پنجاب حکومت نے صوبے بھر میں صفائی کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے ’ستھرا پنجاب‘ پروگرام کے تحت ایک نئے کوڑا ٹیکس کا اعلان کر دیا ہے، جس کا باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری ہو چکا ہے۔ اس ٹیکس کا اطلاق ابتدائی طور پر صوبے کے پوش اور کمرشل علاقوں پر کیا گیا ہے، لیکن اسے جلد ہی دیگر علاقوں تک وسعت دی جائے گی۔ اس اقدام کا مقصد کوڑے کے موثر انتظام، صفائی کے نظام کی بہتری، اور صوبے کو صاف ستھرا بنانے کے لیے مالی وسائل اکٹھا کرنا ہے۔ لاہور ویسٹ مینجمنٹ کمپنی (LWMC) نے اس ٹیکس کے بلز کی تقسیم شروع کر دی ہے، اور اس کی وصولی کے لیے ریونیو اور آپریشنل ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں۔
کوڑا ٹیکس کی شرحیں: گھریلو اور کمرشل املاک
پنجاب کابینہ کی منظوری کے بعد جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق، کوڑا ٹیکس کو گھریلو اور کاروباری املاک کے سائز اور محل وقوع کی بنیاد پر مختلف سلیبز میں تقسیم کیا گیا ہے۔ شہری اور دیہی علاقوں کے لیے الگ الگ شرحیں مقرر کی گئی ہیں تاکہ مقامی حالات کے مطابق مناسب ٹیکس عائد کیا جا سکے۔
گھریلو املاک پر ٹیکس
شہری علاقوں میں رہائشی املاک پر کوڑا ٹیکس کی شرحیں درج ذیل ہیں:
5 مرلہ گھر: ماہانہ 300 روپے
5 سے 10 مرلہ گھر: ماہانہ 500 روپے
10 مرلہ سے 1 کنال گھر: ماہانہ 1,000 روپے
2 سے 4 کنال گھر: ماہانہ 2,000 روپے
4 کنال سے بڑے گھر: ماہانہ 5,000 روپے
دیہی علاقوں میں، جہاں صفائی کے اخراجات نسبتاً کم ہیں، ٹیکس کی شرحیں کم رکھی گئی ہیں:
5 سے 10 مرلہ گھر: ماہانہ 200 روپے
10 مرلہ سے 1 کنال گھر: ماہانہ 400 روپے
2 کنال سے بڑے گھر: ماہانہ 400 روپے
یہ شرحیں رہائشی املاک کے سائز کے تناسب سے عائد کی گئی ہیں، اور دیہی علاقوں میں یکساں کم شرح کا مقصد دیہی آبادی پر مالی بوجھ کو کم رکھنا ہے۔ تاہم، کچی آبادیوں کے مکینوں سے متعلق واضح ہدایات ابھی تک جاری نہیں کی گئی ہیں، جس سے کچھ ابہام پیدا ہوا ہے۔
کمرشل املاک پر ٹیکس
کاروباری مراکز اور دکانوں کے لیے بھی الگ سے ٹیکس کی شرحیں مقرر کی گئی ہیں، جو شہری اور دیہی علاقوں کے درمیان مختلف ہیں:
شہری علاقوں میں:
چھوٹی دکانیں: ماہانہ 500 روپے
درمیانے درجے کی دکانیں: ماہانہ 1,000 روپے
بڑے کاروباری مراکز (مثلاً پلازہ، فیکٹریاں، ورکشاپس): ماہانہ 3,000 روپے
دیہی علاقوں میں:
چھوٹی دکانیں: ماہانہ 300 روپے
درمیانے درجے کی دکانیں: ماہانہ 700 روپے
بڑے کاروباری مراکز: ماہانہ 2,000 روپے
یہ شرحیں کاروباری سرگرمیوں کے پیمانے اور ان سے پیدا ہونے والے کوڑے کی مقدار کو مدنظر رکھتے ہوئے ترتیب دی گئی ہیں۔ لاہور ویسٹ مینجمنٹ کمپنی کے ترجمان کے مطابق، یہ ٹیکس نہ صرف صفائی کے اخراجات پورے کرنے میں مدد دے گا بلکہ کوڑے کے جمع کرنے، ڈسپوزل، اور ری سائیکلنگ کے عمل کو بھی بہتر بنائے گا۔
لاہور سے آغاز
لاہور ویسٹ مینجمنٹ کمپنی نے صوبائی دارالحکومت کے نو ٹاؤنز میں کوڑا ٹیکس کے بلز کی تقسیم کا عمل شروع کر دیا ہے۔ ان بلز کی پرنٹنگ مکمل ہو چکی ہے، اور اگلے ہفتے سے شہریوں اور کاروباری اداروں تک یہ بلز پہنچنا شروع ہو جائیں گے۔ ترجمان LWMC کے مطابق، بلز کی ترسیل اور وصولی کے لیے ریونیو اور آپریشنل ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں، جو اس عمل کی نگرانی کریں گی۔ شہری بینکوں، آن لائن کیش ایپلی کیشنز، یا دیگر منظور شدہ ادائیگی کے ذرائع کے ذریعے یہ ٹیکس ادا کر سکیں گے۔
ابتدائی طور پر، یہ ٹیکس لاہور کے پوش علاقوں جیسے گلبرگ، ماڈل ٹاؤن، ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی، اور جوہر ٹاؤن میں نافذ کیا جا رہا ہے، جبکہ کمرشل علاقوں میں مال روڈ، لبرٹی مارکیٹ، اور ایم ایم عالم روڈ جیسے مقامات شامل ہیں۔ LWMC کے مطابق، اس پائلٹ پروجیکٹ کی کامیابی کے بعد اسے صوبے کے دیگر اضلاع، بشمول فیصل آباد، ملتان، راولپنڈی، اور گوجرانوالہ تک وسعت دی جائے گی۔
’ستھرا پنجاب‘ منصوبہ
’ستھرا پنجاب‘ منصوبہ، جس کے لیے 200 ارب روپے کا ابتدائی بجٹ مختص کیا گیا ہے، پنجاب کو صاف ستھرا بنانے اور جدید ویسٹ مینجمنٹ سسٹم متعارف کرانے کا ایک جامع پروگرام ہے۔ اس منصوبے کے تحت کوڑے کے جمع کرنے، اس کی چھانٹی، اور ری سائیکلنگ کے لیے جدید سہولیات قائم کی جائیں گی، جبکہ صفائی کے عمل کو پائیدار بنانے کے لیے مالی وسائل اکٹھے کیے جائیں گے۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ ٹیکس صوبے کے شہری اور دیہی علاقوں میں صفائی کے نظام کو مستحکم کرنے اور ماحولیاتی آلودگی کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔
صوبائی وزیر بلدیات ذیشان رفیق نے کہا کہ ’ستھرا پنجاب‘ پروگرام کا مقصد نہ صرف شہروں بلکہ دیہاتوں کو بھی صاف ستھرا بنانا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ یہ ٹیکس شہریوں کے لیے ایک ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے ماحول کو صاف رکھنے میں حصہ ڈالیں۔ تاہم، انہوں نے واضح کیا کہ اس ٹیکس سے جمع ہونے والی رقم صرف صفائی کے منصوبوں پر خرچ کی جائے گی، اور اس کی شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے ایک موثر مانیٹرنگ سسٹم قائم کیا جائے گا۔
عوامی ردعمل
کوڑا ٹیکس کے اعلان کے بعد سوشل میڈیا پر عوام کے ملا جلا ردعمل سامنے آئے ہیں۔ کچھ شہریوں نے اس اقدام کی حمایت کی، یہ کہتے ہوئے کہ اگر اس سے صفائی کا نظام بہتر ہوتا ہے تو یہ ایک مثبت قدم ہے۔ ایک ایکس صارف نے لکھا کہ ’اگر یہ پیسے واقعی صفائی پر خرچ ہوں گے تو ہمیں کوئی اعتراض نہیں، لیکن شفافیت ضروری ہے۔‘ دوسری جانب، کچھ شہریوں نے اس ٹیکس کو اضافی مالی بوجھ قرار دیتے ہوئے تنقید کی۔ ایک صارف نے تبصرہ کیا کہ ’پہلے ہی ٹیکسز کی بھرمار ہے، اب کوڑا ٹیکس الگ سے؟ حکومت کو پہلے موجودہ وسائل سے کام کرنا چاہیے۔‘
خاص طور پر چھوٹے کاروباری افراد اور دیہی علاقوں کے رہائشیوں نے اس ٹیکس پر تحفظات کا اظہار کیا ہے، کیونکہ ان کے خیال میں ان کے علاقوں میں صفائی کا نظام ویسے ہی ناکافی ہے۔ لاہور کے ایک دکاندار نے کہا کہ ’ہم پہلے ہی میونسپل ٹیکس ادا کرتے ہیں، لیکن گلیوں میں کوڑا پڑا رہتا ہے۔ یہ نیا ٹیکس کیوں؟‘
پس منظر
پنجاب، جو پاکستان کا سب سے گنجان آباد صوبہ ہے، طویل عرصے سے کوڑے کے انتظام اور صفائی کے مسائل سے دوچار ہے۔ لاہور، راولپنڈی، اور فیصل آباد جیسے شہروں میں کچرے کے ڈھیر، ناقص نکاسی آب، اور غیر موثر ویسٹ مینجمنٹ سسٹم نے ماحولیاتی اور صحت عامہ کے مسائل کو جنم دیا ہے۔ حالیہ برسوں میں ڈینگی، ملیریا، اور دیگر بیماریوں کے پھیلاؤ نے صفائی کے نظام کی بہتری کو ناگزیر بنا دیا ہے۔ راولپنڈی میں ڈینگی کے بڑھتے ہوئے کیسز اور مون سون کے دوران اربن فلڈنگ نے بھی اس ضرورت کو اجاگر کیا ہے۔
’ستھرا پنجاب‘ پروگرام سے قبل، پنجاب حکومت نے صفائی کے لیے متعدد اقدامات کیے، لیکن مالی وسائل کی کمی اور ادارہ جاتی نااہلی نے ان کی کامیابی کو محدود کر دیا۔ 2024 میں لاہور ویسٹ مینجمنٹ کمپنی نے عید کے موقع پر ’صاف عید‘ مہم شروع کی تھی، جسے شہریوں نے سراہا، لیکن اس کے باوجود شہری علاقوں میں کوڑے کے ڈھیر ایک مستقل مسئلہ رہے ہیں۔ نئے ٹیکس کے ذریعے حکومت اس مسئلے کو مستقل طور پر حل کرنے کی کوشش کر رہی ہے، لیکن اس کی کامیابی کا انحصار شفافیت اور موثر عمل درآمد پر ہے۔
پنجاب حکومت کا ’ستھرا پنجاب‘ پروگرام کے تحت کوڑا ٹیکس کا نفاذ ایک اہم قدم ہے، جو صوبے کے صفائی کے نظام کو بہتر بنانے کی طرف ایک مثبت پیش رفت دکھائی دیتا ہے۔ شہری اور دیہی علاقوں کے لیے مختلف شرحیں رکھنا ایک حقیقت پسندانہ نقطہ نظر ہے، کیونکہ اس سے دیہی علاقوں پر غیر ضروری مالی بوجھ کم ہوتا ہے۔ تاہم، اس ٹیکس کے نفاذ سے قبل کئی چیلنجز کو حل کرنا ضروری ہے۔
سب سے پہلے، شہریوں میں اس ٹیکس کے حوالے سے عدم اعتماد واضح ہے، کیونکہ ماضی میں ایسی کئی مہمات ناکام ہو چکی ہیں۔ لاہور اور دیگر شہروں میں صفائی کے ناقص حالات، جیسے کہ گلیوں میں کوڑے کے ڈھیر اور ناقص نکاسی آب، شہریوں کے تحفظات کو جائز بناتے ہیں۔ حکومت کو یہ یقینی بنانا ہوگا کہ اس ٹیکس سے جمع ہونے والی رقم شفاف طریقے سے صرف صفائی کے منصوبوں پر خرچ ہو، اور اس کی نگرانی کے لیے ایک آزاد آڈٹ سسٹم قائم کیا جائے۔
دوسرا، چھوٹے کاروباری افراد اور دیہی علاقوں کے رہائشیوں کے تحفظات کو دور کرنے کے لیے حکومت کو آگاہی مہمات چلانی چاہئیں، جن میں اس ٹیکس کے فوائد اور اس سے صفائی کے نظام میں بہتری کے منصوبوں کی وضاحت کی جائے۔ اس کے علاوہ، کچی آبادیوں جیسے کم آمدنی والے علاقوں کو اس ٹیکس سے مستثنیٰ رکھنے یا ان کے لیے سبسڈی فراہم کرنے کی ضرورت ہے، کیونکہ یہ علاقے پہلے ہی بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔
تیسرا، لاہور ویسٹ مینجمنٹ کمپنی کی کارکردگی پر کڑی نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔ ماضی میں ایل ڈبلیو ایم سی کی کارکردگی پر تنقید ہوتی رہی ہے، اور اگر اس ٹیکس کے نفاذ کے بعد بھی صفائی کے حالات بہتر نہ ہوئے تو عوام کا اعتماد مزید کم ہوگا۔ جدید ویسٹ مینجمنٹ ٹیکنالوجیز، جیسے کہ ری سائیکلنگ پلانٹس اور ایکو فرینڈلی ڈسپوزل سسٹمز، کو متعارف کرانا بھی اس منصوبے کی کامیابی کے لیے ناگزیر ہے۔
آخر میں، یہ ٹیکس نہ صرف مالی وسائل فراہم کرے گا بلکہ شہریوں میں ماحولیاتی ذمہ داری کا شعور بھی اجاگر کر سکتا ہے۔ اگر حکومت اس موقع کو درست طریقے سے استعمال کرتی ہے تو ’ستھرا پنجاب‘ پروگرام پنجاب کو نہ صرف صاف ستھرا بلکہ صحت مند اور پائیدار صوبہ بنا سکتا ہے۔ تاہم، اس کے لیے شفافیت، ادارہ جاتی صلاحیت، اور عوامی تعاون کے امتزاج کی ضرورت ہے۔ اگر یہ ٹیکس صرف ایک اور مالی بوجھ بن کر رہ گیا، تو یہ نہ صرف عوام کے اعتماد کو نقصان پہنچائے گا بلکہ صفائی کے نظام کی بہتری کے ہدف کو بھی غیر موثر بنا دے گا۔





















