سول آمریت اور بیوروکریسی کی فرعونیت سے نجات کیلئے نئے صوبے ناگزیر ہیں:خرم نواز گنڈاپور

وقت آ گیا نام نہاد جمہوری نظام کی اس متعفن لاش کو بلا جنازہ دفن کر دیا جائے،چیک اینڈ بیلنس کا نظام تو بادشاہتوں میں بھی ہوتا ہے

لاہور:پاکستان عوامی تحریک کے سیکرٹری جنرل خرم نواز گنڈاپور نے کہا ہے کہ پاکستان کی بقا مزید انتظامی صوبوں کی تشکیل اور متناسب نمائندگی کے نظام میں ہے۔یہ کیسی جمہوریت ہے جس میں بلدیاتی اداروں کو زہر قاتل سمجھا جا تا ہے؟وقت آ گیا نام نہاد استحصالی اور کرپشن میں لتھڑے ہوئے اس جمہوری نظام کی متعفن لاش کو بلا جنازہ دفن کر دیا جائے۔25کروڑ عوام کا پیسہ لاہور سمیت چند بڑے شہروں کو دلہن بنانے پر خرچ ہوتا ہے اور کوئی پوچھنے والا نہیں،کوئی ملک و قوم کے پچاس ارب ڈالر برباد کر دے یا قوم کی جیبوں میں سے پلک جھپکتے تین سو ارب نکال لے کوئی پوچھنے والا نہیں۔چیک اینڈ بیلنس کا نظام تو بادشاہتوں میں بھی ہوتا ہے۔

انہوں نے کہاکہ کوئی وزیر اعلیٰ اور وزیر اعظم غیر آباد اور بیابان علاقوں میں سینکڑوں ایکٹر اراضی رہائش کیلئے خرید کر پھر اسے قومی پیسے سے جنت نظیر بنا لیتا ہے جبکہ باقی ماندہ ملک زمانہ غار کی تصویر بنا رہتا ہے،اسے ریاست یا جمہوریت نہیں کہتے۔انہوں نے کہاکہ نئے صوبے بنا کر این ایف سی ایوارڈ کے تحت انہیں براہ راست مالیاتی شیئر ٹرانسفر کرنے سے ترقی کا رکا ہوا سفر مساوی طور پر شروع ہو جائے گا۔انہوں نے کہا کہ عوام 78سال سے اس نظام کی طرف امید بھری نظروں سے دیکھ رہے ہیں مگر ان کے حصے میں فاقوں، ناکوں اور ڈاکوں کے سوا کچھ نہیں آیا۔ڈاکٹر طاہر القادری نے 15سال قبل نئے صوبے بنانے کا ایک قابل عمل ورکنگ پیپر قوم کے سامنے رکھا تھا جو آج ماضی کی نسبت زیادہ قابل عمل ہے۔انہوں نے کہاکہ اس نظام کے سیاہ و سفید کے مالک غریب عوام کی حالت پر ترس کھاتے ہوئے اس لوٹ کھسوٹ کے نظام کو ختم کر کے ایک نیا نظام دیں جس میں پاکستان کا ہر شہری باعزت اور محفوظ ہو اور ہر شہری کے بچے معیاری تعلیم حاصل کر سکیں اور صلاحیت کے مطابق برسر روزگار آ سکیں۔ایک ایسا نظام جس میںپائی پائی عوام کی فلاح و بہبود کیلئے خرچ ہو۔انہوں نے کہاکہ قومیں اپنی غلطیوں سے خود ہی سیکھتی ہیں باہر سے کوئی نہیں آتا،ہمارے تمام ذمہ داروں کو اپنی ناکامیوں کا اعتراف کرتے ہوئے روشن مستقبل کیلئے غیر معمولی فیصلے کرنے میں لیت و لعل سے کام نہیں لینا چاہئے۔

اسے بھی پڑھیں: وزیرخزانہ نے پاکستان کو درپیش دو بڑے چیلنجز کی نشاندہی کر دی

روزنامہ تحریک کے سینئر صحافی و تجزیہ نگار محمد کاشف جان نے تجزیہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں جمہوریت کے نام پر جو نظام رائج ہے، اس کی کمزوریاں آج کسی سے ڈھکی چھپی نہیں رہیں۔ پاکستان عوامی تحریک کے سیکرٹری جنرل خرم نواز گنڈاپور نے اپنی گفتگو میں انہی کمزوریوں پر بھرپور تنقید کرتے ہوئے یہ واضح کیا ہے کہ موجودہ سیاسی ڈھانچے کے تحت 25 کروڑ عوام کی اکثریت مسلسل نظر انداز ہو رہی ہے۔ ان کا مؤقف کہ "پاکستان کی بقا مزید انتظامی صوبوں اور متناسب نمائندگی کے نظام میں ہے” ایک ایسی حقیقت ہے جسے سنجیدگی سے لینے کی ضرورت ہے۔

آج ہماری جمہوریت کا المیہ یہ ہے کہ بلدیاتی اداروں کو کمزور رکھا جاتا ہے۔ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں نچلی سطح کی حکومت کو حقیقی اختیارات دے کر عوام کے مسائل ان کی دہلیز پر حل کیے جاتے ہیں، مگر پاکستان میں بلدیاتی نظام کو زہر قاتل سمجھا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عوامی مسائل جوں کے توں ہیں اور وسائل کا رخ ہمیشہ چند بڑے شہروں کی جانب موڑ دیا جاتا ہے۔

خرم نواز گنڈاپور نے درست کہا کہ 25 کروڑ عوام کے خون پسینے کی کمائی لاہور سمیت بڑے شہروں کو سنوارنے پر لٹا دی جاتی ہے جبکہ پسماندہ اضلاع اور دور دراز علاقے آج بھی تاریکیوں میں ڈوبے ہیں۔ یہاں بنیادی سہولتیں تک میسر نہیں۔ صحت، تعلیم اور روزگار کے مواقع نہ ہونے کے برابر ہیں، لیکن قومی وسائل کا استعمال محض مخصوص علاقوں تک محدود کر دیا گیا ہے۔ یہ صورتحال کسی بھی جمہوری اصول کے منافی ہے۔

پاکستان میں چیک اینڈ بیلنس کا نظام بھی شدید زوال کا شکار ہے۔ بڑے پیمانے پر ہونے والی کرپشن اور قومی دولت کی لوٹ مار اس کی واضح مثال ہے۔ کوئی اربوں ڈالر برباد کر دے یا کھربوں روپے قومی خزانے سے نکل جائیں، اس پر کوئی جواب دہی نہیں۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ جسے ہم جمہوریت کہتے ہیں، وہ بدترین بادشاہتوں کے مقابلے میں بھی کمزور اور غیر شفاف نظر آتی ہے۔

ان کا یہ نکتہ بھی قابل غور ہے کہ وزرائے اعلیٰ اور وزرائے اعظم غیر آباد علاقوں میں اراضی خرید کر پھر قومی دولت کے ذریعے انہیں جنت نظیر بنا لیتے ہیں جبکہ باقی ماندہ ملک صدیوں پیچھے کا منظر پیش کرتا ہے۔ یہ طرزِ حکمرانی عوام اور ریاست کے ساتھ سنگین ناانصافی ہے۔ اگر کسی ملک میں ترقی کے ثمرات چند خاندانوں یا چند شہروں تک محدود رہیں تو وہاں جمہوریت محض ایک نام رہ جاتی ہے، اس کی روح ختم ہو جاتی ہے۔

نئے صوبے بنانے کی تجویز کوئی نئی بات نہیں۔ ڈاکٹر طاہر القادری نے پندرہ برس قبل اس کا قابلِ عمل فارمولا قوم کے سامنے رکھا تھا۔ آج کے حالات اس تجویز کو مزید ضروری اور مؤثر بناتے ہیں۔ نئے صوبوں کے قیام سے وسائل کی منصفانہ تقسیم ممکن ہو گی اور این ایف سی ایوارڈ کے ذریعے براہ راست فنڈز کی فراہمی سے وہ علاقے بھی ترقی کے سفر میں شامل ہو جائیں گے جو دہائیوں سے محرومیوں کا شکار ہیں۔

خرم نواز گنڈاپور کا یہ کہنا بالکل درست ہے کہ عوام گزشتہ 78 برس سے اس نظام سے امیدیں باندھتے آئے ہیں لیکن بدلے میں انہیں صرف غربت، بے روزگاری اور محرومیاں ملی ہیں۔ اگر آج بھی ہم نے اپنی ناکامیوں کا اعتراف نہ کیا اور مستقبل کے لئے غیر معمولی فیصلے نہ کیے تو آنے والے برسوں میں حالات مزید بگڑ جائیں گے۔

اصل ضرورت اس امر کی ہے کہ ایک ایسا نظام تشکیل دیا جائے جس میں پاکستان کا ہر شہری محفوظ ہو، اسے انصاف، تعلیم اور روزگار کی سہولتیں مساوی بنیادوں پر میسر ہوں، اور قومی دولت کا ایک ایک پیسہ عوام کی فلاح پر خرچ ہو۔ دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ وہی قومیں ترقی کرتی ہیں جو اپنی ناکامیوں سے سبق سیکھتی ہیں اور بروقت اصلاحات کے ذریعے نئے راستے متعین کرتی ہیں۔

پاکستان آج ایک ایسے موڑ پر کھڑا ہے جہاں معمولی نہیں بلکہ غیر معمولی فیصلوں کی ضرورت ہے۔ یہ وقت محض نعروں اور دعوؤں کا نہیں بلکہ عملی اقدامات کا ہے۔ نئے صوبے، متناسب نمائندگی، بلدیاتی اداروں کو مضبوطی، کرپشن پر قابو اور وسائل کی منصفانہ تقسیم ہی وہ عناصر ہیں جو پاکستان کو ایک حقیقی جمہوری اور ترقی یافتہ ریاست کی راہ پر گامزن کر سکتے ہیں۔

 

متعلقہ خبریں

مقبول ترین