خصوصی رپورٹ: محمد کاشف جان
کلاؤڈ برسٹ ایک ایسا شدید موسمی واقعہ ہے جس میں ایک گھنٹے کے دوران 200 ملی میٹر سے زائد بارش ریکارڈ کی جاتی ہے۔ یہ ’’بادلوں کا پھٹنا‘‘ کہلانے والا واقعہ عموماً پہاڑی علاقوں میں گرج چمک کے ساتھ رونما ہوتا ہے، جو سیلابی ریلوں اور لینڈ سلائیڈنگ کا باعث بنتا ہے۔
سائنسی وجوہات: نمی اور دباؤ کا کھیل
زمین اور بادلوں کے درمیان گرم ہوا کی لہر نمی کو برقرار رکھنے سے روکتی ہے۔ جب دباؤ ناکافی ہوتا ہے، تو بادل اچانک بڑی مقدار میں پانی گراتے ہیں، جو کلاؤڈ برسٹ کا سبب بنتا ہے۔ موسمیاتی تغیرات نے اس رجحان کی شدت کو بڑھاوا دیا ہے، کیونکہ بدلتے موسم میں نمی کی مقدار پہلے سے کہیں زیادہ ہوتی ہے۔
بارش کی شدت کی بین الاقوامی تقسیم (World Meteorological Organization – WMO)
ہلکی بارش (Light Rain): 2.5 ملی میٹر فی گھنٹہ سے کم
درمیانی بارش (Moderate Rain): 2.5 سے 7.5 ملی میٹر فی گھنٹہ
تیز بارش (Heavy Rain): 7.6 سے 50 ملی میٹر فی گھنٹہ
انتہائی تیز بارش (Very Heavy / Torrential Rain): 50 ملی میٹر فی گھنٹہ یا اس سے زیادہ
پاکستان میں کلاؤڈ برسٹ کی تباہی
رواں مون سون سیزن میں پاکستان کے مختلف علاقوں، جیسے چکوال، حیدرآباد، گلگت، اور چلاس، میں کلاؤڈ برسٹ کے سنگین اثرات دیکھنے میں آئے۔ چکوال میں ایک واقعے کے دوران 423 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی، جبکہ حیدرآباد کی تقریباً 70 فیصد گلیاں پانی میں ڈوب گئیں۔ گلگت کے چلاس میں شاہراہ بابو سر پر سیلابی ریلے نے 19 سیاحوں کی جان لے لی اور متعدد گاڑیاں بہہ گئیں۔
بونیر اور صوابی: سیلاب کی تباہ کاری
خیبرپختونخوا کے بونیر میں ایک گھنٹے میں 150 ملی میٹر سے زائد بارش نے تباہی مچائی، جس سے سیلابی ریلوں نے کئی گاؤں نیست و نابود کردیے۔ اب تک 320 افراد ہلاک ہوچکے ہیں، جن میں سے 207 کا تعلق بونیر سے ہے۔ صوابی کے دالوری گدون میں لینڈ سلائیڈنگ اور کلاؤڈ برسٹ نے 12 مکانات تباہ کردیے اور 15 افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ امدادی کارروائیاں جاری ہیں، اور حکام نے متاثرہ خاندانوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
اسے بھی پڑھیں: امیر ملکوں کی ترقی کی قیمت پاکستان ادا کررہا ہے: قاضی زاہد حسین
کلاؤڈ برسٹ سے تحفظ: ماہرین کے مشورے
موسمیاتی ماہرین اس تباہی کا بنیادی سبب موسمیاتی تبدیلیوں کو قرار دیتے ہیں، کیونکہ گرم ہوا زیادہ نمی رکھتی ہے، جو شدید بارشوں کو جنم دیتی ہے۔ پیشگوئی کرنا مشکل ہونے کے باوجود، ماہرین ندی نالوں کے قریب تعمیرات سے گریز، ڈرینیج سسٹم کی بہتری، محفوظ راستوں کی بحالی، اور جنگلات کی افزائش جیسے اقدامات تجویز کرتے ہیں۔
موسمیاتی چیلنجز: ایک نئی حقیقت
کلاؤڈ برسٹ پاکستان میں ایک بار بار دہرائی جانے والی موسمیاتی حقیقت بن چکا ہے۔ موسمیاتی تبدیلی، ناقص ڈھانچہ جاتی ترقی، اور غیر مناسب تعمیرات اس کی شدت میں اضافہ کر رہے ہیں۔ بونیر اور صوابی جیسے واقعات نے سیکڑوں جانیں لیں اور متعدد علاقوں کو تباہ کیا۔ حکومتی اور عوامی اداروں کو سنجیدہ اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے تاکہ مستقبل میں ایسی تباہی سے بچا جاسکے۔
تجزیہ اور پس منظر
کلاؤڈ برسٹ کے یہ واقعات پاکستان کے لیے ایک سنگین چیلنج ہیں، جو موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کو واضح کرتے ہیں۔ یہ رپورٹ نہ صرف کلاؤڈ برسٹ کی تباہ کاریوں کو اجاگر کرتی ہے بلکہ ان سے نمٹنے کے لیے عملی اقدامات بھی پیش کرتی ہے۔ پس منظر میں، پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک میں موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات زیادہ شدید ہیں کیونکہ ناکافی انفراسٹرکچر اور محدود وسائل حالات کو مزید خراب کرتے ہیں۔ حالیہ برسوں میں مون سون کی شدت میں اضافہ ہوا ہے، جو گرم ہوا اور نمی کے امتزاج کا نتیجہ ہے۔
یہ رپورٹ مثبت نقطہ نظر پیش کرتی ہے کہ اگر بروقت اقدامات کیے جائیں، جیسے کہ بہتر شہری منصوبہ بندی، جنگلات کی بحالی، اور ڈرینیج سسٹم کی مضبوطی، تو نقصانات کو نمایاں طور پر کم کیا جا سکتا ہے۔ حکومتی اداروں کو چاہیے کہ وہ مقامی کمیونٹیز کے ساتھ مل کر ایسی پالیسیاں بنائیں جو طویل مدتی تحفظ فراہم کریں۔ مزید برآں، عوام میں موسمیاتی تبدیلیوں کے بارے میں شعور اجاگر کرنا بھی ضروری ہے تاکہ لوگ خود کو اور اپنے املاک کو بہتر طور پر محفوظ بنا سکیں۔ یہ رپورٹ ایک جامع اور معلوماتی دستاویز ہے جو نہ صرف موجودہ صورتحال کو بیان کرتی ہے بلکہ مستقبل کے لیے ایک روڈ میپ بھی فراہم کرتی ہے۔





















