بارکھان (ویب ڈیسک: خصوصی رپورٹ: غلام مرتضیٰ)بلوچستان کے ضلع بارکھان میں سیکیورٹی فورسز کے کلیئرنس آپریشن کے دوران 7 خارجی ہلاک ہوگئے جبکہ وطن کے دفاع میں پاک فوج کے ایک میجر سمیت 5 بہادر جوانوں نے جامِ شہادت نوش کیا۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ Inter-Services Public Relations کے مطابق آپریشن کے دوران شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا، جس میں دہشتگردوں کو مؤثر کارروائی کرتے ہوئے ہلاک کیا گیا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق شہید ہونے والوں میں Major Tauseef Ahmed Bhatti، نائیک فدا حسین، سپاہی ذاکر حسین، سپاہی سہیل احمد اور سپاہی ایاز شامل ہیں۔
بیان کے مطابق ہلاک دہشتگردوں سے بھاری مقدار میں اسلحہ اور بارودی مواد بھی برآمد کیا گیا۔
آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ سیکیورٹی فورسز ملک سے دہشتگردی کے مکمل خاتمے کیلئے پرعزم ہیں اور دہشتگرد عناصر کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی۔
دوسری جانب وفاقی وزیر داخلہ Mohsin Naqvi نے شہید ہونے والے افسر اور جوانوں کو زبردست خراج عقیدت پیش کیا۔
محسن نقوی نے کہا کہ میجر توصیف احمد اور دیگر جوانوں نے بہادری سے لڑتے ہوئے 7 خارجیوں کو جہنم واصل کیا اور بھارتی اسپانسرڈ دہشتگردوں کے مذموم عزائم ناکام بنائے۔
وزیر داخلہ نے کہا کہ شہدا کے خون کا ایک ایک قطرہ وطن کے تحفظ کی ضمانت ہے اور پوری قوم اپنے شہدا کی قربانیوں پر فخر کرتی ہے۔
انہوں نے شہدا کے اہل خانہ سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میجر توصیف احمد سمیت ہر شہید قوم کے سر کا تاج ہے۔
سینئر صحافی غلام مرتضیٰ کے مطابق بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں دہشتگردی کے خلاف جاری کارروائیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ سیکیورٹی فورسز مسلسل مشکل اور حساس حالات میں آپریشنز کر رہی ہیں۔
غلام مرتضیٰ کا کہنا ہے کہ بارکھان آپریشن میں ایک میجر سمیت جوانوں کی شہادت اس جنگ کی سنگینی کو ظاہر کرتی ہے، جہاں دہشتگرد عناصر جدید اسلحے اور منظم نیٹ ورکس کے ساتھ سرگرم ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ریاستی ادارے اس وقت دو محاذوں پر لڑ رہے ہیں، ایک دہشتگردی کے خلاف عملی کارروائیاں جبکہ دوسرا اطلاعاتی اور نفسیاتی جنگ کا میدان۔
ان کے مطابق دہشتگردی کے مکمل خاتمے کیلئے صرف عسکری آپریشن کافی نہیں بلکہ سیاسی استحکام، سرحدی نگرانی اور انٹیلی جنس تعاون بھی انتہائی ضروری ہے۔
عوامی ردعمل
سوشل میڈیا پر شہدا کیلئے دعاؤں اور خراج عقیدت کا سلسلہ جاری رہا۔ ہزاروں صارفین نے میجر توصیف احمد اور دیگر شہدا کی قربانیوں کو سلام پیش کیا۔
کئی افراد نے مطالبہ کیا کہ دہشتگردی میں ملوث عناصر اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف مزید سخت کارروائی کی جائے۔
دوسری جانب بعض صارفین نے کہا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں قوم کو اپنی افواج کے ساتھ مکمل یکجہتی کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔
تجزیہ نگار کیا کہتے ہیں؟
دفاعی ماہرین کے مطابق بلوچستان میں دہشتگردی کے حالیہ واقعات ظاہر کرتے ہیں کہ شدت پسند گروہ اب بھی سیکیورٹی فورسز اور ریاستی تنصیبات کو نشانہ بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ کامیاب کلیئرنس آپریشنز دہشتگرد نیٹ ورکس کو کمزور ضرور کرتے ہیں، تاہم مستقل امن کیلئے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز اور مقامی سطح پر استحکام ناگزیر ہے۔
تجزیہ نگاروں کے مطابق شہدا کی قربانیاں دہشتگردی کے خلاف پاکستان کی جاری جنگ میں ایک اہم باب ہیں، جنہیں قوم ہمیشہ یاد رکھے گی۔





















