم، پیٹرول کی قیمت کو برقرار رکھنے کا فیصلہ کچھ حد تک مایوس کن ہے، کیونکہ شہری علاقوں میں پیٹرول کا استعمال زیادہ ہے، اور اس کی قیمتوں میں کمی سے عام شہریوں کو براہ راست فائدہ ہو سکتا تھا۔ عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کی خبروں کے باوجود پیٹرول کی قیمت کو مستحکم رکھنا ایک متوازن فیصلہ ہے، لیکن اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت عالمی مارکیٹ کے اتار چڑھاؤ سے محتاط ہے۔

یہ فیصلہ معاشی طور پر مثبت اثرات مرتب کر سکتا ہے، لیکن اس کے فوائد کا انحصار اس بات پر ہے کہ یہ کمی کس حد تک صارفین تک منتقل ہوتی ہے۔ ٹرانسپورٹ کمپنیوں اور تاجروں کو چاہیے کہ وہ اس ریلیف کو کرایوں اور اشیاء کی قیمتوں میں کمی کے ذریعے عوام تک پہنچائیں۔ اس کے علاوہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں کی غیر یقینی صورتحال کے پیش نظر، حکومت کو ایک طویل مدتی توانائی پالیسی پر کام کرنا چاہیے، جس میں متبادل ایندھن اور توانائی کے ذرائع کو فروغ دیا جائے۔

یہ فیصلہ موجودہ حالات میں ایک مثبت پیش رفت ہے، لیکن اس کے اثرات کو زیادہ سے زیادہ کرنے کے لیے حکومتی اداروں کو نگرانی کو مضبوط کرنا ہوگا۔ اگر عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں دوبارہ بڑھتی ہیں، تو حکومت کو عوام پر بوجھ کم کرنے کے لیے اضافی اقدامات پر غور کرنا چاہیے، جیسے کہ ایندھن پر ٹیکسز میں کمی یا سبسڈی کی فراہمی۔ یہ قدم نہ صرف معاشی استحکام کو فروغ دے گا بلکہ عوام کا اعتماد بھی بحال کرے گا۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین