پاکستان کی ابھرتی ہوئی اداکارہ ماریہ ملک نے حال ہی میں فوشیا میگزین کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں شوبز انڈسٹری کے چمکتے دمکتے پردے کے پیچھے کی حقیقتوں پر کھل کر بات کی۔ اپنے تین سالہ کیریئر کے دوران پیش آنے والے تجربات، چیلنجز، اور کامیابیوں پر روشنی ڈالتے ہوئے انہوں نے انکشاف کیا کہ شوبز انڈسٹری بظاہر جتنی پرکشش دکھائی دیتی ہے، اتنی ہی پیچیدہ اور بعض اوقات غیر منصفانہ بھی ہو سکتی ہے۔ ماریہ نے اپنی جدوجہد، پروڈیوسرز کے رویوں، ڈراموں کی مقبولیت، اور انڈسٹری کے تاریک پہلوؤں پر کھل کر گفتگو کی، جو نئے آنے والوں کے لیے ایک اہم پیغام ہے۔
شوبز میں قدم
ماریہ ملک نے اپنے کیریئر کے آغاز کو یاد کرتے ہوئے بتایا کہ جب انہوں نے 2022 میں شوبز انڈسٹری میں قدم رکھا، ان کا خواب ہمیشہ مرکزی کردار ادا کرنے کا تھا۔ تاہم، انہیں زیادہ تر معاون کرداروں کی پیشکشیں موصول ہوئیں، جیسے کہ ہیروئن کی دوست یا بہن کے کردار۔ انہوں نے کہا کہ ان کرداروں کو قبول کرنے سے انکار کرنا ان کے لیے آسان نہیں تھا، کیونکہ پروڈیوسرز کا رویہ اکثر عجیب اور طنزیہ ہوتا تھا۔ "وہ سمجھتے تھے کہ میں نے ابھی کچھ کیا ہی نہیں اور میں انکار کر رہی ہوں۔ ان کا لہجہ یہ ظاہر کرتا تھا کہ میں اپنی اوقات سے بڑھ کر سوچ رہی ہوں
تاہم، انہوں نے اپنی محنت اور عزم سے اس رویے کو تبدیل کر دکھایا۔ وقت گزرنے کے ساتھ وہی پروڈکشن ہاؤسز، جنہوں نے ابتدا میں انہیں نظر انداز کیا، ان کے ٹیلنٹ کو تسلیم کرتے ہوئے مرکزی کرداروں کی پیشکشیں لے کر آئے۔ آج ماریہ ملک شام 7 اور 9 بجے کے پرائم ٹائم ڈراموں میں مرکزی کرداروں میں نظر آتی ہیں، جو ان کی استقامت اور صلاحیت کی گواہی دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کامیابی کے بعد وہی لوگ جو پہلے عجیب رویہ رکھتے تھے، اب احترام اور دوستانہ انداز سے پیش آتے ہیں۔ یہ ان کی جدوجہد کی کامیابی اور انڈسٹری کی حقیقت کی عکاسی کرتا ہے کہ یہاں کامیابی ہی سب کچھ طے کرتی ہے۔
ماریہ نے پاکستانی ٹیلی ویژن کے پرائم ٹائم ڈراموں کے بارے میں بھی کھل کر بات کی۔ انہوں نے بتایا کہ شام 7 اور 9 بجے نشر ہونے والے ڈراموں کو زیادہ توجہ نہیں ملتی، جب تک کہ کوئی ڈراما غیر معمولی طور پر مقبول نہ ہو جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ اداکار اپنی محنت سے بنائے گئے کرداروں پر تنقید یا رائے کی توقع رکھتے ہیں تاکہ وہ اپنی کارکردگی کو بہتر بنا سکیں، لیکن بدقسمتی سے ان اوقات کے ڈراموں کو ناظرین کی جانب سے زیادہ فیڈبیک نہیں ملتی۔ "ہم سب محنت کرتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ ہمیں بتایا جائے کہ ہمارا کام کیسا ہے، ہمیں کہاں بہتری کی ضرورت ہے۔ لیکن جب تک کوئی ڈراما ہٹ نہ ہو جائے، اسے وہ پذیرائی نہیں ملتی جو اس کا حق ہے،” انہوں نے افسوس کا اظہار کیا۔
یہ بیان پاکستانی ڈرامہ انڈسٹری کے ایک اہم پہلو کو اجاگر کرتا ہے کہ ناظرین کی توجہ زیادہ تر رات 8 بجے کے مقبول ڈراموں تک محدود رہتی ہے، جبکہ دیگر اوقات میں نشر ہونے والے ڈراموں کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ ماریہ نے زور دیا کہ انڈسٹری کو نئے ٹیلنٹ کو فروغ دینے اور ڈراموں کی تنوع کو پذیرائی دینے کے لیے ناظرین کی عادات کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔
شوبز انڈسٹری کا تاریک رخ
شوبز انڈسٹری کے چیلنجز پر بات کرتے ہوئے ماریہ ملک نے انکشاف کیا کہ اگرچہ یہ انڈسٹری مجموعی طور پر محفوظ ہے، لیکن یہ سب کے لیے یکساں مواقع فراہم نہیں کرتی۔ انہوں نے ذاتی طور پر ہراسانی کا کوئی تجربہ نہیں کیا، لیکن انہوں نے اپنے ساتھیوں سے ایسی کہانیاں سنی ہیں جو دل دہلا دینے والی ہیں۔ "میں نے ایسی باتیں سنی ہیں جن سے دل دکھتا ہے۔ یہ انڈسٹری ہر ایک کے لیے یکساں طور پر محفوظ نہیں ہے،” انہوں نے کہا۔
ماریہ نے واضح کیا کہ ان کی خوش قسمتی رہی کہ انہوں نے ہمیشہ اچھے اور پیشہ ور لوگوں کے ساتھ کام کیا، جنہوں نے ان کے تجربات کو مثبت بنایا۔ تاہم، انہوں نے نئے آنے والوں کو مشورہ دیا کہ وہ اپنی حدود طے کریں اور غیر ضروری سماجی تعلقات سے گریز کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کسی کا رویہ نامناسب لگے تو بہتر ہے کہ فوراً فاصلہ اختیار کر لیا جائے۔ "دوسروں کو بدلنے کی کوشش کرنے کے بجائے اپنے آپ کو سنبھالنا زیادہ آسان اور بہتر ہے،” انہوں نے اپنے اصول کی وضاحت کی۔
پیشہ ورانہ حدود اور خودمختاری
ماریہ ملک نے اپنے پیشہ ورانہ رویے کے بارے میں بتایا کہ وہ کام کے علاوہ غیر ضروری تقریبات یا سماجی گروہوں کا حصہ بننے سے گریز کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ اپنی پیشہ ورانہ زندگی کو نجی زندگی سے الگ رکھتی ہیں اور صرف وہی رابطے قائم کرتی ہیں جو کام سے متعلق ہوں۔ یہ اصول انہیں غیر ضروری دباؤ اور نامناسب رویوں سے محفوظ رکھتا ہے۔ ان کا یہ نقطہ نظر نئے آنے والوں کے لیے ایک اہم سبق ہے کہ شوبز انڈسٹری میں کامیابی کے لیے نہ صرف ٹیلنٹ بلکہ ذاتی حدود اور پیشہ ورانہ نظم و ضبط بھی ضروری ہے۔
سوشل میڈیا پر ردعمل
ایکس پر ماریہ ملک کے انٹرویو نے خاصی توجہ حاصل کی۔ ایک صارف نے لکھا، "ماریہ ملک نے شوبز کی حقیقت کو بہت خوبصورتی سے بیان کیا۔ یہ انڈسٹری ہر ایک کے لیے آسان نہیں، لیکن ان کا عزم اور اصول قابل تحسین ہیں۔” ایک اور صارف نے تبصرہ کیا، "نئے اداکاروں کے لیے ماریہ کی کہانی ایک رہنما روشنی ہے۔ ہمیں ایسی ہمت کی ضرورت ہے جو اپنی بات کھل کر کہے۔” یہ ردعمل ان کی ایمانداری اور انڈسٹری کے چیلنجز پر کھل کر بات کرنے کی قدر کو ظاہر کرتے ہیں۔
ماریہ ملک کا یہ انٹرویو پاکستانی شوبز انڈسٹری کے کئی اہم پہلوؤں کو اجاگر کرتا ہے، جو نئے آنے والوں اور موجودہ فنکاروں دونوں کے لیے ایک عظیم سبق ہے۔ ان کی کہانی سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستانی شوبز انڈسٹری میں کامیابی محنت، عزم، اور ذاتی اصولوں کے بغیر ممکن نہیں۔ ان کا معاون کرداروں سے انکار اور مرکزی کرداروں تک کا سفر اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ خود پر یقین اور استقامت کس طرح نئے دروازے کھول سکتی ہے۔
تاہم، ماریہ کا یہ انکشاف کہ شوبز انڈسٹری ہر ایک کے لیے محفوظ نہیں، ایک سنگین مسئلے کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ پاکستانی شوبز انڈسٹری میں ہراسانی اور غیر منصفانہ رویوں کی کہانیاں کوئی نئی بات نہیں ہیں۔ حال ہی میں سینئر اداکار ندیم بیگ نے بھی اسی انڈسٹری کے زوال پر بات کی تھی، جہاں وسائل کی کمی اور پیشہ ورانہ تربیت کی عدم موجودگی نے معیار کو متاثر کیا ہے۔ ماریہ کی بات اسی تناظر میں مزید اہمیت رکھتی ہے کہ انڈسٹری میں نہ صرف معیاری پروڈکشنز بلکہ ایک محفوظ اور منصفانہ ماحول کی بھی ضرورت ہے۔
ماریہ کا پرائم ٹائم ڈراموں کے بارے میں نقطہ نظر بھی ایک اہم سوال اٹھاتا ہے کہ پاکستانی ناظرین کی عادات کس طرح انڈسٹری کے تنوع کو محدود کر رہی ہیں۔ شام 7 اور 9 بجے کے ڈراموں کو نظر انداز کرنے کی روایت نئے ٹیلنٹ اور مختلف کہانیوں کے لیے رکاوٹ بن رہی ہے۔ اس کے لیے نہ صرف ناظرین بلکہ چینلز اور پروڈیوسرز کو بھی ذمہ داری لینے کی ضرورت ہے کہ وہ مختلف اوقات کے ڈراموں کو پروموٹ کریں اور نئے اداکاروں کو مواقع فراہم کریں۔
ماریہ ملک کی کہانی ایک ایسی عورت کی کہانی ہے جو اپنی محنت، اصولوں، اور خودمختاری کے ذریعے شوبز انڈسٹری کے چیلنجز سے نمٹ رہی ہے۔ ان کا یہ پیغام کہ دوسروں کو بدلنے کے بجائے اپنے آپ کو سنبھالنا بہتر ہے، نہ صرف شوبز بلکہ ہر شعبے کے لیے ایک عالمگیر سبق ہے۔ پاکستانی شوبز انڈسٹری کو ماریہ جیسے اداکاروں کی ضرورت ہے جو نہ صرف اپنے فن سے بلکہ اپنی ایمانداری اور اصولوں سے بھی انڈسٹری کو بہتر بنانے میں کردار ادا کریں۔ اگرچہ انڈسٹری کے تاریک پہلو موجود ہیں، لیکن ماریہ جیسے فنکار اس بات کی امید ہیں کہ محنت اور پیشہ ورانہ رویے کے ساتھ مثبت تبدیلی ممکن ہے۔





















