لندن: پیٹ کی صحت ہماری مجموعی فلاح و بہبود، قوت مدافعت، اور یہاں تک کہ موڈ پر گہرا اثر ڈالتی ہے، لیکن ایک تازہ سائنسی مطالعہ نے اسے ایک نئے زاویے سے دیکھتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ پیٹ میں موجود بیکٹیریا بے خوابی کا باعث بھی بن سکتے ہیں۔ جرنل آف جنرل سائیکیاٹری میں شائع ہونے والی اس تحقیق نے 3 لاکھ 86 ہزار سے زائد افراد کے ڈیٹا کا تجزیہ کر کے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ پیٹ کے مائیکرو بائیوم کی مخصوص اقسام کا تعلق نیند کی خرابی سے ہے۔
تحقیق کی تفصیلات
جرنل آف جنرل سائیکیاٹری میں شائع ہونے والی اس تحقیق میں محققین نے بے خوابی سے متاثرہ 3 لاکھ 86 ہزار 533 افراد کے ڈیٹا کا جائزہ لیا، جو پچھلی متعدد مطالعات سے جمع کیا گیا تھا۔ اس مطالعے کا مقصد پیٹ کے مائیکرو بائیوم—یعنی نظام ہاضمہ میں موجود اربوں بیکٹیریا، وائرس، اور دیگر خرد حیاتیات—کے نیند کے معیار پر اثرات کو سمجھنا تھا۔ محققین نے پایا کہ پیٹ میں موجود کچھ مخصوص بیکٹیریا کی بہتات یا کمی بے خوابی کے بڑھنے سے براہ راست منسلک ہے۔
مطالعے کے مطابق، پیٹ کے مائیکرو بائیوم کا توازن نیند کے چکر (circadian rhythm) اور دماغی صحت پر اثر انداز ہوتا ہے۔ کچھ بیکٹیریا، جنہیں محققین نے ’نیند سے متعلق بگز‘ کا نام دیا، دماغ کے نیورو ٹرانسمیٹرز جیسے سیرٹونن اور میلاتونن کی پیداوار کو متاثر کرتے ہیں، جو نیند کو منظم کرنے میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔ جب ان بیکٹیریا کا توازن بگڑتا ہے، تو یہ نیند کے مسائل جیسے بے خوابی یا رات کو بار بار جاگنے کا باعث بن سکتا ہے۔
بے خوابی کے دیگر عوامل
برطانیہ کی نیشنل ہیلتھ سروس (NHS) کے مطابق، بے خوابی کے روایتی اسباب میں تناؤ، اضطراب، بلند آواز، کیفین کا زیادہ استعمال، الکوحل، اور شفٹ میں کام شامل ہیں۔ تاہم، یہ نئی تحقیق ان روایتی عوامل سے ہٹ کر پیٹ کے مائیکرو بائیوم کو ایک اہم عنصر کے طور پر پیش کرتی ہے۔ محققین کا کہنا ہے کہ پیٹ اور دماغ کے درمیان ایک مضبوط تعلق، جسے ’گٹ-برین ایکسس‘ کہا جاتا ہے، نیند کی خرابیوں کو سمجھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ یہ تعلق اعصابی نظام اور ہارمونل توازن کے ذریعے قائم ہوتا ہے، جو پیٹ کے بیکٹیریا سے متاثر ہوتا ہے۔
پچھلی کئی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ پیٹ کا مائیکرو بائیوم نیند کے معیار، نیند کی مدت، اور نیند کے دوران دماغی سرگرمیوں پر اثر انداز ہوتا ہے۔ تاہم، یہ نیا مطالعہ پہلی بار مخصوص بیکٹیریا کی اقسام کو بے خوابی سے جوڑتا ہے، جو اس شعبے میں ایک اہم پیش رفت ہے۔ محققین نے تسلیم کیا کہ ابھی یہ واضح نہیں کہ کون سے بیکٹیریا براہ راست بے خوابی کا باعث بنتے ہیں، لیکن ان کا خیال ہے کہ پروبائیوٹکس اور غذا میں تبدیلی اس مسئلے کو حل کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔
ممکنہ حل اور غذائی تبدیلیاں
ماہرین کے مطابق، پیٹ کے مائیکرو بائیوم کو متوازن کرنے کے لیے پروبائیوٹکس (مفید بیکٹیریا سے بھرپور غذائیں جیسے دہی) اور پری بائیوٹکس (فائبر سے بھرپور غذائیں جیسے سبزیاں اور پھل) کا استعمال بے خوابی کے مسائل کو کم کر سکتا ہے۔ اس کے علاوہ، ایسی غذائیں جن میں کیفین، چینی، یا پروسیسڈ کاربوہائیڈریٹس زیادہ ہوں، پیٹ کے بیکٹیریا کے توازن کو خراب کر سکتی ہیں، جس سے نیند کے مسائل بڑھ سکتے ہیں۔
محققین نے مشورہ دیا کہ متوازن غذا، جس میں فائبر، پروٹین، اور صحت مند چکنائی شامل ہو، پیٹ کے مائیکرو بائیوم کو بہتر بنا سکتی ہے۔ مثال کے طور پر، دہی، کیلے، پیاز، لہسن، اور دلیہ جیسی غذائیں پیٹ کے مفید بیکٹیریا کو فروغ دیتی ہیں۔ اس کے علاوہ، تناؤ کو کم کرنے کے لیے یوگا، مراقبہ، اور باقاعدہ ورزش بھی نیند کے معیار کو بہتر بنا سکتی ہے۔
سوشل میڈیا پر ردعمل
اس تحقیق نے سوشل میڈیا پر خاصی توجہ حاصل کی ہے۔ ایکس پر ایک صارف نے لکھا، "یہ جان کر حیرت ہوئی کہ پیٹ کے بیکٹیریا ہماری نیند کو بھی متاثر کر سکتے ہیں۔ اب وقت ہے کہ ہم اپنی غذا پر زیادہ توجہ دیں۔” ایک اور صارف نے کہا، "اگر دہی کھانے سے میری نیند بہتر ہو سکتی ہے، تو میں آج سے ہی شروع کرتا ہوں!” کچھ صارفین نے اس تحقیق کو پاکستانی معاشرے کے لیے اہم قرار دیا، جہاں بے خوابی ایک عام مسئلہ ہے، لیکن اس کے اسباب کو اکثر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔
عملی مشورے
ماہرین نے تجویز کیا ہے کہ بے خوابی سے بچنے کے لیے رات کو ہلکی اور صحت مند غذا کھائی جائے، کیفین سے گریز کیا جائے، اور نیند سے پہلے سکرین ٹائم (موبائل یا ٹی وی) کو کم کیا جائے۔ اس کے علاوہ، باقاعدگی سے پروبائیوٹک سپلیمنٹس یا دہی کا استعمال پیٹ کے مائیکرو بائیوم کو بہتر بنا سکتا ہے۔ وہ افراد جو دائمی بے خوابی سے دوچار ہیں، انہیں چاہیے کہ وہ ڈاکٹر یا غذائی ماہر سے رجوع کریں تاکہ ان کے مائیکرو بائیوم کی جانچ کی جا سکے۔
یہ تحقیق ایک اہم پیش رفت ہے جو پیٹ کی صحت اور دماغی صحت کے درمیان تعلق کو مزید واضح کرتی ہے۔ بے خوابی، جو دنیا بھر میں لاکھوں افراد کو متاثر کرتی ہے، کو روایتی طور پر تناؤ، اضطراب، یا طرز زندگی کے مسائل سے جوڑا جاتا تھا، لیکن پیٹ کے مائیکرو بائیوم کا کردار ایک نیا زاویہ پیش کرتا ہے۔ پاکستانی معاشرے میں، جہاں تناؤ اور غیر صحت مند غذا کے رجحانات عام ہیں، یہ تحقیق لوگوں کو اپنی غذائی عادات پر نظرثانی کرنے کی ترغیب دے سکتی ہے۔
تاہم، یہ تحقیق ابھی ابتدائی مراحل میں ہے، اور اس بات کی مزید تحقیق کی ضرورت ہے کہ کون سے مخصوص بیکٹیریا بے خوابی کا باعث بنتے ہیں اور ان کا علاج کیسے کیا جا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ، پاکستانی گھرانوں میں پروبائیوٹک غذاؤں تک رسائی ایک چیلنج ہو سکتی ہے، کیونکہ دہی اور دیگر ایسی غذائیں ہر جگہ سستی یا آسانی سے دستیاب نہیں ہیں۔ حکومت اور صحت کے اداروں کو چاہیے کہ وہ پیٹ کی صحت سے متعلق آگاہی مہمات شروع کریں اور پروبائیوٹک غذاؤں کو سستا بنانے کے لیے اقدامات کریں۔
یہ تحقیق ایک امید کی کرن ہے کہ بے خوابی جیسے پیچیدہ مسئلے کا حل ہماری روزمرہ غذا میں چھپا ہو سکتا ہے۔ اگر لوگ اپنی غذا میں فائبر سے بھرپور غذائیں اور پروبائیوٹکس شامل کریں، تو نہ صرف ان کی نیند بہتر ہو سکتی ہے بلکہ ان کی مجموعی صحت بھی مضبوط ہو سکتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ، دماغی صحت کے ماہرین کو چاہیے کہ وہ بے خوابی کے علاج میں مائیکرو بائیوم کی جانچ کو شامل کریں تاکہ مریضوں کو جامع علاج فراہم کیا جا سکے۔ یہ مطالعہ ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ صحت کے مسائل کے حل کے لیے ہمیں اپنے جسم کے ہر حصے، حتیٰ کہ پیٹ کے چھوٹے سے بیکٹیریا کو بھی نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔





















