لاہور:پاکستان عوامی تحریک کے صدر قاضی زاہد حسین نے کہا ہے کہ پاکستان عالمی کاربن کاایک فیصد بھی پروڈیوس نہیں کرتا مگر امیر ملکوں کی ترقی کی قیمت سب سے زیادہ ادا کررہا ہے۔ قیامت خیز سیلابوں سے ہونے والے نقصانات صنعتی ملکوں سے پورے کئے جائیں۔ ہر سال کلائوڈ برسٹ اور گلیشیئر پگھلنے اور غیر متوقع سیلابوں سے لاکھوں خاندان بے گھر ہو جاتے ہیں اور اربوں ڈالر کا نقصان ہوتا ہے جس کا پاکستان جیسا غریب ملک متحمل نہیں ہو سکتا۔
انہوں نے کہا کہ دنیابھر میں موجود پاکستانی سفارت کار امیر ملکوں کی وجہ سے پاکستان میں آنے والی تباہیوں کے بارے میں دنیا کو آگاہ کریں اور معاملہ کی حساسیت کو اجاگر کریں، سوشل میڈیا ایکٹیوسٹس اور یوٹیوبرز بھی اس معاملہ پر رائے عامہ ہموار کریں۔ انہوں نے سوال کیا کہ گلوبل وارمنگ اور ماحولیاتی آلودگی کے خاتمے کے لئے کام کرنے والی سرکاری و غیر سرکاری ایجنسیاں یہ مسئلہ عالمی سطح پر اجاگر کیوں نہیں کرتیں؟۔ قاضی زاہد حسین نے کہا کہ گلوبل وارمنگ اور کاربن کا پھیلائو تیسری عالمی جنگ کے ممکنہ خطرات سے زیادہ بڑا خطرہ ہے۔ دنیا اس طرف توجہ دے۔
انہوں نے بونیر، صوابی، سوات و دیگر اضلاع میں ہونے والی تباہی اور قیمتی جانوں کے ضیاع پر دلی افسوس کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت جنگلات کے کٹائو کو روکے، شجر کاری مہمات کی سرپرستی کرے تاکہ سیلابوں کی تباہ کاریوں کو کسی حد تک کم کیا جا سکے۔ قاضی زاہد حسین نے متاثرہ اضلاع میں امدادی سرگرمیاں کرنے پر منہاج ویلفیئر فائونڈیشن کے رضا کاروں کو مبارکباد دی۔
روزنامہ تحریک کے سینئر صحافی نے تجزیہ کرتے ہوئے کہا کہ قاضی زاہد حسین کا یہ موقف نہ صرف وقت کی آواز ہے بلکہ پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک کی اجتماعی سوچ کی بھی بھرپور عکاسی کرتا ہے۔ یہ حقیقت کسی سے پوشیدہ نہیں کہ پاکستان دنیا کے کاربن اخراج میں نہ ہونے کے برابر حصہ رکھتا ہے، لیکن ماحولیاتی تبدیلیوں کے بھیانک اثرات سب سے زیادہ اسی خطے کو جھیلنے پڑ رہے ہیں۔ گلیشیئرز کا تیزی سے پگھلنا، اچانک کلاؤڈ برسٹ، غیر متوقع بارشیں اور قیامت خیز سیلاب وہ چیلنجز ہیں جنہوں نے ہمارے لاکھوں خاندانوں کو اجاڑ ڈالا اور معیشت کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا۔
قاضی زاہد حسین نے بالکل درست نشان دہی کی ہے کہ امیر صنعتی ممالک کی ترقی کی قیمت آج غریب اور کمزور معیشتوں کو ادا کرنا پڑ رہی ہے۔ ماحولیاتی انصاف کا تقاضا ہے کہ جن ممالک نے کرۂ ارض کو آلودہ کیا اور درجہ حرارت میں خطرناک اضافہ کیا، وہی ممالک ان نقصانات کی تلافی کے لئے سب سے آگے بڑھیں۔ پاکستان جیسے ملک کے لئے اربوں ڈالر کے نقصانات کو برداشت کرنا ممکن نہیں، چنانچہ بین الاقوامی سطح پر ایک مضبوط اور مؤثر آواز اٹھانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
یہ بات بھی اہم ہے کہ قاضی زاہد حسین نے محض عالمی طاقتوں پر ذمہ داری ڈالنے کی بجائے ایک داخلی اور عملی لائحہ عمل بھی تجویز کیا ہے۔ انہوں نے درست کہا کہ سفارت کار، سوشل میڈیا ایکٹیوسٹس اور یوٹیوبرز اس مسئلے کو اجاگر کریں اور دنیا کو بتائیں کہ پاکستان کس طرح ماحولیاتی تباہیوں کا نشانہ بن رہا ہے۔ آج کے ڈیجیٹل دور میں یہ بات بالکل درست ہے کہ رائے عامہ بنانے میں میڈیا اور سوشل پلیٹ فارمز سب سے مؤثر کردار ادا کر سکتے ہیں۔
ان کا یہ سوال بھی نہایت قابلِ غور ہے کہ آخر عالمی سطح پر ماحولیاتی ادارے اور این جی اوز اس مسئلے کو مؤثر انداز میں کیوں نہیں اٹھا رہیں؟ اس سوال میں پاکستان جیسے ممالک کی بے بسی اور عالمی برادری کی بے حسی دونوں جھلکتی ہیں۔ گلوبل وارمنگ کا خطرہ واقعی تیسری عالمی جنگ سے کم نہیں، بلکہ یہ ایک خاموش جنگ ہے جس کا شکار پوری انسانیت ہو رہی ہے۔ لیکن بدقسمتی سے دنیا کے اکثر بڑے ممالک اس مسئلے کو محض اجلاسوں، اعلانات اور وعدوں تک محدود رکھے ہوئے ہیں۔
قاضی زاہد حسین کی یہ تجویز بھی نہایت مثبت ہے کہ حکومت جنگلات کے کٹاؤ کو روکے اور شجرکاری مہمات کی سرپرستی کرے۔ یہ وہ عملی اقدامات ہیں جن سے نہ صرف سیلابوں کی شدت کم ہو سکتی ہے بلکہ ماحولیاتی توازن کی بحالی میں بھی مدد مل سکتی ہے۔ پاکستان کو داخلی سطح پر اپنے وسائل کے مطابق ایسے اقدامات کرنے ہوں گے تاکہ عالمی معاونت کے ساتھ ساتھ مقامی سطح پر بھی ماحول دوست اقدامات کو فروغ دیا جا سکے۔
ان کا منہاج ویلفیئر فاؤنڈیشن کے رضاکاروں کو خراجِ تحسین پیش کرنا بھی ایک خوش آئند رویہ ہے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ہمارے سماجی ادارے اور فلاحی تنظیمیں مشکل کی گھڑی میں عوام کے ساتھ کھڑی ہیں اور اپنی بساط کے مطابق امدادی سرگرمیاں سرانجام دے رہی ہیں۔ یہی جذبہ پاکستان کی اصل طاقت ہے جسے مزید منظم اور مربوط کرنے کی ضرورت ہے۔
مجموعی طور پر قاضی زاہد حسین کا بیان نہ صرف حقیقت پر مبنی ہے بلکہ پاکستان کے لئے ایک عملی روڈ میپ بھی فراہم کرتا ہے۔ یہ وقت ہے کہ ہم اجتماعی شعور کے ساتھ عالمی سطح پر اپنی آواز بلند کریں اور داخلی سطح پر عملی اقدامات کو ترجیح دیں۔ ماحولیاتی تبدیلی کا خطرہ محض مستقبل کا مسئلہ نہیں رہا، یہ ہمارے حال کا المیہ ہے جس کا ادراک آج کرنا اور اس کے سدباب کے لئے مؤثر اقدامات اٹھانا ناگزیر ہو چکا ہے۔





















