کراچی: پاکستان اسٹاک ایکسچینج (PSX) نے ایک اور تاریخی کامیابی حاصل کر لی ہے، جب KSE-100 انڈیکس نے پہلی بار ڈیڑھ لاکھ پوائنٹس کی نفسیاتی حد کو چھو کر نئی بلندیوں کو چھو لیا۔ کاروباری ہفتے کے دوسرے دن منگل کو مارکیٹ میں غیر معمولی تیزی دیکھی گئی، جس نے سرمایہ کاروں میں جوش و خروش پیدا کر دیا۔ انڈیکس نے دن کے اختتام پر 1574 پوائنٹس کے اضافے کے ساتھ 1 لاکھ 49 ہزار 770 پوائنٹس پر کاروبار بند کیا، جبکہ انٹرا ڈے ٹریڈنگ کے دوران یہ 1 لاکھ 50 ہزار 031 پوائنٹس کی بلند ترین سطح تک جا پہنچا۔
مارکیٹ کی شاندار کارکردگی
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں گزشتہ کچھ ہفتوں سے جاری تیزی کا رجحان منگل، 19 اگست 2025 کو اپنے عروج پر پہنچ گیا۔ پیر کو کاروباری ہفتے کے پہلے دن KSE-100 انڈیکس 704 پوائنٹس کے اضافے کے ساتھ 1 لاکھ 48 ہزار 196 پوائنٹس پر بند ہوا تھا، جو خود ایک قابل ذکر سطح تھی۔ تاہم، منگل کے روز مارکیٹ نے سرمایہ کاروں کی توقعات سے بڑھ کر کارکردگی دکھائی۔
دن کے آغاز سے ہی انڈیکس میں تیزی کا رجحان نمایاں تھا، اور دوپہر تک یہ 888 پوائنٹس کے اضافے کے ساتھ 1 لاکھ 49 ہزار 84 پوائنٹس پر ٹریڈ کر رہا تھا۔ انٹرا ڈے ٹریڈنگ کے دوران مارکیٹ نے مزید زور پکڑا اور 1234 پوائنٹس کی تیزی کے ساتھ انڈیکس 1 لاکھ 49 ہزار 430 پوائنٹس تک جا پہنچا۔ اسی دن، ایک اور شاندار پیش رفت ہوئی جب انڈیکس نے 1835 پوائنٹس کے اضافے کے ساتھ تاریخی 1 لاکھ 50 ہزار 031 پوائنٹس کی سطح کو چھو لیا۔ دن کے اختتام پر، 1574 پوائنٹس کی تیزی کے ساتھ انڈیکس 1 لاکھ 49 ہزار 770 پوائنٹس پر بند ہوا، جو اس کی اب تک کی دوسری بلند ترین سطح تھی۔
تیزی کے محرکات
ماہرین کے مطابق، اس غیر معمولی تیزی کے پیچھے کئی عوامل کارفرما ہیں۔ سب سے پہلے، عالمی مالیاتی اداروں، خاص طور پر انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (IMF) کے ساتھ جاری مذاکرات اور مالی امداد کے مثبت امکانات نے سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کیا ہے۔ جولائی 2025 میں IMF کے $3 بلین قرض پروگرام کی کامیابی اور دوسری قسط کی متوقع ترسیل نے مارکیٹ کو استحکام دیا۔
دوسرا، سٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے شرح سود میں ممکنہ کمی کی توقعات نے سرمایہ کاری کے مواقع کو بڑھایا۔ اکتوبر 2024 میں سالانہ مہنگائی کی شرح 26.9 فیصد تک کم ہونے سے معاشی حالات میں بہتری کے آثار نمایاں ہوئے، جس نے سرمایہ کاروں کو حوصلہ دیا۔ اس کے علاوہ، پاکستانی روپے کی قدر میں اضافہ اور زرمبادلہ کے ذخائر میں بتدریج بہتری نے بھی مارکیٹ کی تیزی کو تقویت دی۔
بینکنگ، تیل و گیس، اور سیمنٹ کے شعبوں نے اس ریلی میں کلیدی کردار ادا کیا۔ بینکوں کی جانب سے اضافی قرضوں کی فراہمی اور ان کی متوقع آمدن میں اضافے نے ان کے شیئرز کی قیمتوں کو بلند کیا، جبکہ تیل و گیس کمپنیوں جیسے OGDC اور PPL نے بھی نمایاں کارکردگی دکھائی۔ تاہم، انجینئرنگ سیکٹر کے کچھ شیئرز سرخ رہے، جو معاشی عدم توازن کی ایک جھلک دکھاتا ہے۔
کے ایس 100انڈیکس پاکستان اسٹاک ایکسچینج کا سب سے اہم معیاری انڈیکس ہے، جو مارکیٹ کی مجموعی کارکردگی کی عکاسی کرتا ہے۔ یہ انڈیکس PSX پر درج 34 شعبوں سے سب سے زیادہ مارکیٹ کیپیٹلائزیشن والی کمپنیوں پر مشتمل ہے، جن میں سے باقی کمپنیاں مارکیٹ کیپیٹلائزیشن کی بنیاد پر منتخب کی جاتی ہیں۔ اس کی بنیاد نومبر 1991 میں 1,000 پوائنٹس سے رکھی گئی تھی، اور اس نے وقت کے ساتھ متعدد سنگ میل عبور کیے ہیں۔
ماضی میں، KSE-100 نے 2008 میں 15,737 پوائنٹس، 2017 میں 53,124 پوائنٹس، اور 2023 میں 60,500 پوائنٹس کی بلند سطحیں دیکھیں۔ تاہم، 2020 میں COVID-19 کے اثرات سے انڈیکس 27,200 پوائنٹس تک گر گیا تھا، لیکن مارکیٹ نے حیرت انگیز بحالی دکھائی۔ حالیہ برسوں میں، انڈیکس نے 2024 کے ستمبر میں 81,114 پوائنٹس اور اگست 2025 میں 1 لاکھ 46 ہزار 492 پوائنٹس کی سطح کو چھوا، اور اب ڈیڑھ لاکھ پوائنٹس کا سنگ میل اس کی تاریخی ترقی کی ایک اور گواہی ہے۔
سرمایہ کاروں کا اعتماد
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس تیزی کا سب سے بڑا محرک سرمایہ کاروں کا بڑھتا ہوا اعتماد ہے۔ IMF پروگرام کے تحت معاشی اصلاحات، ایکسپورٹ میں اضافہ، اور غیر ملکی سرمایہ کاری کے امکانات نے مارکیٹ کو سہارا دیا ہے۔ اس کے علاوہ، پاکستان کی MSCI ایمرجنگ مارکیٹس انڈیکس میں شمولیت نے بھی غیر ملکی سرمایہ کاروں کی دلچسپی بڑھائی ہے۔ تاہم، کچھ تجزیہ کاروں نے خبردار کیا ہے کہ مارکیٹ کی یہ تیزی عارضی ہو سکتی ہے اگر معاشی اصلاحات پر عمل درآمد نہ ہوا یا عالمی معاشی حالات خراب ہوئے۔
کے ایس 100 انڈیکس کا 1 لاکھ 50 ہزار پوائنٹس کی سطح عبور کرنا پاکستانی معیشت کے لیے ایک عظیم الشان لمحہ ہے، جو سرمایہ کاروں کے اعتماد اور حکومتی پالیسیوں کی کامیابی کی عکاسی کرتا ہے۔ IMF کے ساتھ معاہدوں، شرح سود میں ممکنہ کمی، اور زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافے نے مارکیٹ کو ایک مضبوط بنیاد فراہم کی ہے۔ خاص طور پر بینکنگ اور تیل و گیس کے شعبوں کی مضبوط کارکردگی نے اس تیزی کو ممکن بنایا، جو ملکی معیشت کے کلیدی شعبوں کی ترقی کی نشاندہی کرتا ہے۔
تاہم، یہ تیزی کچھ سوالات بھی اٹھاتی ہے۔ جیسا کہ سوشل میڈیا پر کچھ صارفین نے نشاندہی کی، اسٹاک مارکیٹ کی یہ ترقی عام شہریوں کی زندگیوں پر براہ راست اثر نہیں ڈال رہی۔ انجینئرنگ سیکٹر جیسے شعبوں کی کمزور کارکردگی معاشی عدم توازن کی طرف اشارہ کرتی ہے، جو حکام کے لیے ایک چیلنج ہے۔ اس کے علاوہ، مارکیٹ کی یہ تیزی برقرار رکھنے کے لیے مستقل معاشی اصلاحات، شفاف پالیسیوں، اور عالمی معاشی استحکام کی ضرورت ہے۔
حکومت کو چاہیے کہ وہ اسٹاک مارکیٹ کی اس کامیابی کو عام شہریوں تک فوائد پہنچانے کے لیے استعمال کرے، جیسے کہ روزگار کے مواقع بڑھانے اور صنعتی ترقی کو فروغ دینے کے لیے۔ اس کے علاوہ، چھوٹے سرمایہ کاروں کو مارکیٹ میں شامل کرنے کے لیے مالیاتی خواندگی کے پروگرام شروع کیے جائیں، تاکہ یہ ترقی زیادہ جامع ہو۔ اگر یہ تیزی مستقل پالیسیوں کے ساتھ جاری رہی، تو یہ پاکستان کی معیشت کو نئی بلندیوں تک لے جا سکتی ہے، لیکن اس کے لیے معاشی ڈھانچے میں بنیادی اصلاحات ناگزیر ہیں





















