دریائے چناب میں طغیانی، بڑا سیلابی ریلا آبادیوں کی طرف بڑھنے لگا

5 ستمبر تک دریائے راوی، ستلج، اور چناب میں انتہائی اونچے درجے کے سیلاب کا خطرہ برقرار ہے۔

پنجاب کے دریاؤں میں طغیانی کی صورتحال نے صوبے کو ایک سنگین سیلابی بحران سے دوچار کر دیا ہے۔ بھارت کی جانب سے دریائے ستلج میں مسلسل دوسرے روز پانی کے بڑے ریلوں کے اخراج نے صورتحال کو مزید گھمبیر کر دیا ہے، جبکہ دریائے چناب سے ایک بڑا سیلابی ریلا جنوبی پنجاب کی طرف تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ پروونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے خبردار کیا ہے کہ 5 ستمبر تک دریائے راوی، ستلج، اور چناب میں انتہائی اونچے درجے کے سیلاب کا خطرہ برقرار ہے۔

بھارت کا دریائے ستلج میں پانی کا اخراج

بھارتی ہائی کمیشن نے پاکستان کی وزارت آبی وسائل کو 2 ستمبر کی صبح 8 بجے اطلاع دی کہ دریائے ستلج میں ہریکے اور فیروزپور کے مقامات پر اونچے درجے کا سیلاب متوقع ہے، کیونکہ بھارت نے اپنے ڈیموں سے مزید پانی چھوڑا ہے۔ یہ گزشتہ روز کے اسی طرح کے ایک بڑے اخراج کے بعد دوسرا بڑا پانی کا ریلا ہے، جس نے پہلے ہی صوبے کے کئی علاقوں میں تباہی مچائی ہے۔ پی ڈی ایم اے کے مطابق، گنڈا سنگھ والا کے مقام پر دریائے ستلج میں پانی کا بہاؤ 253,000 کیوسک (کیوبک فیٹ فی سیکنڈ) تک پہنچ گیا ہے، جبکہ سلیمانکی کے مقام پر یہ 124,000 کیوسک ریکارڈ کیا گیا۔ یہ بلند سطحیں صوبے کے نچلے علاقوں، خصوصاً قصور، بہاولنگر، پاکپتن، اور بہاولپور کے اضلاع کے لیے خطرے کی گھنٹی ہیں۔

بھارت کی جانب سے پانی کے اس غیر معمولی اخراج نے نہ صرف دریائے ستلج کے کناروں پر واقع دیہاتوں کو متاثر کیا بلکہ زرعی اراضی اور بنیادی ڈھانچے کو بھی شدید نقصان پہنچایا ہے۔ پی ڈی ایم اے نے تمام متعلقہ اضلاع کی انتظامیہ کو ہائی الرٹ پر رہنے کی ہدایت جاری کی ہے، جبکہ ہریکے زیریں اور فیروزپور زیریں کے علاقوں میں سیلابی پانی کے داخلے سے رہائشیوں کو فوری انخلا کی ہدایت کی گئی ہے۔

دریائے چناب کا سیلابی ریلا

دریائے چناب میں پانی کی بلند سطح نے صورتحال کو مزید پیچیدہ کر دیا ہے۔ پی ڈی ایم اے کے مطابق، ہیڈ تریموں کے مقام پر پانی کا بہاؤ 516,000 کیوسک تک پہنچ گیا ہے، جو انتہائی اونچے درجے کے سیلاب کی نشاندہی کرتا ہے۔ یہ سیلابی ریلا تیزی سے جنوبی پنجاب کی طرف بڑھ رہا ہے، جس سے ملتان، مظفرگڑھ، اور دیگر اضلاع کے لیے سنگین خطرات پیدا ہو رہے ہیں۔ مرالہ کے مقام پر پانی کا بہاؤ 96,000 کیوسک، خانکی ہیڈ ورکس پر 120,000 کیوسک، اور قادرآباد پر 135,000 کیوسک ریکارڈ کیا گیا ہے، جو مسلسل بڑھ رہا ہے۔

ریلیف کمشنر پنجاب نبیل جاوید نے خبردار کیا کہ یہ سیلابی ریلا اگلے چند دنوں میں جنوبی پنجاب کے دیہاتوں اور زرعی اراضی کو شدید متاثر کر سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی ہدایت پر تمام متعلقہ محکمے ہنگامی بنیادوں پر کام کر رہے ہیں تاکہ شہریوں کی جان و مال کی حفاظت یقینی بنائی جا سکے۔

دریائے راوی کی صورتحال

دریائے راوی بھی اس سیلابی بحران سے محفوظ نہیں رہا۔ جسر کے مقام پر پانی کا بہاؤ 54,000 کیوسک اور شاہدرہ کے مقام پر 60,000 کیوسک ریکارڈ کیا گیا۔ بلوکی ہیڈ ورکس پر پانی کا حجم 137,000 کیوسک اور سدھنائی کے مقام پر 107,000 کیوسک تک پہنچ چکا ہے۔ لاہور کے مضافاتی علاقوں، خصوصاً چوہنگ اور دیگر نچلے علاقوں میں پانی کے داخلے نے رہائشیوں کی مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے۔ پی ڈی ایم اے نے لاہور کے کمشنر اور ڈپٹی کمشنرز کو ہدایت کی ہے کہ وہ شہریوں کے انخلا اور امدادی سرگرمیوں کو تیز کریں۔

حکومتی اقدامات اور امدادی سرگرمیاں

پنجاب حکومت، پی ڈی ایم اے، اور ریسکیو 1122 کی ٹیمیں دن رات امدادی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔ ریلیف کمشنر نبیل جاوید کے مطابق، صوبے بھر میں 390 سے زائد ریلیف کیمپ قائم کیے گئے ہیں، جہاں ہزاروں متاثرین کو خوراک، پانی، اور طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔ اب تک 900,000 سے زائد افراد اور 600,000 سے زیادہ مویشیوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا ہے۔

وزیراعلیٰ پنجاب نے ہدایت کی ہے کہ تمام متعلقہ محکمے، بشمول ایریگیشن، ایگریکلچر، ہیلتھ، اور لائیو اسٹاک، مکمل طور پر متحرک رہیں۔ لاہور میں دریائے راوی کے پانی کے بہاؤ کو کنٹرول کرنے کے لیے ندی میں موجود رکاوٹوں کو ہٹانے کا کام جاری ہے۔ نبیل جاوید نے کہا کہ ’’ہماری اولین ترجیح شہریوں کی جان و مال کا تحفظ ہے، اور اس کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔‘‘

سوشل میڈیا پر ردعمل

ایکس پر صارفین نے اس سیلابی بحران پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ایک صارف نے لکھا، ’’بھارت کی جانب سے پانی کا اخراج ایک سنگین معاملہ ہے۔ پاکستانی حکام کو فوری اقدامات کر کے متاثرین کی مدد کرنی چاہیے۔‘‘ ایک اور پوسٹ میں کہا گیا، ’’جنوبی پنجاب کے لوگ اس وقت شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ حکومت کو امدادی کاموں میں تیزی لانی ہوگی۔‘‘ یہ تبصرے عوام کی بے چینی اور فوری امداد کی ضرورت کو اجاگر کرتے ہیں۔

پنجاب میں موجودہ سیلابی بحران، جو بھارت کے پانی کے اخراج اور شدید مون سون بارشوں کے امتزاج سے پیدا ہوا، صوبے کے لیے ایک غیر معمولی چیلنج ہے۔ بھارت کی جانب سے دریائے ستلج اور دیگر دریاؤں میں پانی کے مسلسل اخراج نے صورتحال کو مزید پیچیدہ کر دیا ہے۔ اگرچہ بھارتی ہائی کمیشن نے پاکستان کو پانی کے اخراج سے آگاہ کیا، لیکن بعض اطلاعات کے مطابق سلال ڈیم سے پانی کے بغیر اطلاع اخراج نے پاکستانی حکام کے لیے پیشگی تیاری کو مشکل بنا دیا۔ یہ صورتحال سندھ طاس معاہدے کے تحت دونوں ممالک کے درمیان رابطوں اور ذمہ داریوں پر سوالات اٹھاتی ہے۔

پی ڈی ایم اے اور دیگر اداروں کی جانب سے بروقت انخلا اور امدادی سرگرمیوں نے بڑے پیمانے پر جانی نقصانات کو روکنے میں مدد کی ہے، لیکن زرعی اراضی، فصلوں، اور بنیادی ڈھانچے کو پہنچنے والا نقصان پاکستان کی معیشت کے لیے ایک بڑا دھچکا ثابت ہو سکتا ہے۔ پنجاب، جو ملک کا زرعی قلب ہے، میں فصلوں کی تباہی سے غذائی قلت اور قیمتوں میں اضافے کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔

مزید یہ کہ، مون سون بارشوں کا سلسلہ جاری رہنے اور 5 ستمبر تک دریاؤں میں پانی کی بلند سطح کا امکان صورتحال کو مزید خراب کر سکتا ہے۔ حکومتی اداروں کو نہ صرف فوری امدادی سرگرمیوں پر توجہ دینی ہوگی بلکہ طویل مدتی منصوبہ بندی، جیسے کہ مضبوط واٹر مینجمنٹ سسٹم، مضبوط ڈھانچوں کی تعمیر، اور ابتدائی انتباہی نظام کو بہتر بنانا بھی ضروری ہے۔

یہ بحران ایک بار پھر موسمیاتی تبدیلیوں اور علاقائی تعاون کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔ پاکستان اور بھارت کو سندھ طاس معاہدے کے تحت بہتر رابطوں اور شفافیت کو یقینی بنانا ہوگا تاکہ مستقبل میں اس طرح کی تباہ کاریوں سے بچا جا سکے۔ فی الحال، پنجاب کے متاثرین کی بحالی اور امدادی سرگرمیوں کو تیز کرنا اولین ترجیح ہونا چاہیے۔ عوام سے اپیل ہے کہ وہ حکومتی ہدایات پر عمل کریں اور سیلاب سے متاثرہ علاقوں سے دور رہیں تاکہ مزید نقصانات سے بچا جا سکے۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین