اسلام آباد، راولپنڈی، پشاور اور خیبرپختونخوا کے کئی شہروں میں زلزلے کے جھٹکے

زلزلہ مقامی وقت کے مطابق صبح 10:46 بجے آیا اور اس کی شدت 5.2 ریکٹر اسکیل پر ناپی گئی

اسلام آباد: وفاقی دارالحکومت اسلام آباد، راولپنڈی، پشاور اور خیبرپختونخوا کے متعدد شہروں میں منگل کی صبح زلزلے کے جھٹکوں نے رہائشیوں کو خوفزدہ کر دیا۔ نیشنل سیسمک مانیٹرنگ سینٹر (NSMC) کے مطابق، زلزلے کی شدت 5.2 ریکٹر اسکیل پر ریکارڈ کی گئی، جبکہ اس کا مرکز افغانستان کے ہندوکش ریجن میں 190 کلومیٹر کی گہرائی میں تھا۔ جھٹکوں کے نتیجے میں لوگ کلمہ طیبہ پڑھتے ہوئے گھروں اور دفتروں سے باہر نکل آئے، لیکن خوش قسمتی سے فوری طور پر کسی جانی یا مالی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔ 

زلزلے کی شدت اور مرکز

نیشنل سیسمک مانیٹرنگ سینٹر کے مطابق، زلزلہ مقامی وقت کے مطابق صبح 10:46 بجے آیا اور اس کی شدت 5.2 ریکٹر اسکیل پر ناپی گئی۔ زلزلے کا مرکز ہندوکش کے پہاڑی سلسلے میں، افغانستان کے شہر جرم سے تقریباً 40 کلومیٹر جنوب-جنوب مشرق میں واقع تھا۔ اس کی 190 کلومیٹر کی گہرائی کی وجہ سے جھٹکوں کی شدت زمین کی سطح پر نسبتاً کم تھی، لیکن اس کے باوجود یہ پاکستان کے کئی شہروں، بشمول اسلام آباد، راولپنڈی، پشاور، ایبٹ آباد، سوات، چترال، چارسدہ، خان پور، ہری پور، اور بٹگرام میں واضح طور پر محسوس کیے گئے۔

ہندوکش ریجن، جو ہندوکش کے پہاڑی سلسلے پر واقع ہے، زلزلوں کا ایک فعال علاقہ ہے، جہاں ہندوستانی اور یوریشین ٹیکٹونک پلیٹوں کے تصادم کی وجہ سے بار بار زلزلے آتے ہیں۔ اس زلزلے کی گہرائی نے اسے نسبتاً کم تباہ کن بنایا، کیونکہ گہرے زلزلے زمین کی سطح پر کم نقصان پہنچاتے ہیں۔

متاثرہ علاقوں کا جائزہ

زلزلے کے جھٹکوں نے خیبرپختونخوا کے کئی اضلاع کو متاثر کیا، جن میں پشاور، ایبٹ آباد، سوات، چترال، چارسدہ، ہری پور، بٹگرام، مانسہرہ، مردان، سوابی، اور دیگر شامل ہیں۔ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد اور اس سے ملحقہ شہر راولپنڈی میں بھی رہائشیوں نے زلزلے کی شدت کو محسوس کیا۔ مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق، پنجاب کے کچھ شہروں جیسے کہ گوجرانوالہ، سرگودھا، اور عطاگ میں بھی ہلکی جھٹکوں کی اطلاعات موصول ہوئیں۔

اسلام آباد کی رہائشی، 38 سالہ صبا خان نے بتایا کہ وہ اپنے دفتر میں کام کر رہی تھیں جب اچانک دیواریں ہلنے لگیں۔ "پہلے تو ہلکا سا جھٹکا لگا، پھر شدت بڑھ گئی۔ ہم سب کلمہ پڑھتے ہوئے باہر بھاگے۔ چند سیکنڈز بعد سب کچھ پرسکون ہو گیا، لیکن خوف ابھی تک باقی ہے،” انہوں نے کہا۔ پشاور کے ایک دکاندار، اسد اللہ نے بتایا کہ زلزلے کے وقت ان کی دکان کے شیلف ہل رہے تھے، اور وہ فوری طور پر دکان سے باہر نکل آئے۔

عوامی ردعمل اور حفاظتی اقدامات

زلزلے کے جھٹکوں نے رہائشیوں میں خوف و ہراس پھیلا دیا، اور بہت سے لوگ کلمہ طیبہ اور دیگر دعائیں پڑھتے ہوئے اپنے گھروں، دفتروں، اور دکانوں سے باہر نکل آئے۔ خاص طور پر بلند عمارتوں میں موجود افراد نے فوری طور پر عمارات خالی کیں۔ واٹس ایپ اور ایکس پر صارفین نے اپنے تجربات شیئر کیے، جہاں ایک صارف نے لکھا، "یہ جھٹکے کافی شدید تھے، لیکن الحمدللہ کوئی نقصان نہیں ہوا۔ ہمیں ہر وقت تیار رہنا چاہیے۔”

نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (NDMA) نے فوری طور پر تمام متاثرہ علاقوں میں امدادی ٹیموں کو چوکس رہنے کی ہدایت کی۔ NDMA کے ایک ترجمان نے بتایا کہ ابتدائی رپورٹس کے مطابق کسی جانی یا مالی نقصان کی اطلاع نہیں ملی، لیکن ٹیمیں ہائی الرٹ پر ہیں۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ زلزلے کے دوران پرسکون رہیں اور کھلے مقامات پر منتقل ہوں۔

پاکستان اور ہندوکش ریجن کی زلزلیاتی تاریخ

پاکستان، جو ہندوستانی اور یوریشین ٹیکٹونک پلیٹوں کے سنگم پر واقع ہے، زلزلوں کا ایک انتہائی فعال علاقہ ہے۔ خیبرپختونخوا، گلگت بلتستان، اور آزاد جموں و کشمیر جیسے علاقے خاص طور پر زلزلوں کے خطرے سے دوچار ہیں۔ ہندوکش ریجن میں گہرے زلزلے اکثر آتے ہیں، جو پاکستان، افغانستان، اور شمالی بھارت میں محسوس کیے جاتے ہیں۔ حالیہ برسوں میں، اس علاقے میں متعدد زلزلے ریکارڈ کیے گئے ہیں، جن میں سے کچھ نے بڑے پیمانے پر تباہی مچائی۔ مثال کے طور پر، 21 مارچ 2023 کو ہندوکش ریجن میں 6.5 شدت کا زلزلہ آیا، جس کے نتیجے میں پاکستان میں 11 افراد ہلاک اور 343 زخمی ہوئے تھے، جبکہ افغانستان میں 10 افراد کی ہلاکت کی اطلاعات موصول ہوئی تھیں۔

اسی طرح، 31 جنوری 2018 کو 6.1 شدت کا زلزلہ ہندوکش ریجن میں آیا، جس کے جھٹکے اسلام آباد، راولپنڈی، پشاور، اور پنجاب کے کئی شہروں میں محسوس کیے گئے، لیکن کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔ اس کے علاوہ، 3 اگست 2025 کو 5.4 شدت کا ایک زلزلہ ہندوکش ریجن سے آیا، جس نے خیبرپختونخوا اور پنجاب کے شہروں کو ہلایا، لیکن کوئی نقصان رپورٹ نہیں ہوا۔

زلزلے کے اثرات اور حفاظتی تدابیر

اس زلزلے کی گہرائی (190 کلومیٹر) کی وجہ سے اس کے اثرات زمین کی سطح پر محدود رہے۔ ماہرین کے مطابق، گہرے زلزلے عام طور پر کم تباہ کن ہوتے ہیں، کیونکہ ان کی توانائی زمین کی سطح تک پہنچتے ہوئے کم ہو جاتی ہے۔ تاہم، یہ واقعہ پاکستان کے زلزلیاتی خطرات کی یاد دہانی ہے۔ NDMA نے عوام سے کہا ہے کہ وہ زلزلے کے دوران کھڑکیوں، شیشوں، اور بھاری اشیا سے دور رہیں، اور اگر ممکن ہو تو عمارتوں سے باہر نکل کر کھلے میدانوں میں پناہ لیں۔

ماہرین نے تجویز کیا ہے کہ گھروں اور دفتروں میں زلزلے سے بچاؤ کے کٹس تیار رکھی جائیں، جن میں پانی، خوراک، فرسٹ ایڈ کٹ، اور اہم دستاویزات شامل ہوں۔ اس کے علاوہ، بلند و بالا عمارتوں کے ڈیزائن کو زلزلے سے محفوظ بنانے کے لیے بلڈنگ کوڈز پر عمل درآمد کو یقینی بنانا چاہیے۔

19 اگست 2025 کا زلزلہ پاکستان کے لیے ایک اور وارننگ ہے کہ ملک زلزلیاتی طور پر کتنا حساس ہے۔ ہندوکش ریجن کی جغرافیائی ساخت اور پاکستان کی ٹیکٹونک پلیٹوں پر موجودگی اسے زلزلوں کا مرکز بناتی ہے۔ خوش قسمتی سے، اس زلزلے کی گہرائی نے اسے تباہ کن ہونے سے روکا، لیکن یہ واقعہ عوام اور حکام کے لیے ایک سبق ہے کہ زلزلے سے بچاؤ کی تیاریوں کو مزید بہتر کرنے کی ضرورت ہے۔

پاکستان میں زلزلے سے متعلق شعور کی کمی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ اگرچہ NDMA اور دیگر ادارے وقتاً فوقتاً آگاہی مہمات چلاتے ہیں، لیکن ان کی رسائی شہری علاقوں تک محدود رہتی ہے۔ دیہی علاقوں، جیسے کہ خیبرپختونخوا کے دور دراز اضلاع، میں زلزلے سے بچاؤ کی تربیت اور وسائل کی کمی ہے۔ اس کے علاوہ، پاکستان کی بہت سی عمارتیں، خاص طور پر پرانے ڈھانچے، زلزلے سے محفوظ نہیں ہیں، جو مستقبل میں کسی بڑے زلزلے کی صورت میں بڑے پیمانے پر نقصان کا باعث بن سکتے ہیں۔

حکومت کو چاہیے کہ وہ زلزلے سے محفوظ عمارات کے ڈیزائن کو فروغ دینے کے لیے سخت بلڈنگ کوڈز نافذ کرے اور عوام کے لیے مفت تربیتی پروگرام شروع کرے۔ اس کے علاوہ، ہنگامی حالات کے لیے مقامی سطح پر ریسکیو ٹیمیں تشکیل دی جائیں، جو فوری طور پر امدادی کارروائیاں شروع کر سکیں۔ اس زلزلے نے ایک بار پھر یہ ثابت کیا کہ فطرت کے سامنے انسان کی تیاری ہی اسے نقصان سے بچا سکتی ہے۔ اگر پاکستان نے ابھی سے زلزلے سے بچاؤ کی تیاریوں کو سنجیدگی سے لیا، تو مستقبل میں بڑے نقصانات سے بچا جا سکتا ہے۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین