سیلاب متاثرین کےلئے منہاج ویلفیئر فائونڈیشن کا ریلیف آپریشن جاری

راشن،ادویات اور شیلٹرز کی فراہمی سے ہزاروں متاثرین مستفید ہو رہے ہیں

لاہور:ملک کے مختلف حصوں میں حالیہ بارشوں اور سیلاب کے باعث ہزاروں افراد متاثر ہوئے ہیں۔اس مشکل گھڑی میں منہاج ویلفیئر فائونڈیشن کی جانب سے شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری کی خصوصی ہدایات پرمتاثرہ علاقوں میں بڑے پیمانے پر امدادی سرگرمیاں جاری ہیں۔ڈائریکٹر آپریشنز منہاج ویلفیئر فائونڈیشن انجینئر ثنا اللہ خان نے کہا ہے کہ اب تک خیبر پختونخوا کے اضلاع بونیر، سوات، شانگلہ، لوئر دیر، باجوڑ،گلگت،سکردو،کشمیر اور مانسہرہ میں ہزاروں خاندانوں کو راشن بیگز،پینے کا صاف پانی،خیمے،پکا ہوا کھانا اور ضروری گھریلو اشیا فراہم کی جا چکی ہیں۔ادویات اور ابتدائی طبی امداد کےلئے متاثرہ علاقوں میں میڈیکل کیمپس بھی قائم کر دئے گئے ہیں،جہاں ماہر ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکل سٹاف متاثرین کو سہولیات فراہم کر رہے ہیں۔

انجینئر ثنا اللہ خان نے کہا ہے کہ منہاج ویلفیئر فائونڈیشن کے رضا کار کشتیوں اور ٹریکٹر ٹرالیوں کے ذریعے سیلاب زدہ علاقوں میں پہنچ رہے ہیں اور انہیں محفوظ مقامات پر منتقل بھی کر رہے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ کئی متاثرہ علاقوں میں عارضی شیلٹرز قائم کر کے بے گھر ہونے والے افراد کو چھت فراہم کی جا رہی ہے۔انہوں نے مزید کہاکہ منہاج ویلفیئر فائونڈیشن کے مرکزی عہدیداران ریلیف آپریشن کی نگرانی کر رہے ہیں تا کہ متاثرین کی بحالی کا عمل تیز ہو سکے۔انہوں نے کہاکہ متاثرین کی بحالی کا کام مرحلہ وار مکمل ہو گا اور کسی متاثرہ خاندان کو اکیلا نہیں چھوڑا جائے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ منہاج ویلفیئر فاؤنڈیشن کے رضاکار بونیر، سوات، شانگلہ، لوئر دیر، باجوڑ اور مانسہرہ میں دن رات موجود ہیں اور مقامی آبادی کے ساتھ مل کر خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ منہاج ویلفیئر فاؤنڈیشن پوری قوم سے اپیل کرتی ہے کہ وہ ریلیف سرگرمیوں میں بھرپور تعاون کریں تاکہ متاثرہ خاندانوں کو زندگی کی بنیادی سہولیات دوبارہ فراہم کی جا سکیں۔

روزنامہ تحریک کے سینئر صحافی نے تجزیہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان حالیہ برسوں میں شدید موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے دوچار ہے۔ بارشوں اور سیلابوں نے نہ صرف بڑے پیمانے پر انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچایا ہے بلکہ لاکھوں افراد کی زندگیوں کو براہِ راست متاثر کیا ہے۔ ایسے مشکل حالات میں فلاحی اداروں کا کردار قومی سطح پر انتہائی اہمیت اختیار کر جاتا ہے۔ اسی تناظر میں منہاج ویلفیئر فاؤنڈیشن کی حالیہ کاوشیں ایک روشن مثال کے طور پر سامنے آئی ہیں، جن کی قیادت شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری کی ہدایات کے تحت کی جا رہی ہے۔

اس بات میں کوئی شک نہیں کہ ریلیف کے عمل میں "وقت” سب سے زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔ متاثرین تک فوری امداد پہنچانے سے ان کی زندگیوں کو محفوظ بنایا جا سکتا ہے۔ منہاج ویلفیئر فاؤنڈیشن نے یہ ثابت کیا کہ ادارے کی انتظامی صلاحیتیں اور رضاکاروں کی مستعدی غیر معمولی ہے۔ خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، کشمیر اور مانسہرہ جیسے مشکل علاقوں تک امداد کی بروقت ترسیل اس بات کا ثبوت ہے کہ ادارہ صرف نعروں تک محدود نہیں بلکہ عملی میدان میں بھی سرگرم ہے۔

سیلاب متاثرین کے لیے سب سے بڑی مشکلات خوراک، پینے کے صاف پانی، رہائش اور طبی سہولیات کی کمی ہوتی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق منہاج ویلفیئر فاؤنڈیشن نے متاثرہ خاندانوں کو راشن بیگز، پکا ہوا کھانا، صاف پانی اور خیمے فراہم کیے۔ یہ اقدامات متاثرین کے دکھوں کو کم کرنے میں براہ راست مددگار ثابت ہو رہے ہیں۔ مزید یہ کہ میڈیکل کیمپس کے قیام سے بیماریوں کے پھیلاؤ کو روکنے اور متاثرہ افراد کو فوری علاج دینے کا انتظام کیا گیا، جو ایک بڑی کامیابی ہے۔

قدرتی آفات کے دوران سب سے بڑی طاقت انسانی جذبہ ہوتا ہے۔ خبر سے یہ بات واضح ہے کہ منہاج ویلفیئر فاؤنڈیشن کے رضاکار نہ صرف کشتیوں اور ٹریکٹروں کے ذریعے متاثرہ علاقوں میں پہنچ رہے ہیں بلکہ بے گھر افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کر کے عارضی شیلٹر بھی فراہم کر رہے ہیں۔ یہ عمل اس بات کی علامت ہے کہ ادارہ صرف امدادی سامان پہنچانے تک محدود نہیں بلکہ انسانوں کی جانیں بچانے اور انہیں نفسیاتی سہارا دینے میں بھی مصروف ہے۔

یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اگر ریلیف آپریشن میں نگرانی اور مربوط نظام نہ ہو تو امداد بکھر جاتی ہے اور کئی خاندان محروم رہ جاتے ہیں۔ منہاج ویلفیئر فاؤنڈیشن نے اپنے مرکزی عہدیداران کی براہِ راست نگرانی میں یہ ریلیف آپریشن جاری رکھا ہوا ہے۔ یہ انتظامی صلاحیت اس بات کو یقینی بناتی ہے کہ بحالی کے عمل میں شفافیت اور تیز رفتاری قائم رہے۔

منہاج ویلفیئر فاؤنڈیشن کی جانب سے قوم سے تعاون کی اپیل بھی ایک مثبت قدم ہے۔ کسی بھی بڑے قدرتی سانحے سے نمٹنے کے لیے صرف ایک ادارہ کافی نہیں ہوتا، بلکہ پوری قوم کو متحد ہو کر اپنا کردار ادا کرنا پڑتا ہے۔ اس اپیل کے ذریعے یہ پیغام دیا گیا ہے کہ سیلاب متاثرین صرف حکومت یا فلاحی اداروں کی نہیں بلکہ پوری قوم کی ذمہ داری ہیں۔

ایسی فلاحی سرگرمیاں نہ صرف متاثرہ خاندانوں کو سہارا دیتی ہیں بلکہ معاشرے میں امید اور یکجہتی کی فضا بھی پیدا کرتی ہیں۔ منہاج ویلفیئر فاؤنڈیشن کی یہ کاوشیں دیگر اداروں کے لیے بھی ایک نمونہ ہیں کہ کس طرح مشکلات کے وقت قوم کی خدمت کی جا سکتی ہے۔ یہ اقدامات دنیا کو بھی یہ پیغام دیتے ہیں کہ پاکستان کے عوام اور ادارے ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے ہیں اور اپنے مسائل سے خود نمٹنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین