چین کے صوبے فوجیان سے ایک چونکا دینے والا واقعہ سامنے آیا ہے، جہاں ایک 19 سالہ یونیورسٹی طالب علم طویل عرصے تک موبائل فون استعمال کرنے اور گردن جھکائے رکھنے کی وجہ سے فالج کا شکار ہو گیا۔ اس واقعے نے جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے وابستہ صحت کے خطرات پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ طبی ماہرین نے اسے "ٹیکسٹ نیک” یا گردن کی غیر مناسب پوزیشن سے منسلک ایک سنگین عارضہ قرار دیا ہے۔ خوش قسمتی سے، بروقت آپریشن کے ذریعے نوجوان کے دماغ میں بننے والا خون کا لوتھڑا ہٹا دیا گیا، اور وہ اب صحت یابی کے مراحل سے گزر رہا ہے۔ ۔
واقعے کی تفصیلات
فوجیان کے ایک یونیورسٹی طالب علم، ژیاؤ ڈونگ، کی زندگی اس وقت خطرے میں پڑ گئی جب وہ طویل عرصے تک موبائل فون پر سر جھکائے رکھنے کی وجہ سے اچانک فالج کا شکار ہو گیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق، ژیاؤ ڈونگ نے گھنٹوں مسلسل موبائل فون استعمال کیا، جس کے دوران اس کی گردن مسلسل جھکی رہی۔ اس غیر فطری پوزیشن نے اس کی گردن کی رگوں میں خون کے بہاؤ کو متاثر کیا، جس کے نتیجے میں ریڑھ کی ہڈی سے منسلک رگوں کے اوپری حصے میں خون کا لوتھڑا بن گیا۔ یہ لوتھڑا دماغ تک خون کی ترسیل میں رکاوٹ کا باعث بنا، جس سے ژیاؤ ڈونگ کو فالج کا سامنا کرنا پڑا۔
طبی ماہرین نے اسے "ٹیکسٹ نیک سنڈروم” سے منسلک ایک نادر مگر سنگین پیچیدگی قرار دیا۔ یہ اصطلاح اس وقت استعمال ہوتی ہے جب لمبے عرصے تک سر جھکائے رکھنے سے گردن کے پٹھوں اور رگوں پر دباؤ پڑتا ہے، جو خون کے بہاؤ میں خلل یا دیگر مسائل کا باعث بن سکتا ہے۔ ژیاؤ ڈونگ کی حالت تشویشناک تھی، لیکن ہسپتال میں فوری داخلے اور ہنگامی آپریشن نے اس کی جان بچائی۔ ماہرین نے جدید تھرومبیکٹومی تکنیک کا استعمال کرتے ہوئے خون کے لوتھڑے کو کامیابی سے ہٹا دیا، اور اب وہ بحالی کے عمل سے گزر رہا ہے۔
"ٹیکسٹ نیک” کیا ہے؟
"ٹیکسٹ نیک” ایک جدید اصطلاح ہے جو مسلسل موبائل فون، ٹیبلٹ، یا دیگر الیکٹرانک آلات کے استعمال سے گردن کی غیر فطری پوزیشن کی وجہ سے پیدا ہونے والے صحت کے مسائل کو بیان کرتی ہے۔ جب کوئی شخص طویل عرصے تک سر جھکائے رکھتا ہے، تو گردن کے پٹھوں، ہڈیوں، اور رگوں پر غیر معمولی دباؤ پڑتا ہے۔ ماہرین کے مطابق، انسانی سر کا وزن تقریباً 4.5 سے 5.5 کلوگرام ہوتا ہے، لیکن جب سر 15 ڈگری جھکتا ہے، تو گردن پر دباؤ 12 کلوگرام تک بڑھ جاتا ہے۔ اگر سر 60 ڈگری تک جھک جائے، تو یہ دباؤ 27 کلوگرام تک پہنچ سکتا ہے، جو ریڑھ کی ہڈی اور رگوں کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔
ژیاؤ ڈونگ کے کیس میں، اس دباؤ نے گردن کی گُدی کی رگ (vertebral artery) میں خون کے بہاؤ کو متاثر کیا، جس سے خون کا لوتھڑا بن گیا۔ یہ لوتھڑا دماغ تک آکسیجن کی ترسیل روکنے کا باعث بنا، جس کے نتیجے میں فالج کی حالت پیدا ہوئی۔ طبی ماہرین نے خبردار کیا کہ اگرچہ یہ ایک نادر واقعہ ہے، لیکن یہ ڈیجیٹل دور میں بڑھتی ہوئی لت اور غیر صحت مند عادات کی طرف اشارہ کرتا ہے۔
بروقت آپریشن
ژیاؤ ڈونگ کی خوش قسمتی تھی کہ اس کی حالت کی بروقت تشخیص ہوئی اور ہنگامی آپریشن ممکن ہو سکا۔ ڈاکٹروں نے تھرومبیکٹومی نامی ایک جدید جراحی طریقہ کار استعمال کیا، جس میں ایک پتلی ٹیوب (کیتھیٹر) کے ذریعے خون کے لوتھڑے تک رسائی حاصل کی جاتی ہے اور اسے ہٹایا جاتا ہے۔ یہ طریقہ کار خاص طور پر ایسکیمک فالج (ischemic stroke) کے علاج میں موثر ہے، جو خون کے لوتھڑوں کی وجہ سے ہوتا ہے۔
آپریشن کے بعد، ژیاؤ ڈونگ کو ہسپتال میں زیر نگرانی رکھا گیا، جہاں وہ فزیوتھراپی اور دیگر بحالی پروگراموں سے گزر رہا ہے۔ ڈاکٹروں کے مطابق، اس کی حالت اب مستحکم ہے، لیکن مکمل صحت یابی کے لیے وقت اور مسلسل دیکھ بھال درکار ہوگی۔
سوشل میڈیا پر ردعمل
اس واقعے کی ویڈیو اور خبریں ایکس پر تیزی سے وائرل ہوئیں، جہاں صارفین نے اسے ٹیکنالوجی کے منفی اثرات کی ایک واضح مثال قرار دیا۔ ایک صارف نے لکھا، ’’یہ ہم سب کے لیے ایک سبق ہے کہ موبائل فون کا زیادہ استعمال کتنا خطرناک ہو سکتا ہے۔ ہمیں اپنی عادات پر نظر ثانی کرنی ہوگی۔‘‘ ایک اور صارف نے تبصرہ کیا، ’’19 سال کی عمر میں فالج؟ یہ ناقابل یقین ہے۔ ڈاکٹروں کی بروقت کارروائی قابل تحسین ہے۔‘‘ یہ تبصرے عوام میں بڑھتی ہوئی تشویش اور آگاہی کی عکاسی کرتے ہیں۔
ماہرین کی رائے اور احتیاطی تدابیر
طبی ماہرین نے اس واقعے کو ڈیجیٹل آلات کے بے تحاشا استعمال کے خطرات سے جوڑتے ہوئے کئی احتیاطی تدابیر تجویز کی ہیں۔ ڈاکٹر لی ژن، جو فوجیان کے ایک معروف نیورولوجسٹ ہیں، نے کہا، ’’ہمارے کلینکس میں گردن کے درد اور پٹھوں کی سختی کے مریضوں کی تعداد بڑھ رہی ہے، اور یہ واقعہ اس بات کی یاد دہانی ہے کہ یہ مسائل کبھی کبھی جان لیوا بھی ہو سکتے ہیں۔‘‘
ماہرین نے مشورہ دیا کہ موبائل فون استعمال کرتے وقت درج ذیل ہدایات پر عمل کیا جائے:
-
وقفے لیں: ہر 20 سے 30 منٹ بعد چند منٹ کے لیے موبائل فون سے دور رہیں اور گردن کو آرام دیں۔
-
صحیح پوزیشن: فون کو آنکھوں کی سطح پر رکھیں تاکہ گردن پر دباؤ نہ پڑے۔
-
گردن کی ورزش: روزانہ ہلکی پھلکی گردن کی مشقیں کریں تاکہ پٹھوں کی سختی سے بچا جا سکے۔
-
وقت کی حد: موبائل فون کا استعمال محدود کریں اور غیر ضروری سکرولنگ سے گریز کریں۔
ژیاؤ ڈونگ کا واقعہ ڈیجیٹل دور میں صحت کے نئے خطرات کی ایک واضح مثال ہے۔ موبائل فونز اور دیگر الیکٹرانک آلات ہماری زندگی کا لازمی حصہ بن چکے ہیں، لیکن ان کا بے جا استعمال سنگین نتائج کا باعث بن سکتا ہے۔ "ٹیکسٹ نیک” جیسے مسائل، جو پہلے صرف پٹھوں کے درد یا سختی تک محدود سمجھے جاتے تھے، اب فالج جیسے جان لیوا امراض سے منسلک ہو رہے ہیں۔ یہ واقعہ نہ صرف انفرادی سطح پر احتیاط کی ضرورت کو اجاگر کرتا ہے بلکہ معاشرتی سطح پر بھی شعور بیدار کرنے کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔
چین، جہاں موبائل فون کا استعمال عالمی سطح پر سب سے زیادہ ہے، وہاں اس طرح کے واقعات صحت عامہ کے نظام کے لیے ایک چیلنج ہیں۔ فالج، جو عام طور پر بڑھاپے یا دیگر خطرناک عوامل جیسے ہائی بلڈ پریشر یا ذیابیطس سے منسلک ہوتا ہے، اب کم عمر افراد میں بھی دیکھا جا رہا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ طرز زندگی سے متعلق نئے خطرات تیزی سے بڑھ رہے ہیں، جن پر قابو پانے کے لیے نہ صرف انفرادی بیداری بلکہ سرکاری پالیسیوں کی بھی ضرورت ہے۔
پاکستان جیسے ممالک میں، جہاں موبائل فون کا استعمال تیزی سے بڑھ رہا ہے، اس واقعے سے سبق سیکھنا ضروری ہے۔ اسکولوں، کالجوں، اور عوامی مقامات پر ڈیجیٹل آلات کے صحت مند استعمال کے بارے میں آگاہی پروگرام شروع کیے جانے چاہئیں۔ والدین اور اساتذہ کو بھی بچوں کی عادات پر نظر رکھنی ہوگی تاکہ وہ طویل عرصے تک غیر فطری پوزیشن میں نہ رہیں۔
ژیاؤ ڈونگ کی بحالی ایک امید افزا علامت ہے، لیکن یہ واقعہ ایک تنبیہ ہے کہ ٹیکنالوجی کے فوائد کے ساتھ اس کے خطرات سے بھی نمٹنا ہوگا۔ حکومتیں، صحت کے ادارے، اور ٹیکنالوجی کمپنیوں کو مل کر ایسی حکمت عملی بنانی چاہیے جو صارفین کو صحت مند عادات اپنانے کی ترغیب دیں۔ یہ وقت ہے کہ ہم اپنی ڈیجیٹل عادات پر نظر ثانی کریں اور اپنی صحت کو ترجیح دیں، تاکہ اس طرح کے دلخراش واقعات سے بچا جا سکے۔





















