جمرود پولیس کی بڑی کامیابی، موٹر کار سے 5 کلو ہیروئن برآمد

گرفتار ملزم سے منشیات کی سمگلنگ کے نیٹ ورک کے بارے میں اہم معلومات حاصل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے

عبدالاعظم شینواری) خیبر پختونخوا کے ضلع خیبر کے علاقے جمرود میں پولیس نے منشیات سمگلنگ کے خلاف ایک بڑی کارروائی کرتے ہوئے ایک موٹر کار سے 5 کلوگرام اعلیٰ معیار کی آئس (کرسٹل میتھ) برآمد کر لی ہے۔ اس کامیاب آپریشن کے دوران ایک ملزم کو گرفتار کر کے اس کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ پولیس حکام نے منشیات فروشوں کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی پر سختی سے عمل درآمد کا عزم دہرایا ہے۔

خصوصی ناکہ بندی

جمرود پولیس نے خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر علاقہ سورکمر میں ایک خصوصی ناکہ بندی کا اہتمام کیا۔ یہ آپریشن ایس ایچ او جمرود نسیم خان کی براہ راست نگرانی اور ایڈیشنل ایس ایچ او بخت منیر کی قیادت میں انجام دیا گیا۔ پولیس ذرائع کے مطابق، ناکہ بندی کے دوران ایک مشتبہ موٹر کار کو روک کر اس کی مکمل تلاشی لی گئی۔ تلاشی کے دوران گاڑی سے 5 کلوگرام آئس برآمد ہوئی، جو کہ ایک انتہائی خطرناک اور اعلیٰ قیمت کی منشیات ہے۔

پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے گاڑی میں موجود ملزم سید نبی ولد قدم خیل، ساکن ریکالے جمرود کو حراست میں لے لیا۔ ملزم کے خلاف تھانہ جمرود میں انسداد منشیات ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا ہے، اور مزید تفتیش جاری ہے۔ پولیس ذرائع نے بتایا کہ گرفتار ملزم سے منشیات کی سمگلنگ کے نیٹ ورک کے بارے میں اہم معلومات حاصل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے تاکہ اس غیر قانونی دھندے کے دیگر سہولت کاروں کو بھی قانون کے کٹہرے میں لایا جا سکے۔

پولیس کا عزم

ایس ایچ او جمرود نسیم خان نے اس کارروائی کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ منشیات فروشوں کے خلاف پولیس کی زیرو ٹالرنس پالیسی پر سختی سے عمل کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ منشیات کا دھندہ کرنے والوں کو کسی صورت معاف نہیں کیا جائے گا، اور ایسے عناصر کو قانون کے دائرے میں لا کر سخت سے سخت سزا دلائی جائے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ پولیس عوام کے جان و مال کی حفاظت کے ساتھ ساتھ معاشرے کو منشیات کی لعنت سے پاک کرنے کے لیے ہمہ وقت مصروف عمل ہے۔

نسیم خان نے عوام سے اپیل کی کہ وہ منشیات کی سمگلنگ یا فروخت سے متعلق کسی بھی مشکوک سرگرمی کی اطلاع فوری طور پر پولیس کو دیں تاکہ بروقت کارروائی کی جا سکے۔ انہوں نے مقامی کمیونٹی کے تعاون کو اس جنگ میں کلیدی اہمیت کا حامل قرار دیا۔

منشیات کا بڑھتا ہوا خطرہ

خیبر پختونخوا، خاص طور پر ضلع خیبر، اپنی جغرافیائی حیثیت کی وجہ سے منشیات کی سمگلنگ کے لیے ایک اہم گزرگاہ سمجھا جاتا ہے۔ افغانستان سے ملحقہ سرحدی علاقوں کی نزدیکی نے اسے منشیات کے غیر قانونی کاروبار کے لیے حساس بنا دیا ہے۔ حالیہ برسوں میں آئس (کرسٹل میتھ) کی طلب میں اضافے نے اسے منشیات فروشوں کے لیے ایک منافع بخش کاروبار بنا دیا ہے۔ یہ منشیات نہ صرف صحت کے لیے انتہائی مضر ہے بلکہ اس سے معاشرتی اور معاشی مسائل بھی جنم لیتے ہیں، خاص طور پر نوجوان نسل اس کی لت کا شکار ہو رہی ہے۔

پولیس ذرائع کے مطابق، 5 کلوگرام آئس کی بین الاقوامی مارکیٹ میں قیمت لاکھوں روپے تک ہو سکتی ہے، جو اس کارروائی کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے۔ اس سے قبل بھی خیبر پولیس نے متعدد کامیاب آپریشنز کے ذریعے منشیات کی سمگلنگ کے نیٹ ورکس کو توڑنے کی کوشش کی ہے، لیکن یہ خطرہ اب بھی موجود ہے۔

عوامی ردعمل

اس کامیاب کارروائی کے بعد سوشل میڈیا پر مقامی لوگوں نے جمرود پولیس کی کارکردگی کی تعریف کی ہے۔ ایک ایکس صارف نے لکھا کہ ’جمرود پولیس نے منشیات فروشوں کے خلاف بڑی کارروائی کر کے ایک عظیم کام کیا ہے۔ یہ ہمارے معاشرے کو صاف رکھنے کی طرف ایک اہم قدم ہے۔‘ تاہم، کچھ صارفین نے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا کہ منشیات کے بڑے نیٹ ورکس کے خلاف کارروائیوں کو مزید تیز کرنے کی ضرورت ہے، کیونکہ گرفتار ملزم اکثر بڑے سہولت کاروں تک رسائی فراہم نہیں کر پاتے۔

مقامی رہائشیوں نے پولیس سے مطالبہ کیا ہے کہ سرحدی علاقوں میں منشیات کی روک تھام کے لیے مزید ناکہ بندیاں اور سرچ آپریشنز کیے جائیں۔ ایک صارف نے تبصرہ کیا کہ ’منشیات ہمارے نوجوانوں کو تباہ کر رہی ہیں، پولیس کو ان بڑے مافیاز کو پکڑنا چاہیے جو اس کاروبار کے اصل سرغنہ ہیں۔‘

پس منظر

خیبر پختونخوا پولیس نے حالیہ برسوں میں منشیات کے خلاف اپنی کارروائیوں کو تیز کیا ہے۔ اگست 2025 میں پشاور میں کاؤنٹر ٹیررزم ڈیپارٹمنٹ نے دہشت گردی اور منشیات کی سمگلنگ میں ملوث ایک گروہ کو گرفتار کیا تھا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ منشیات کا کاروبار بعض اوقات دہشت گردی کے نیٹ ورکس سے بھی جڑا ہوتا ہے۔ اسی طرح، تھرپارکر پولیس نے بھی منشیات فروشوں کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے 100 لیٹر شراب اور دیگر منشیات برآمد کی تھیں۔

جمرود پولیس کی حالیہ کارروائی اس سلسلے کی ایک اہم کڑی ہے، جو خطے میں منشیات کے بڑھتے ہوئے خطرے سے نمٹنے کے لیے پولیس کے عزم کو ظاہر کرتی ہے۔ تاہم، سرحدی علاقوں میں منشیات کی سمگلنگ کے نیٹ ورکس کی پیچیدگی اور ان کے بین الاقوامی روابط اس جنگ کو مزید مشکل بنا رہے ہیں۔

جمرود پولیس کی اس کامیاب کارروائی سے ظاہر ہوتا ہے کہ خیبر پختونخوا پولیس منشیات کے خلاف جنگ میں سنجیدہ ہے۔ 5 کلوگرام آئس کی برآمدگی نہ صرف ایک بڑی کامیابی ہے بلکہ اس سے منشیات کے نیٹ ورک کو بھی شدید دھچکا پہنچا ہے۔ ایس ایچ او نسیم خان اور ایڈیشنل ایس ایچ او بخت منیر کی قیادت میں کی گئی اس کارروائی سے پولیس کی پیشہ ورانہ صلاحیت اور خفیہ اطلاعات پر مبنی آپریشنز کی اہمیت واضح ہوتی ہے۔

تاہم، یہ کارروائی صرف ایک ابتدائی قدم ہے۔ منشیات کی سمگلنگ کے بڑے نیٹ ورکس، جو اکثر سرحدی علاقوں سے آپریٹ کرتے ہیں، کو مکمل طور پر ختم کرنے کے لیے مزید وسائل، تربیت، اور بین الاقوامی تعاون کی ضرورت ہے۔ خیبر کی جغرافیائی حساسیت کے پیش نظر، اسے منشیات کی سمگلنگ کے لیے ایک اہم گزرگاہ کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے، اور اس سے نمٹنے کے لیے ایک جامع حکمت عملی ناگزیر ہے۔

دوسری جانب، عوام کا تعاون اس جنگ میں کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے۔ پولیس کی جانب سے عوام سے معلومات فراہم کرنے کی اپیل ایک مثبت اقدام ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ مقامی کمیونٹی میں منشیات کے نقصانات سے متعلق آگاہی مہمات کو بھی تیز کرنا ہوگا۔ خاص طور پر نوجوانوں کو اس لعنت سے بچانے کے لیے تعلیمی اداروں اور مساجد کے ذریعے مہمات چلائی جا سکتی ہیں۔

مزید برآں، اس کارروائی سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ منشیات کے خلاف جنگ صرف پولیس کا کام نہیں بلکہ ایک اجتماعی ذمہ داری ہے۔ حکومتی اداروں، سول سوسائٹی، اور میڈیا کو مل کر اسے ایک قومی ایجنڈے کے طور پر اپنانا ہوگا۔ اگر اس طرح کی کارروائیاں جاری رہیں اور بڑے نیٹ ورکس تک رسائی حاصل کی جائے تو خیبر پختونخوا کو منشیات کی لعنت سے پاک کرنے کا خواب حقیقت بن سکتا ہے۔

آخر میں، جمرود پولیس کی اس کارروائی نے نہ صرف ایک ملزم کو گرفتار کیا بلکہ معاشرے کو ایک سنگین خطرے سے بچانے کی طرف ایک اہم قدم اٹھایا ہے۔ اسے جاری رکھنے کے لیے پولیس کو وسائل، عوامی تعاون، اور ادارہ جاتی استحکام کی ضرورت ہے تاکہ منشیات فروشوں کے خلاف یہ جنگ فیصلہ کن فتح تک پہنچ سکے۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین