کریانہ سٹورز رات دیر تک کھلیں رہیں گے،حکومت کا نیا فیصلہ

اس فیصلے کے تحت نہ صرف کاروباری سرگرمیوں کو سہارا ملے گا بلکہ عام شہریوں کو بھی خریداری میں مزید آسانی میسر آئے گی

لاہور(خصوصی رپورٹ:رمیض حسین)حکومت نے چھوٹے دکانداروں اور کریانہ سٹورز کی مشکل کو سمجھتے ہوئے ایک اہم اور خوش آئند فیصلہ کیا ہے۔ اس فیصلے کے تحت نہ صرف کاروباری سرگرمیوں کو سہارا ملے گا بلکہ عام شہریوں کو بھی خریداری میں مزید آسانی میسر آئے گی، جو اس اقدام کو مزید قابلِ توجہ اور عوام دوست بناتا ہے۔

نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کی زیر صدارت فیول کنزرویشن اور کفایت شعاری اقدامات کے نفاذ اور نگرانی سے متعلق کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا۔

اجلاس میں مختلف وزارتوں کی جانب سے پیش کی گئی استثنیٰ کی درخواستوں اور بچت سے متعلق اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

اجلاس کے دوران فیصلہ کیا گیا کہ وزارتِ خارجہ اور اس کے کوئٹہ، کراچی، لاہور، پشاور اور گجرات میں قائم رابطہ دفاتر میں قونصلر اٹیسیٹیشن سروسز عوامی سہولت کے پیش نظر ہر جمعے کے روز بھی دستیاب رہیں گی۔

کمیٹی نے یہ سفارش بھی منظور کی کہ 13 جون 2026 کو ختم ہونے والے اضافی کفایت شعاری اقدامات کی مدت میں توسیع کرتے ہوئے انہیں 30 جون 2026 تک جاری رکھا جائے۔

مزید فیصلہ کیا گیا کہ ملک بھر میں موجود چھوٹے گروسری اور کریانہ سٹورز کو رات 10 بجے تک کھلا رکھنے کی اجازت ہوگی، اور یہ سہولت ہفتہ اور اتوار سمیت پورے ہفتے کے دوران برقرار رہے گی۔

اجلاس میں وزیر پیٹرولیم، وزیر موسمیاتی تبدیلی، وزیر آئی ٹی و ٹیلی کام، وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے خزانہ، نائب وزیراعظم کے معاون خصوصی سمیت کابینہ ڈویژن، وزارتِ تجارت، وزارتِ پیٹرولیم اور وزارتِ آئی ٹی کے سیکرٹریز اور دیگر اعلیٰ حکام نے بھی شرکت کی۔

روزنامہ تحریک کے سینئر صحافی نے تجزیہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ اجلاس بظاہر ایک روٹین حکومتی مشق معلوم ہوتا ہے، لیکن درحقیقت یہ ملک میں جاری معاشی دباؤ، توانائی بحران اور کفایت شعاری پالیسی کے عملی نفاذ کی سمت ایک اہم قدم کی نشاندہی کرتا ہے۔ حکومت کی جانب سے جو فیصلے سامنے آئے ہیں، وہ اس بات کا واضح اظہار ہیں کہ ریاستی پالیسی اب محض اخراجات کم کرنے تک محدود نہیں رہی بلکہ اسے عوامی سہولت کے ساتھ جوڑنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

سب سے نمایاں پہلو گروسری اور کریانہ سٹورز کے اوقات کار میں توسیع ہے۔ عام طور پر توانائی بچت کے اقدامات کے دوران کاروباری سرگرمیوں کو محدود کیا جاتا ہے، لیکن اس فیصلے میں ایک متوازن حکمت عملی دکھائی دیتی ہے۔ چھوٹے دکانداروں اور روزمرہ خریداروں کے لیے رات 10 بجے تک دکانیں کھلی رکھنے کی اجازت نہ صرف معاشی سرگرمی کو سہارا دے گی بلکہ عام شہریوں کو بھی سہولت فراہم کرے گی، خاص طور پر ان علاقوں میں جہاں لوگ دن کے اوقات میں مصروف رہتے ہیں۔

اسی طرح وزارتِ خارجہ کے رابطہ دفاتر میں جمعہ کے روز بھی قونصلر خدمات کی دستیابی ایک عملی اور عوام دوست اقدام ہے۔ اس سے ان افراد کو فائدہ ہوگا جو ورکنگ ڈیز یا محدود وقت کی وجہ سے سرکاری خدمات تک رسائی میں مشکلات کا سامنا کرتے ہیں۔ یہ فیصلہ سرکاری نظام میں لچک پیدا کرنے کی ایک کوشش کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔

کفایت شعاری اقدامات کی مدت میں توسیع اس بات کی علامت ہے کہ حکومت ابھی بھی مالی نظم و ضبط کو برقرار رکھنے کے لیے اضافی وقت چاہتی ہے۔ پاکستان جیسے ملک میں جہاں مالی خسارہ اور قرضوں کا دباؤ مسلسل بڑھ رہا ہے، ایسے اقدامات وقتی ریلیف کے بجائے طویل المدتی مالی حکمت عملی کا حصہ ہونے چاہئیں۔ تاہم یہ بھی ضروری ہے کہ یہ اقدامات صرف علامتی نہ رہیں بلکہ عملی سطح پر حقیقی بچت کا باعث بنیں۔

اجلاس میں مختلف وزارتوں کی اعلیٰ سطحی شرکت اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ حکومت اس معاملے کو بین الوزارتی ہم آہنگی کے ساتھ آگے بڑھا رہی ہے۔ توانائی، خزانہ، آئی ٹی اور موسمیاتی تبدیلی جیسے اہم شعبوں کی موجودگی یہ ظاہر کرتی ہے کہ کفایت شعاری کو صرف مالی نہیں بلکہ ماحولیاتی اور انتظامی پالیسی کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے۔

مجموعی طور پر یہ فیصلے ایک متوازن پالیسی فریم ورک کی طرف اشارہ کرتے ہیں جس میں ایک طرف اخراجات میں کمی اور توانائی بچت کو ترجیح دی جا رہی ہے، تو دوسری طرف عوامی سہولت اور معاشی سرگرمی کو بھی مدنظر رکھا گیا ہے۔ اگر ان فیصلوں پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنایا جائے تو یہ اقدامات معیشت پر مثبت اثرات ڈال سکتے ہیں اور حکومتی نظام پر عوامی اعتماد میں بھی اضافہ کر سکتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین