بیوی نے شوہر کو سوشل میڈیا پر دوسری بیوی کے ساتھ پہچان لیا

جتیندر کے اہلخانہ کو سب کچھ معلوم تھا لیکن انہوں نے جان بوجھ کر چھپایا، شیلو

بھارتی ریاست اتر پردیش کے ضلع ہردوئی میں ایک انوکھا واقعہ پیش آیا جس نے نہ صرف مقامی عوام کو حیران کر دیا بلکہ سوشل میڈیا پر بھی تہلکہ مچا دیا۔ معاملہ ایک ایسے شوہر کا ہے جو شادی کے کچھ عرصے بعد لاپتا ہوگیا اور کئی سال بعد اچانک انسٹاگرام ریلز میں اپنی بیوی کے سامنے آ گیا۔

شادی اور ابتدائی زندگی

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق جتیندر کمار کی 2017 میں مران نگر کی خاتون شیلو کے ساتھ شادی ہوئی۔ شادی کے کچھ ہی عرصے بعد ان کے ہاں ایک بیٹے کی پیدائش بھی ہوئی۔ لیکن خوشیوں کے یہ لمحات زیادہ دیر قائم نہ رہ سکے۔

جہیز کے مطالبات اور ہراسانی

شیلو نے الزام لگایا کہ شادی کے بعد سے ہی جتیندر اور اس کے اہل خانہ اسے جہیز کے لیے ہراساں کرتے رہے۔ شوہر سونے کی چین اور دیگر قیمتی سامان کا مطالبہ کرتا رہا، جس سے گھریلو تنازعات میں اضافہ ہوا۔

شوہر کا اچانک لاپتا ہونا

رپورٹس کے مطابق جتیندر اچانک اپریل 2018 میں لاپتا ہوگیا۔ اس کی بیوی اور اہل خانہ نے تھانے میں گمشدگی کی ایف آئی آر درج کروائی، تاہم کئی برس تک اس کا کوئی سراغ نہ مل سکا۔

بیوی پر قتل کا الزام

اس دوران جتیندر کے اہل خانہ نے الٹا شیلو اور اس کے گھر والوں پر قتل کا الزام لگا دیا۔ اس دباؤ کے باعث شیلو اپنے بیٹے کے ساتھ میکے میں رہنے پر مجبور ہوگئی اور انصاف کی امیدیں تقریباً ختم ہو گئیں۔

انسٹاگرام پر شوہر کی جھلک

کئی برس بعد قسمت نے ایک نیا موڑ لیا۔ شیلو انسٹاگرام استعمال کر رہی تھی کہ اچانک ایک ریل میں اس نے اپنے شوہر کو ایک دوسری خاتون کے ساتھ لدھیانہ میں دیکھا۔ اس ویڈیو نے پورے معاملے کو یکدم زندہ کر دیا۔

دوسری شادی کا انکشاف

شیلو نے دعویٰ کیا کہ اس کا شوہر نہ صرف زندہ ہے بلکہ اس نے دوسری شادی بھی کر لی ہے اور اسی خاتون کے ساتھ رہ رہا ہے۔ اس نے مزید کہا کہ جتیندر کے اہلخانہ کو سب کچھ معلوم تھا لیکن انہوں نے جان بوجھ کر چھپایا۔

پولیس کی تحقیقات

پولیس کے مطابق شادی کے ایک سال بعد جتیندر نے بغیر اطلاع کے گھر چھوڑ دیا تھا اور گمشدگی کی رپورٹ بھی درج تھی۔ اب شیلو کی جانب سے نئی درخواست ملنے پر معاملے کی تحقیقات دوبارہ شروع کر دی گئی ہیں۔

سوشل میڈیا اور گمشدہ افراد کی واپسی

یہ واقعہ اس بات کی تازہ مثال ہے کہ کس طرح سوشل میڈیا گمشدہ افراد کو تلاش کرنے میں کردار ادا کر رہا ہے۔ اس سے قبل بھارت اور دیگر ممالک میں بھی ایسے کئی واقعات رپورٹ ہوئے ہیں، جہاں برسوں سے لاپتا افراد فیس بک یا انسٹاگرام کی تصاویر اور ویڈیوز کے ذریعے ڈھونڈ نکالے گئے۔

ملتے جلتے واقعات

2022 میں بھارتی ریاست بہار میں ایک شخص 10 سال بعد فیس بک لائیو میں نظر آیا، جب اس کی بیوی نے اسے دیکھ کر پولیس کو اطلاع دی۔

دہلی میں ایک لاپتا لڑکی کو ٹک ٹاک ویڈیوز کے ذریعے ٹریس کیا گیا، جو ایک دوسری ریاست میں اپنے دوست کے ساتھ رہ رہی تھی۔

پاکستان میں بھی ایک شخص کئی سال بعد یوٹیوب ویڈیو کے ذریعے پہچانا گیا اور اس کا خاندان اس تک پہنچنے میں کامیاب ہوا۔

ہردوئی کا یہ واقعہ واضح کرتا ہے کہ موجودہ دور میں ڈیجیٹل پلیٹ فارمز انسانی تعلقات اور قانونی معاملات پر غیر معمولی اثر ڈال رہے ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ پولیس کی تحقیقات کے بعد جتیندر اور اس کے خاندان کے خلاف کیا قانونی کارروائی عمل میں آتی ہے اور شیلو کو کس طرح انصاف فراہم کیا جاتا ہے۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین