دل کی بیماریوں سے تحفظ کے لیے دہائیوں سے استعمال ہونے والی کم خوراک والی ایسپرین کو اب ایک نئی دوا نے چیلنج کر دیا ہے۔ میڈرڈ میں منعقدہ یورپین سوسائٹی آف کارڈیولوجی (ای ایس سی) کانگریس 2025 میں پیش کی گئی ایک اہم تحقیق، جو دی لانسٹ جرنل میں شائع ہوئی، نے انکشاف کیا ہے کہ خون پتلا کرنے والی دوا کلوپیڈوگریل (Clopidogrel) کورونری آرٹری ڈیزیز (سی اے ڈی) کے مریضوں میں ہارٹ اٹیک اور فالج سے بچاؤ کے لیے ایسپرین سے زیادہ مؤثر ہے۔ سب سے اہم بات یہ کہ یہ دوا خون بہنے کے خطرات میں اضافہ نہیں کرتی، جو خون پتلا کرنے والی ادویات کا ایک بڑا نقصان سمجھا جاتا ہے۔
تحقیق کی تفصیلات
یہ تحقیق، جس میں امریکہ، برطانیہ، آسٹریلیا، سوئٹزرلینڈ، اور جاپان کے ماہرین شامل تھے، نے کورونری آرٹری ڈیزیز (سی اے ڈی) کے 28,982 مریضوں کے ڈیٹا کا تجزیہ کیا۔ سی اے ڈی ایک ایسی حالت ہے جس میں دل کی شریانوں میں چکنائی (ایک چربی نما مادہ) جمع ہونے سے شریانیں تنگ ہو جاتی ہیں، جو دل کا دورہ یا فالج کا باعث بن سکتی ہیں۔ دنیا بھر میں 300 ملین سے زائد افراد اس بیماری سے متاثر ہیں، جن میں سے 2.3 ملین اکیلے برطانیہ میں ہیں۔
تحقیق میں سات کلینیکل ٹرائلز کا جائزہ لیا گیا، جن میں 14,507 مریضوں کو کلوپیڈوگریل اور 14,475 کو ایسپرین دی گئی۔ نتائج سے معلوم ہوا کہ کلوپیڈوگریل استعمال کرنے والے مریضوں میں ہارٹ اٹیک، فالج، یا قلبی اموات جیسے سنگین واقعات کا خطرہ ایسپرین استعمال کرنے والوں کے مقابلے میں 14 فیصد کم تھا۔ سب سے اہم بات یہ کہ خون بہنے (ہیمرج) کے بڑے خطرات، جو خون پتلا کرنے والی ادویات کا ایک عام ضمنی اثر ہیں، دونوں ادویات کے درمیان یکساں تھے۔ اس سے یہ خدشہ دور ہو گیا کہ کلوپیڈوگریل زیادہ خون بہنے کا باعث بن سکتی ہے۔
دی لانسٹ میں شائع رپورٹ کے مطابق، "یہ جامع تجزیہ ظاہر کرتا ہے کہ سی اے ڈی کے مریضوں میں طویل مدتی کلوپیڈوگریل مونو تھراپی ہارٹ اٹیک اور فالج جیسے سنگین قلبی و دماغی واقعات سے بہتر تحفظ فراہم کرتی ہے، بغیر خون بہنے کے اضافی خطرے کے۔” محققین نے یہ بھی کہا کہ کلوپیڈوگریل کی وسیع دستیابی، عمومی (جینرک) ساخت، اور کم قیمت اسے عالمی سطح پر کلینیکل پریکٹس میں بڑے پیمانے پر اپنانے کے لیے ایک مثالی دوا بناتی ہے۔
کلوپیڈوگریل اور ایسپرین
ایسپرین کو دہائیوں سے کم خوراکوں میں سی اے ڈی کے مریضوں کو تجویز کیا جاتا رہا ہے کیونکہ یہ خون کو پتلا کرتی ہے اور پلیٹلیٹس کو جمنے سے روکتی ہے، جس سے دل کا دورہ یا فالج کا خطرہ کم ہوتا ہے۔ تاہم، اس کے ضمنی اثرات جیسے معدے کی جلن، السر، یا خون بہنا ایک بڑا مسئلہ رہے ہیں۔ دوسری طرف، کلوپیڈوگریل، جو پلویکس (Plavix) کے نام سے بھی جانی جاتی ہے، پلیٹلیٹس پر ایک مخصوص ریسیپٹر کو بلاک کرتی ہے، جس سے وہ ایک دوسرے سے چپکنے اور لوتھڑا بنانے سے رکتے ہیں۔ اس کا طریقہ کار ایسپرین سے مختلف ہے اور معدے پر کم منفی اثرات مرتب کرتا ہے۔
تحقیق سے پتہ چلا کہ کلوپیڈوگریل نہ صرف زیادہ مؤثر ہے بلکہ یہ ان مریضوں میں بھی بہتر نتائج دیتی ہے جو جینیاتی یا کلینیکل وجوہات کی بنا پر اس دوا کے لیے کم حساس ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ، جن مریضوں نے اسٹنٹ لگوائے یا شدید کورونری سنڈروم کا سامنا کیا، ان میں بھی کلوپیڈوگریل نے بہتر کارکردگی دکھائی۔ یہ نتائج اس دوا کی افادیت کو وسیع آبادی تک پھیلاتے ہیں۔
ماہرین کی رائے
برٹش ہارٹ فاؤنڈیشن کے چیف سائنٹیفک اینڈ میڈیکل آفیسر پروفیسر برائن ولیمز نے کہا، "ایسپرین طویل عرصے سے ہارٹ اٹیک اور فالج سے بچاؤ کے لیے ایک معیاری دوا رہی ہے۔ یہ تحقیق بتاتی ہے کہ کلوپیڈوگریل، جو ایک متبادل اینٹی پلیٹلیٹ دوا ہے، زیادہ مؤثر ہو سکتی ہے اور یہ فائدہ خون بہنے کے اضافی خطرے کے بغیر حاصل ہوتا ہے۔ یہ نتائج ڈاکٹروں کی جانب سے مریضوں کے لیے تجویز کردہ ادویات پر گہرے اثرات مرتب کریں گے۔”
انڈین کالج آف کارڈیولوجی کے جنرل سیکریٹری ڈاکٹر سی ایم ناگیش نے کہا، "خون بہنے کا خطرہ خون پتلا کرنے والی ادویات کے طویل مدتی استعمال کا ایک بڑا خدشہ رہا ہے۔ کلوپیڈوگریل کا یہ فائدہ کہ یہ بغیر اضافی خون بہنے کے خطرے کے بہتر تحفظ فراہم کرتی ہے، ڈاکٹروں اور مریضوں دونوں کو زیادہ اعتماد دیتا ہے۔” انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ ایسپرین اب بھی بہت سے علاجی منصوبوں میں اہم کردار ادا کرتی ہے، خاص طور پر ان مریضوں کے لیے جو کلوپیڈوگریل کو برداشت نہیں کر سکتے۔
مستقبل کے مضمرات
اس تحقیق کے نتائج عالمی سطح پر دل کے امراض کے علاج کے رہنما اصولوں (کلینیکل گائیڈلائنز) کو تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ محققین نے تجویز دی ہے کہ کلوپیڈوگریل کو سی اے ڈی کے مریضوں کے لیے طویل مدتی اینٹی پلیٹلیٹ تھراپی کے طور پر ترجیح دی جانی چاہیے۔ تاہم، ماہرین نے زور دیا کہ اس دوا کی لاگت کی تاثیر (cost-effectiveness) اور وسیع تر آبادی پر اس کے اثرات کا جائزہ لینے کے لیے مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔
کلوپیڈوگریل کی عمومی (جینرک) ساخت اور کم قیمت اسے ترقی پذیر ممالک جیسے کہ پاکستان کے لیے ایک پرکشش آپشن بناتی ہے، جہاں دل کے امراض تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔ پاکستان میں ہر سال ہزاروں افراد ہارٹ اٹیک اور فالج کا شکار ہوتے ہیں، اور ایسی دوا جو زیادہ مؤثر اور کم خطرناک ہو، صحت عامہ کے نظام پر مثبت اثرات مرتب کر سکتی ہے۔
سوشل میڈیا پر ردعمل
ایکس پر اس تحقیق نے خاصی توجہ حاصل کی۔ ایک صارف نے لکھا، "یہ ایک گیم چینجر ہے! کلوپیڈوگریل زیادہ مؤثر اور محفوظ ہے، یہ دل کے مریضوں کے لیے بڑی خبر ہے۔” ایک اور صارف نے تبصرہ کیا، "ایسپرین کو دہائیوں سے معیاری دوا سمجھا جاتا تھا، لیکن اب وقت ہے کہ ہم نئے شواہد کو قبول کریں۔” یہ ردعمل عوام میں اس تحقیق کی اہمیت اور اس کے ممکنہ اثرات کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔
یہ تحقیق دل کے امراض کے علاج میں ایک اہم پیش رفت کی نشاندہی کرتی ہے۔ کلوپیڈوگریل کی 14 فیصد بہتر افادیت اور خون بہنے کے برابر خطرات اسے ایسپرین کے مقابلے میں ایک مضبوط متبادل بناتے ہیں۔ یہ خاص طور پر ان مریضوں کے لیے اہم ہے جو طویل مدتی اینٹی پلیٹلیٹ تھراپی پر ہیں، کیونکہ یہ ان کی زندگیوں کو بچانے میں کلیدی کردار ادا کر سکتی ہے۔
تاہم، یہ بات اہم ہے کہ کلوپیڈوگریل ہر مریض کے لیے موزوں نہیں ہو سکتی۔ جینیاتی عوامل یا دیگر طبی حالات کی وجہ سے کچھ مریضوں کو ایسپرین ہی بہتر نتائج دے سکتی ہے۔ اس لیے ڈاکٹروں کو ہر مریض کی انفرادی حالت کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلہ کرنا ہوگا۔ مزید برآں، پاکستان جیسے ممالک میں، جہاں صحت کے وسائل محدود ہیں، کلوپیڈوگریل کی دستیابی اور لاگت کا جائزہ لینا بھی ضروری ہوگا۔
یہ تحقیق ایک بڑی حقیقت کی طرف بھی اشارہ کرتی ہے کہ سائنسی ترقی مسلسل نئے شواہد کے ساتھ پرانی سمجھی جانے والی سچائیوں کو چیلنج کرتی ہے۔ ایسپرین، جو کبھی دل کے امراض کے علاج کا معیار سمجھی جاتی تھی، اب ایک نئے متبادل کے مقابلے میں پیچھے رہ گئی ہے۔ اس سے یہ سبق ملتا ہے کہ طبی تحقیق میں مسلسل سرمایہ کاری اور نئے شواہد کو قبول کرنے کی ضرورت ہے۔
پاکستان میں صحت عامہ کے اداروں کو چاہیے کہ وہ اس تحقیق کے نتائج کو اپنی پالیسیوں میں شامل کریں اور ڈاکٹروں کو کلوپیڈوگریل کے استعمال کی تربیت دیں۔ ساتھ ہی، عوام میں آگاہی پھیلانے کی ضرورت ہے کہ وہ اپنے ڈاکٹر سے اس دوا کے بارے میں بات کریں، خاص طور پر اگر وہ سی اے ڈی یا دیگر قلبی امراض سے متاثر ہیں۔ یہ تحقیق نہ صرف دل کے مریضوں کے لیے ایک نئی امید ہے بلکہ عالمی صحت کے نظام کو بہتر بنانے کی جانب ایک اہم قدم بھی ہے۔





















