سینئر اداکار ندیم بیگ نے پاکستانی فلم انڈسٹری کے زوال کی وجہ بیان کر دی

اب فلم سازی کا شعبہ زیادہ تر ان افراد کے ہاتھوں میں ہے جو ٹیلی ویژن کے پس منظر سے آتے ہیں

پاکستان فلم انڈسٹری کے لیجنڈری اداکار ندیم بیگ نے ایک حالیہ انٹرویو میں پاکستانی سنیما کے زوال کی وجوہات پر کھل کر بات کی ہے۔ اپنے پانچ دہائیوں سے زائد کے شاندار کیریئر کے دوران 200 سے زیادہ فلموں میں اداکاری کے جوہر دکھانے والے ندیم بیگ نے ان عوامل کو اجاگر کیا جو پاکستانی فلم انڈسٹری کی موجودہ بدحالی کا باعث بنے۔ انہوں نے نہ صرف فلموں کے ڈراموں سے مشابہت اختیار کرنے کی وجہ بتائی بلکہ سنیما گھروں کے بند ہونے، وسائل کی کمی، اور ناظرین کے کھو جانے جیسے مسائل پر بھی روشنی ڈالی۔ 

فلموں کی ڈراموں سے مشابہت

ندیم بیگ نے اپنی گفتگو میں پاکستانی فلموں کے معیار پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آج کل کی فلمیں ڈراموں کی طرح محسوس ہوتی ہیں۔ ان کے مطابق اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ پاکستانی فلم انڈسٹری کے لیجنڈری فلم ساز، جن میں پرویز ملک، نذرالاسلام، اور ایہتشام جیسے نام شامل ہیں، اب اس دنیا میں نہیں رہے۔ ان عظیم ہدایت کاروں نے اپنے وقت میں پاکستانی سنیما کو نہ صرف فنکارانہ بلندیوں تک پہنچایا بلکہ اسے ایک منفرد شناخت بھی دی۔

انہوں نے کہا کہ اب فلم سازی کا شعبہ زیادہ تر ان افراد کے ہاتھوں میں ہے جو ٹیلی ویژن کے پس منظر سے آتے ہیں۔ اگرچہ یہ افراد اپنی صلاحیتوں کے مطابق فلمیں بنا رہے ہیں، لیکن ان کے پاس وہ وسائل، تربیت، اور تجربہ نہیں جو ماضی کے فلم سازوں کے پاس تھا۔ نتیجتاً، فلمیں اکثر ٹی وی ڈراموں کی طرح دکھائی دیتی ہیں، جن میں سنیما کی وہ عظمت اور دلکشی غائب ہے جو اسے بڑے پردے کا جادو بناتی ہے۔

سنیما انڈسٹری کی تباہی

ندیم بیگ نے پاکستانی فلم انڈسٹری کے زوال کی کئی اہم وجوہات گنوائیں۔ ان کے مطابق، سب سے بڑا دھچکا 1971 میں مشرقی پاکستان کی علیحدگی تھی، جس سے پاکستانی فلم انڈسٹری نے اپنی ایک بڑی مارکیٹ کھو دی۔ مشرقی پاکستان (اب بنگلہ دیش) نہ صرف فلموں کی ایک بڑی منڈی تھا بلکہ وہاں کے اسٹوڈیوز اور فنکار بھی پاکستانی سنیما کا اہم حصہ تھے۔ اس نقصان نے انڈسٹری کی معاشی اور تخلیقی صلاحیت کو بری طرح متاثر کیا۔

انہوں نے مزید بتایا کہ اس کے بعد سے فلم اسٹوڈیوز کا بند ہونا، سنیما گھروں کی تعداد میں کمی، اور فلم سازی کے بنیادی ڈھانچے کا خاتمہ انڈسٹری کے زوال کا باعث بنا۔ ایک زمانے میں کراچی، لاہور، اور ڈھاکہ کے اسٹوڈیوز پاکستانی فلموں کے لیے تخلیقی مراکز ہوا کرتے تھے، لیکن اب ان کی جگہ خالی پڑی ہے۔ فلم سازی کے لیے جدید سہولیات، تربیت یافتہ عملہ، اور مناسب وسائل کی کمی نے نئے فلم سازوں کے لیے معیاری پروڈکشن کو مشکل بنا دیا ہے۔

ناظرین کا کھو جانا اور مہنگے ٹکٹ

ندیم بیگ نے ایک اہم نکتے کی طرف توجہ دلائی کہ پاکستانی فلموں کے اصل ناظرین نچلا متوسط طبقہ تھا، جو اپنی تفریح کے لیے سنیما گھروں کا رخ کرتا تھا۔ لیکن حالیہ برسوں میں ٹکٹوں کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور مہنگائی نے اس طبقے کو سنیما سے دور کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سنیما گھروں کے ٹکٹ اب اتنی قیمتوں پر ہیں کہ عام آدمی کے لیے فلم دیکھنا مشکل ہو گیا ہے۔ نتیجتاً، سنیما گھر خالی رہتے ہیں، اور فلموں کی آمدنی بری طرح متاثر ہوتی ہے۔

انہوں نے تجویز پیش کی کہ اگر سنیما انڈسٹری کو بحال کرنا ہے تو نچلے متوسط طبقے کے لیے ٹکٹوں کی قیمتیں کم کرنے اور ان کے لیے فلموں کو قابل رسائی بنانے کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی سنیما کی اصل روح اسی طبقے کے ناظرین میں ہے، اور ان کی واپسی کے بغیر انڈسٹری کی بحالی ممکن نہیں۔

فلم اکیڈمیز کی عدم موجودگی

ندیم بیگ نے پاکستانی فلم انڈسٹری کے زوال کی ایک اور اہم وجہ فلم اکیڈمیز کی عدم موجودگی کو قرار دیا۔ ان کے مطابق، مغربی ممالک اور بھارت میں فلم سازی کی تعلیم دینے والی اکیڈمیز موجود ہیں جو نئے ہدایت کاروں، اداکاروں، اور تکنیکی عملے کو تربیت دیتی ہیں۔ لیکن پاکستان میں ایسی کوئی ادارہ جاتی سہولت موجود نہیں، جس کی وجہ سے نئے آنے والے فنکاروں اور فلم سازوں کو پیشہ ورانہ تربیت کا فقدان ہے۔

انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ پاکستانی فلم انڈسٹری میں نئے ٹیلنٹ کو پروان چڑھانے کے لیے کوئی منظم نظام موجود نہیں۔ ماضی میں فلم اسٹوڈیوز اور سینئر فلم ساز نئے ٹیلنٹ کی رہنمائی کرتے تھے، لیکن اب اس روایت کا خاتمہ ہو چکا ہے۔ نتیجتاً، نئے فلم ساز اپنی محدود صلاحیتوں کے ساتھ کام کر رہے ہیں، جو انڈسٹری کے مجموعی معیار کو متاثر کر رہا ہے۔

موجودہ کوششوں کی قدر

اپنی تنقید کے باوجود، ندیم بیگ نے موجودہ فلم سازوں کی کوششوں کی قدر کی۔ انہوں نے کہا کہ حالات کے باوجود، کچھ افراد اپنی بساط کے مطابق فلم سازی کی کوشش کر رہے ہیں، جو قابل تحسین ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ہمیں ان کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے، لیکن ساتھ ہی وسائل کی کمی اور بنیادی ڈھانچے کے مسائل کو حل کرنے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ ماضی میں فلم "آئینہ” (1977) نے کراچی کے سنیما گھروں میں 401 ہفتوں تک مسلسل نمائش کا ریکارڈ قائم کیا تھا، جو پاکستانی فلم انڈسٹری کی عظمت کی عکاسی کرتا ہے۔ لیکن آج ایسی کامیابی کا تصور بھی مشکل ہے کیونکہ نہ تو ناظرین کی تعداد ہے اور نہ ہی سنیما گھروں کی وہ رونق۔

سوشل میڈیا پر ردعمل

ندیم بیگ کے ان خیالات نے سوشل میڈیا، خصوصاً ایکس پر، ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے۔ ایک صارف نے لکھا، "ندیم بیگ صاحب نے بالکل درست کہا۔ ہماری فلم انڈسٹری کو بحال کرنے کے لیے ہمیں اپنے اصل ناظرین کو واپس لانا ہوگا۔” ایک اور صارف نے تبصرہ کیا، "یہ سن کر دکھ ہوتا ہے کہ ہمارے سنیما گھر خالی ہیں۔ حکومت کو فلم اکیڈمیز بنانی چاہئیں تاکہ نئے ٹیلنٹ کو موقع ملے۔” یہ تبصرے عوام کے جذبات اور فلم انڈسٹری کی بحالی کی خواہش کی عکاسی کرتے ہیں۔

ندیم بیگ کے خیالات پاکستانی فلم انڈسٹری کی موجودہ حالت کا ایک جامع اور حقیقت پسندانہ جائزہ پیش کرتے ہیں۔ انہوں نے نہ صرف زوال کی وجوہات کو واضح کیا بلکہ ان مسائل کے حل کی طرف بھی اشارہ کیا۔ مشرقی پاکستان کی علیحدگی سے لے کر سنیما گھروں کے بند ہونے اور فلم اکیڈمیز کی عدم موجودگی تک، انہوں نے ان تمام عوامل کو اجاگر کیا جو پاکستانی سنیما کی تباہی کا باعث بنے۔

تاہم، یہ بات قابل غور ہے کہ پاکستانی فلم انڈسٹری میں حالیہ برسوں میں کچھ مثبت تبدیلیاں بھی آئی ہیں۔ فلموں جیسے کہ "جوانی پھر نہیں آنی”، "پنجاب نہیں جاؤں گی”، اور "پری ہٹ لو” نے باکس آفس پر کامیابی حاصل کی اور نئے ناظرین کو سنیما کی طرف راغب کیا۔ لیکن یہ کامیابیاں عارضی ہیں اور ان سے انڈسٹری کی مجموعی بحالی کا کوئی ٹھوس منصوبہ نظر نہیں آتا۔ ندیم بیگ کا یہ نکتہ درست ہے کہ ٹیلی ویژن سے آنے والے فلم سازوں کی اپنی حدود ہیں، لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ انہوں نے مشکل حالات میں انڈسٹری کو زندہ رکھنے کی کوشش کی ہے۔

سنیما کے زوال کی ایک اور اہم وجہ معاشی حالات ہیں۔ مہنگائی اور ٹکٹوں کی بلند قیمتوں نے پاکستانی سنیما کے اصل ناظرین، یعنی نچلے متوسط طبقے کو، سنیما گھروں سے دور کر دیا ہے۔ اس کے علاوہ، بھارتی فلموں اور عالمی اسٹریمنگ پلیٹ فارمز جیسے کہ نیٹ فلکس اور ایمیزون پرائم نے پاکستانی ناظرین کی ترجیحات کو بدل دیا ہے۔ پاکستانی فلموں کو نہ صرف معیار کے لحاظ سے ان کا مقابلہ کرنا ہوگا بلکہ انہیں اپنے اصل ناظرین کے لیے قابل رسائی بھی بنانا ہوگا۔

حکومت اور نجی شعبے کو مل کر فلم انڈسٹری کی بحالی کے لیے ٹھوس اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ فلم اکیڈمیز کا قیام، سنیما گھروں کے لیے سبسڈی، اور نئے ٹیلنٹ کو تربیت دینے کے پروگرام اس سلسلے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ ندیم بیگ کا یہ پیغام کہ ہمیں اپنی صلاحیتوں کے مطابق کام کرنے والوں کی قدر کرنی چاہیے، ایک مثبت سوچ کی عکاسی کرتا ہے۔ لیکن محض قدر کرنے سے کام نہیں چلے گا؛ ہمیں ایک منظم حکمت عملی کی ضرورت ہے جو پاکستانی فلم انڈسٹری کو اس کے کھوئے ہوئے وقار کی طرف واپس لے جائے۔

ندیم بیگ جیسے لیجنڈری اداکاروں کی آواز اس وقت پاکستانی سنیما کے لیے ایک رہنما روشنی ہے۔ ان کے تجربات اور مشاہدات نہ صرف ماضی کی عظمت کی یاد دلاتے ہیں بلکہ مستقبل کے لیے ایک واضح سمت بھی دیتے ہیں۔ اگر پاکستانی سنیما کو دوبارہ اپنی کھوئی ہوئی شان حاصل کرنی ہے تو ہمیں ناظرین کو واپس لانے، معیاری فلم سازی کو فروغ دینے، اور نئے ٹیلنٹ کو مواقع فراہم کرنے کے لیے مل کر کام کرنا ہوگا۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین