برطانیہ:پناہ گزینوں کیلئے سخت شرائط، خاندان کو بلانے کی سہولت ختم

کوئی نیا درخواست گزار اپنے اہلِ خانہ کو ساتھ بلانے کے لیے درخواست جمع نہیں کرا سکے گا

لندن:برطانیہ نے پناہ گزینوں کے لئے سخت شرائط عائد کرتے ہوئے خاندان کو بلانے کی نئی درخواستیں عارضی طور پر معطل کر دی ہیں۔ وزیرداخلہ یویٹ کوپر کے مطابق پناہ گزینوں کے نظام میں بڑی تبدیلیاں لائی جا رہی ہیں۔

نئی پابندی کی نوعیت

حالیہ فیصلے کے بعد فی الحال کوئی نیا درخواست گزار اپنے اہلِ خانہ کو ساتھ بلانے کے لیے درخواست جمع نہیں کرا سکے گا۔ یہ معطلی عارضی ہے، مگر اس دوران نئے کیسز قبول نہیں ہوں گے۔

یکساں قواعد کا اطلاق

وزیرداخلہ نے واضح کیا کہ اب پناہ گزینوں پر وہی شرائط لاگو ہوں گی جو دیگر مہاجرین پر ہیں۔ ان میں کم از کم 29 ہزار پاؤنڈ سالانہ آمدنی، مناسب رہائش اور اہلِ خانہ کے لیے بنیادی انگریزی زبان کا معیار شامل ہے۔

نفاذ اور انتظامی اقدامات

حکومت نے کہا ہے کہ غیر قانونی طریقے سے آنے والوں کی واپسی کے عمل کو تیز کیا جا رہا ہے۔ ساتھ ہی مہنگے پناہ گزین ہوٹل بند کرنے کی بھی کوششیں جاری ہیں تاکہ اخراجات کم کیے جا سکیں۔

اپوزیشن کا ردِعمل

کنزرویٹو پارٹی کے شیڈو ہوم سیکریٹری کرس فلپ نے فیصلہ ناکافی قرار دیا۔ ان کے مطابق صرف قوانین میں معمولی تبدیلی کافی نہیں، کیونکہ برطانیہ کو سرحدی سکیورٹی کے سنگین بحران کا سامنا ہے۔

پس منظر: برطانیہ کا خاندان کے ملاپ کا نظام

عام طور پر خاندان کے ملاپ کی اسکیم کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ محفوظ حیثیت رکھنے والے افراد اپنے قریبی رشتہ داروں (مثلاً شریکِ حیات اور کم عمر بچے) کو قانونی طریقے سے اپنے ساتھ لا سکیں۔ پچھلے برسوں میں سرحدی دباؤ، غیر قانونی آمد اور رہائش کے اخراجات میں اضافے نے اس اسکیم کے عملی نفاذ کو مشکل بنا دیا تھا۔ اسی سیاق میں حکومت نے عارضی معطلی اور سخت تر اقتصادی و لسانی شرائط کی سمت قدم بڑھایا ہے تاکہ ایک یکساں پیمانہ بنایا جا سکے اور انتظامی بوجھ کم ہو۔

تفصیلی تجزیہ

یہ قدم حکومت کی دوہری ترجیح کو ظاہر کرتا ہے:
سرحدی نظم و ضبط اور اخراجات میں کمی، اور
امتیازی سلوک کے تاثر کو کم کرنا، یعنی پناہ گزینوں اور دیگر مہاجرین کے لیے ایک جیسے قواعد۔
عملی طور پر، آمدنی کی حد اور رہائش کے معیار جیسے تقاضے کم آمدنی والے پناہ گزینوں کے لیے مشکل رکاوٹ ثابت ہو سکتے ہیں۔ دوسری طرف حکومت سمجھتی ہے کہ اس سے خودکفالت بڑھے گی اور رفاہی نظام پر بوجھ کم ہوگا۔
ہوٹلوں کی بندش کا ارادہ اخراجات گھٹائے گا، مگر اس کے لیے متبادل رہائش، کیس پروسیسنگ کی رفتار اور مقامی حکومتوں کی صلاحیت میں اضافہ ضروری ہوگا، ورنہ عارضی بے ترتیبی پیدا ہو سکتی ہے۔
اپوزیشن کی تنقید ظاہر کرتی ہے کہ سیاسی طور پر مزید سخت اقدامات کا مطالبہ برقرار ہے۔ یوں پالیسی پر قانونی چیلنجز، انسانی حقوق کی بحث اور انتظامی نفاذ—تینوں محاذوں پر بحث جاری رہنے کا امکان ہے۔

مثبت پہلو

یکساں اصول: پناہ گزین اور دیگر مہاجرین کے لیے ایک جیسے قواعد سے وضاحت اور سیدھا نظام ملتا ہے۔
خودکفالت کی ترغیب: آمدنی اور زبان کی شرط سے ملازمت اور انضمام کی رفتار بہتر ہو سکتی ہے۔
اخراجات میں کمی: ہوٹلوں پر انحصار کم ہونے سے سرکاری خرچ گھٹ سکتا ہے۔
غیر قانونی آمد کی حوصلہ شکنی: واپسی کے تیز عمل سے روک تھام کا پیغام جاتا ہے۔

منفی پہلو

خاندانوں کی علیحدگی: عارضی معطلی سے اہلِ خانہ کے ملنے میں تاخیر اور نفسیاتی دباؤ بڑھ سکتا ہے۔
آمدنی کی اونچی حد: 29 ہزار پاؤنڈ سالانہ شرط کمآمدنی والے یا نئے آنے والے افراد کے لیے حقیقت پسندانہ نہیں محسوس ہو سکتی۔
انسانی حقوق کے خدشات: سختیوں سے کمزور اور حساس کیسز پر منفی اثر پڑنے کا اندیشہ ہے۔
انتظامی چیلنج: ہوٹل بند کرنے کے ساتھ اگر متبادل رہائش اور عملہ مہیا نہ ہوا تو عملی مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔

آگے کا منظرنامہ

فیصلے کی عارضی نوعیت بتاتی ہے کہ حکومت جائزہ لے کر آئندہ مہینوں میں مزید وضاحت یا ترمیم لا سکتی ہے۔ اصل آزمائش یہ ہوگی کہ کیسوں کی پروسیسنگ کتنی تیز ہوتی ہے، متبادل رہائش کتنی جلد میسر آتی ہے، اور عدالتی و سیاسی چیلنجز کا سامنا کیسے کیا جاتا ہے۔ اگر یہ مراحل متوازن رہے تو حکومت اپنے سکیورٹی اور انضمام دونوں اہداف کے قریب جا سکتی ہے؛ بصورت دیگر سخت تنقید اور انسانی لاگت میں اضافہ ہو گا۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین