ہربھجن کی سری سانتھ کو تھپڑ مارنے کی نایاب ویڈیو 17 برس بعد وائرل

تحقیقات کے بعد، ہربھجن سنگھ کو آئی پی ایل کے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کا مرتکب پایا گیا

کرکٹ کی دنیا میں ایک بار پھر 17 سال پرانا تنازع سرخیوں میں آ گیا ہے۔ بھارتی کرکٹر ہربھجن سنگھ کی جانب سے سری سانتھ کو تھپڑ مارنے کی ایک غیر ترمیم شدہ ویڈیو، جو 2008 کے انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) کے ایک میچ کے بعد کی ہے، سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی ہے۔ یہ ویڈیو آئی پی ایل کے بانی اور سابق چیئرمین للت مودی نے جاری کی، جس نے کرکٹ شائقین اور تجزیہ کاروں میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ یہ رپورٹ اس واقعے کی تفصیلات، للت مودی کے انکشافات، اور اس کے پس منظر پر روشنی ڈالتی ہے، جو کرکٹ کی تاریخ کے ایک متنازع لمحے کو دوبارہ زندہ کر رہا ہے۔

واقعے کا پس منظر

یہ واقعہ 25 اپریل 2008 کو ممبئی انڈینز اور کنگز الیون پنجاب (اب پنجاب کنگز) کے درمیان موہالی میں کھیلے گئے ایک آئی پی ایل میچ کے بعد پیش آیا۔ میچ کے اختتام پر، جب کھلاڑی روایتی طور پر ایک دوسرے سے ہاتھ ملا رہے تھے، ہربھجن سنگھ اور سری سانتھ کے درمیان تلخ کلامی ہوئی، جو ہاتھا پائی تک جا پہنچی۔ اطلاعات کے مطابق، ہربھجن نے سری سانتھ کو تھپڑ مار دیا، جس کی وجہ سے سری سانتھ روتے ہوئے گراؤنڈ سے باہر چلے گئے۔ اس وقت یہ واقعہ کرکٹ کی دنیا میں ایک بڑا تنازع بن گیا تھا، کیونکہ آئی پی ایل اپنے ابتدائی سالوں میں شہرت حاصل کر رہا تھا۔

تاہم، اس واقعے کی کوئی مصدقہ ویڈیو فوٹیج اس وقت منظر عام پر نہیں آئی تھی، اور شائقین صرف میڈیا رپورٹس اور عینی شاہدین کے بیانات پر انحصار کر رہے تھے۔ اب، 17 سال بعد، للت مودی نے اس واقعے کی ایک غیر ترمیم شدہ ویڈیو شیئر کی ہے، جس نے کرکٹ کے شائقین کو حیرت میں ڈال دیا ہے۔

للت مودی کا انکشاف

’بیونڈ 23 کرکٹ پوڈ کاسٹ‘ پر سابق آسٹریلوی کپتان مائیکل کلارک کے ساتھ گفتگو کے دوران، للت مودی نے اس تاریخی واقعے کی ویڈیو شیئر کی۔ انہوں نے بتایا کہ میچ کے بعد کھلاڑیوں کے ہاتھ ملانے کے دوران ہربھجن سنگھ نے سری سانتھ پر ہاتھ اٹھایا، جو کہ ایک غیر پیشہ ورانہ اور غیر متوقع عمل تھا۔ للت مودی نے کہا کہ اس واقعے کے فوراً بعد انہوں نے دونوں کھلاڑیوں کو طلب کیا اور معاملے کی تحقیقات کیں۔

تحقیقات کے بعد، ہربھجن سنگھ کو آئی پی ایل کے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کا مرتکب پایا گیا، اور ان پر 8 میچوں کی پابندی عائد کی گئی۔ اس کے علاوہ، ہربھجن کی میچ فیس کا ایک بڑا حصہ جرمانے کے طور پر کاٹا گیا، اور وہ اس سیزن کے بقیہ میچز سے باہر ہو گئے۔ للت مودی نے پوڈ کاسٹ میں کہا، ’’یہ ایک افسوسناک لمحہ تھا، لیکن ہمیں کھیل کی ساکھ کو برقرار رکھنے کے لیے سخت فیصلہ کرنا پڑا۔‘‘

ویڈیو کا وائرل

17 سال بعد اس ویڈیو کے منظر عام پر آنے سے سوشل میڈیا، خاص طور پر ایکس، پر ایک ہلچل مچ گئی ہے۔ ویڈیو میں ہربھجن سنگھ کو سری سانتھ کے قریب جاتے اور ان پر ہاتھ اٹھاتے دیکھا جا سکتا ہے، جس کے بعد سری سانتھ جذباتی انداز میں گراؤنڈ سے نکلتے ہیں۔ ایکس پر ایک صارف نے لکھا، ’’یہ ویڈیو دیکھ کر حیرت ہوئی کہ آئی پی ایل جیسے بڑے ایونٹ میں اس طرح کا واقعہ ہوا۔ ہربھجن کا یہ عمل ناقابلِ قبول تھا۔‘‘

ایک اور صارف نے تبصرہ کیا، ’’للت مودی نے اس ویڈیو کو اب کیوں جاری کیا؟ کیا اس کے پیچھے کوئی سیاسی یا ذاتی ایجنڈا ہے؟‘‘ کچھ شائقین نے ہربھجن کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک جذباتی لمحہ تھا، اور ہربھجن نے بعد میں سری سانتھ سے معافی مانگ لی تھی۔ تاہم، زیادہ تر صارفین نے اس واقعے کو کرکٹ کی روح کے منافی قرار دیا۔

واقعے کے اثرات

2008 میں یہ واقعہ آئی پی ایل کے پہلے سیزن کا ایک بڑا تنازع تھا، کیونکہ یہ ٹورنامنٹ اپنی شہرت اور معیاری کھیل کے لیے جانا جاتا تھا۔ ہربھجن سنگھ اس وقت ممبئی انڈینز کے کپتان تھے، جبکہ سری سانتھ کنگز الیون پنجاب کی نمائندگی کر رہے تھے۔ میچ کے دوران دونوں ٹیموں کے درمیان سخت مقابلہ ہوا تھا، اور کنگز الیون پنجاب نے ممبئی انڈینز کو 66 رنز سے شکست دی تھی۔ اطلاعات کے مطابق، سری سانتھ کی جانب سے میچ کے دوران ہربھجن کو کچھ طنزیہ جملے کہے گئے، جس سے ہربھجن مشتعل ہو گئے۔

تاہم، ہربھجن کے تھپڑ مارنے کے عمل کو غیر پیشہ ورانہ قرار دیا گیا، اور اس نے بھارتی کرکٹ کمیونٹی میں ایک بڑی بحث چھیڑ دی۔ سری سانتھ نے بعد میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ اس واقعے سے شدید صدمے میں ہیں، لیکن انہوں نے ہربھجن کے ساتھ دوستی برقرار رکھی۔ ہربھجن نے بھی معافی مانگتے ہوئے کہا کہ یہ ایک جذباتی ردعمل تھا۔

آئی پی ایل پر اثرات

اس واقعے نے آئی پی ایل کے پہلے سیزن کی شہرت کو عارضی طور پر متاثر کیا، لیکن للت مودی کی سخت کارروائی نے اس بات کو یقینی بنایا کہ کھیل کا تقدس برقرار رہے۔ ہربھجن پر 8 میچوں کی پابندی اور جرمانے نے دیگر کھلاڑیوں کے لیے ایک مثال قائم کی کہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی برداشت نہیں کی جائے گی۔ اس واقعے نے آئی پی ایل کے نظم و ضبط کے نظام کو مضبوط کرنے میں بھی مدد دی، اور آج آئی پی ایل دنیا کے سب سے بڑے کرکٹ ٹورنامنٹس میں سے ایک ہے۔

ہربھجن سنگھ اور سری سانتھ کے درمیان 2008 کے اس تنازع کی ویڈیو کا 17 سال بعد منظر عام پر آنا کرکٹ کی دنیا کے لیے ایک غیر متوقع اور چونکا دینے والا واقعہ ہے۔ للت مودی کی جانب سے اس ویڈیو کو شیئر کرنے کا فیصلہ کئی سوالات اٹھاتا ہے۔ کیا یہ محض ایک پرانی یاد تازہ کرنے کی کوشش ہے، یا اس کے پیچھے کوئی بڑا ایجنڈا ہے؟ للت مودی، جو 2010 میں آئی پی ایل سے معطل ہوئے تھے، اب کرکٹ کے منظر نامے سے تقریباً غائب ہیں، اور اس ویڈیو کا جاری ہونا ان کی طرف سے توجہ حاصل کرنے کی کوشش ہو سکتا ہے۔

یہ ویڈیو کرکٹ میں نظم و ضبط اور پیشہ ورانہ رویے کی اہمیت کو بھی اجاگر کرتی ہے۔ ہربھجن سنگھ، جو اپنے وقت کے ایک عظیم اسپنر رہے ہیں، اس واقعے کی وجہ سے تنقید کی زد میں آئے، لیکن ان کی معافی اور بعد میں سری سانتھ کے ساتھ دوستی نے اس تنازع کو کم کرنے میں مدد دی۔ تاہم، یہ ویڈیو دوبارہ منظر عام پر آنے سے شائقین کے درمیان ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے کہ کیا اس طرح کے واقعات کرکٹ کی روح کو نقصان پہنچاتے ہیں۔

پاکستان کے تناظر میں، جہاں کرکٹ ایک جذباتی کھیل ہے، اس ویڈیو نے شائقین کو یہ سوچنے پر مجبور کیا ہے کہ کھلاڑیوں کے رویوں پر کتنی سخت نگرانی ہونی چاہیے۔ آئی پی ایل جیسے بڑے ٹورنامنٹس میں پاکستانی کھلاڑیوں کی غیر موجودگی کے باوجود، پاکستانی شائقین اس واقعے پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ یہ واقعہ کرکٹ کے عالمی منظر نامے میں نظم و ضبط اور اخلاقیات کے حوالے سے ایک اہم سبق دیتا ہے۔

آخر میں، یہ ویڈیو کرکٹ کی تاریخ کے ایک متنازع لمحے کو دوبارہ زندہ کرتی ہے، لیکن یہ کھیل کے شائقین کے لیے ایک یاد دہانی بھی ہے کہ کرکٹ صرف ایک کھیل نہیں بلکہ ایک جذباتی اور سماجی رشتہ ہے، جسے احترام اور پیشہ ورانہ رویے کے ساتھ نبھانا ضروری ہے۔ للت مودی کی جانب سے اس ویڈیو کا جاری ہونا شاید ایک تنازع کو ہوا دے، لیکن یہ کرکٹ کے عظیم ایونٹس کی ساکھ کو برقرار رکھنے کی اہمیت کو بھی اجاگر کرتا ہے۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین