ٹرمپ نے کیا کہہ کر پاک بھارت جنگ رکوائی ،اہم پریس کانفرنس

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ایک بار پھر پاک بھارت تنازع پر بات کی اور غزہ کی صورتحال پر بھی سوالات کا جواب دیا۔

پاک بھارت تنازع کی تفصیلات کا تذکرہ

عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق، پاک بھارت تنازع کا ایک بار پھر تذکرہ کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ اس تنازع میں 7 طیارے گرائے گئے تھے اور جوہری جنگ بھی شروع ہو سکتی تھی۔

تجارت کی دھمکی سے تنازع روکنے کا دعویٰ

صدر ٹرمپ نے کہا کہ اس موقع پر میں نے مداخلت کی اور تجارت کے بدلے مدد کرکے پاک بھارت تنازع روکا۔ میں نے صاف کہا اگر تم لوگ لڑتے رہو گے تو میں تجارت نہیں کروں گا۔

دنیا بھر میں 7 جنگیں روکنے کا فخریہ اعلان

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فخریہ انداز میں کہا کہ میں نے دنیا بھر میں 7 جنگیں روکیں جن میں پاک بھارت تنازع بھی شامل ہے۔

غزہ اسپتال حملے پر رد عمل

غزہ میں اسپتال پر اسرائیلی بمباری میں 5 صحافیوں کے جاں بحق ہونے پر صدر ٹرمپ نے کہا کہ غزہ میں اسپتال پر اسرائیلی بمباری کے بارے میں مجھے کوئی علم نہیں البتہ اب غزہ میں جنگ بند ہونی چاہیئے۔

غزہ کی صورتحال پر مزید تبصرہ

انہوں نے مزید کہا کہ میں اس پر خوش نہیں ہوں، یہ منظر دوبارہ نہیں دیکھنا چاہتا۔ امن کی طرف جانا چاہیے۔

امریکی پرچم کی توہین پر تشویش

صدر ٹرمپ نے کہا کہ دنیا بھر میں امریکی پرچم نذر آتش کیا جا رہا ہے اور اسے آزادی اظہار کہا جا رہا ہے۔ یہ اب بند ہونا چاہیے۔

ایران آپریشن کی کامیابی کا دعویٰ

صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران میں آپریشن کے دوران ہر میزائل نشانے پر لگا، ہم نے ایران کو ایٹمی ہتھیار بنانے سے روکا۔

تجزیہ اور پس منظر

یہ رپورٹ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی وائٹ ہاؤس پریس کانفرنس کو ایک مثبت اور امید افزا زاویے سے پیش کرتی ہے، جہاں انہوں نے عالمی تنازعات پر اپنے کردار کو اجاگر کیا۔ خوش آئند پہلو یہ ہے کہ ٹرمپ کی جانب سے پاک بھارت تنازع کو روکنے کا دعویٰ، اگرچہ بھارتی حکام کی جانب سے مسترد کیا جائے، مگر یہ ظاہر کرتا ہے کہ امریکہ کی سفارتی اور تجارتی دباؤ کی حکمت عملی نے ممکنہ جوہری خطرے کو روکا، جو کہ ایک بڑی سفارتی کامیابی ہو سکتی ہے۔ ٹرمپ کا یہ بیان کہ انہوں نے 7 جنگیں روکیں، بشمول ایران کے جوہری پروگرام کو روکنے کا، ایک فعال قیادت کی عکاسی کرتا ہے، جو عالمی استحکام کو ترجیح دے رہی ہے۔ غزہ کی صورتحال پر ان کا ردعمل، جہاں انہوں نے جنگ ختم کرنے کی اپیل کی، امن کی طرف ایک قدم ہے، خاص طور پر اسرائیلی حملے میں صحافیوں کی ہلاکت جیسے حساس معاملے پر۔ امریکی پرچم کی توہین پر ان کی تشویش قومی اتحاد کو مضبوط کرنے کی کوشش ہے، جو کہ ایک ذمہ دارانہ رویہ دکھاتی ہے۔ مجموعی طور پر، یہ بیانات ٹرمپ کی خارجہ پالیسی کی جرات مندانہ حکمت عملی کو ظاہر کرتے ہیں، جو تنازعات کو روکنے میں کامیاب ہوئی ہے، اور اگرچہ کچھ دعوے متنازع ہیں، مگر یہ امید دیتے ہیں کہ مزید سفارتی کوششوں سے عالمی امن کو یقینی بنایا جا سکتا ہے۔
پس منظر کے حوالے سے، ٹرمپ کی دوسری مدت صدارت (2025) میں پاک بھارت تنازع مئی 2025 میں شروع ہوا، جہاں بھارتی کشمیر میں دہشت گرد حملے کے بعد آپریشن سندور کے تحت بھارتی فضائیہ نے پاکستانی علاقوں میں حملے کیے، جس کے نتیجے میں 7 طیارے گرائے گئے (بھارتی دعوے کے مطابق 5 پاکستانی اور 1 نگرانی طیارہ)۔ ٹرمپ نے تجارت کی دھمکی دے کر 24 گھنٹوں میں سیز فائر کا اعلان کیا، مگر بھارت نے اسے دوطرفہ فوجی بات چیت قرار دیا۔ غزہ کی صورتحال 2023 سے جاری اسرائیل-حماس جنگ کا حصہ ہے، جہاں ناصر ہسپتال پر 25 اگست 2025 کو اسرائیلی حملے میں 5 صحافی ہلاک ہوئے، جو 22 ماہ کی جنگ میں صحافیوں کی ہلاکتوں کی تعداد کو 200 تک پہنچا دیا۔ ٹرمپ نے جنگ ختم کرنے کی اپیل کی، جو ان کی سفارتی کوششوں کا حصہ ہے۔ امریکی پرچم کی توہین پر ٹرمپ کا ردعمل 25 اگست 2025 کے ایگزیکٹو آرڈر سے جڑا ہے، جو سپریم کورٹ کے 1989 کے فیصلے (ٹیکساس بمقابلہ جونسن) کی خلاف ورزی کرتا ہے، جو پرچم جلانے کو آزادی اظہار قرار دیتا ہے، مگر ٹرمپ نے اسے تشدد بھڑکانے والا قرار دیا۔ ایران آپریشن جون 2025 میں ہوا، جہاں امریکی B-2 بمبارز اور ٹوماہاک میزائلوں نے فورڈو، ناتانز اور اصفہان پر حملے کیے، جو ایران کے جوہری پروگرام کو روکنے کی کوشش تھی۔ ابتدائی رپورٹس کے مطابق حملے نے پروگرام کو مہینوں پیچھے دھکیل دیا، مگر مکمل تباہی نہیں کی، اور ٹرمپ نے اسے کامیاب قرار دیا۔ یہ سب ٹرمپ کی "امریکہ پہلے” پالیسی کا حصہ ہے، جو 2018 کے جوہری معاہدے سے نکلنے کے بعد سے جاری ہے، اور اب نئی بات چیت کی کوششوں کا نتیجہ ہے۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین