یوں محسوس ہوتا ہے جیسے پنجاب کی مٹی میں اب جہالت کے اندھیروں کے بجائے علم کی شمعیں جل رہی ہیں، وہ بچے جو کبھی کچے راستوں پر کھیلتے کھیلتے خوابوں سے محروم رہ گئے تھے، آج کتابوں کے اوراق سے اپنا مستقبل روشن کر رہے ہیں۔ یہ محض تعلیمی ادارے نہیں بلکہ امید کے چراغ ہیں جو نسلوں کو تاریکی سے روشنی کی طرف لے جا رہے ہیں۔ ناخواندگی کے بوجھ تلے دبے والدین جب اپنے بچوں کو سکول جاتے دیکھتے ہیں تو ان کی آنکھوں میں کل کی نئی صبح کا یقین جھلملاتا ہے۔ لٹریسی اینڈ نان فارمل ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ دراصل ایک ایسا سفر ہے جو فرد سے آغاز کرتا ہے اور قوم پر ختم ہوتا ہے، ایک ایسا کارواں جو قافلے کے ہر پسماندہ مسافر کو اپنے ساتھ لے کر چل رہا ہے۔ یہی وہ خواب ہے جس کی تعبیر ایک دن سو فیصد خواندہ پنجاب اور ایک روشن پاکستان کی صورت میں ہمارے سامنے ہو گی۔
پنجاب میں ناخواندگی کے اندھیروں کو دور کرنے اور سکول سے باہر بچوں کو تعلیمی مواقع فراہم کرنے کیلئے لٹریسی اینڈ نان فارمل بیسک ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ 2002 میں قائم کیا گیا۔ اس کا مقصد ایسے بچوں اور بالغ افراد تک تعلیم کی رسائی یقینی بنانا تھا جو رسمی تعلیمی نظام سے باہر رہ گئے تھے۔ بچوں کیلئے نان فارمل بیسک ایجوکیشن سکولز اور بڑوں کیلئے بالغ خواندگی مراکز قائم کئے گئے جبکہ 2021 میں ڈائریکٹوریٹ جنرل آف لٹریسی اینڈ این ایف بی ای کو بطور منسلک محکمہ تشکیل دیا گیا۔ مردم شماری 2023 کے مطابق پنجاب میں تقریباً 96 لاکھ بچے سکول سے باہر اور 3 کروڑ 10 لاکھ افراد ناخواندہ ہیں جبکہ صوبے کی خواندگی کی شرح صرف 66.25 فیصد ہے۔ نان فارمل نظام کے تحت پرائمری تعلیم 48 ماہ میں مکمل کرائی جاتی ہے اور بالغ خواندگی چھ ماہ میں ممکن بنائی جاتی ہے۔ان خیالات کااظہار سیکرٹری لٹریسی سیدحیدراقبال نے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا کہ نان فارمل بیسک سکولز میں نصاب اور کتب پنجاب کریکولم اینڈ ٹیکسٹ بک بورڈ کی منظوری سے پڑھائے جاتے ہیں اور تمام طلبہ کو مفت کتابیں، بستے اور دیگر سہولیات فراہم کی جاتی ہیں جبکہ مقامی اساتذہ کو بطور معلم منتخب کیا جاتا ہے جن میں 85 فیصد خواتین اساتذہ ہیں۔وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی خصوصی کاوش کی بدولت یکم جنوری 2025 سے ان اساتذہ کا اعزازیہ 20 ہزار روپے مقرر کیا گیا ہے اس سے قبل ان اساتذہ کوساڑھے 8ہزارروپے معاوضہ دیا جاتا تھا۔ نان فارمل بیسک ایجوکیشن کے تمام سکولز کو جیو ٹیگنگ کے ذریعے رجسٹر کیا گیا ہے اور ان کی مانیٹرنگ نان فارمل ایجوکیشن مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم کے تحت کی جاتی ہے۔

یہ محکمہ ان بچوں کیلئے امید کا چراغ ہے جو کبھی سکول نہیں جا سکے۔ اس وقت صوبے میں 20 ہزار سے زائد نان فارمل ایجوکیشن ادارے فعال ہیں جن میں 6 لاکھ انہتر ہزار سے زائد بچے داخل ہیں۔ پہلی بار صوبے کی تاریخ میں جی پی ای کے تعاون سے تعلیم پروگرام کے تحت جنوبی پنجاب کے پسماندہ اضلاع میں ایک ہزار اے ایل پی سکولز قائم کئے گئے جن میں چالیس ہزار بچے داخل کئے گئے ہیں۔ ان اداروں میں 627 بالغ خواندگی مراکز بھی قائم کئے گئے ہیں جن میں 14 ہزار سے زائد افراد، بالخصوص خواتین، تعلیم حاصل کر رہی ہیں۔ یہ مراکز صرف عمارتوں تک محدود نہیں بلکہ مساجد، مدارس، چرچز، جیلوں، بھٹہ خشت، فیکٹریوں، خانہ بدوش بستیوں اور سماجی بہبود کی عمارتوں میں بھی قائم کئے گئے ہیں۔ جہاں حکومت سکول نہ بنا سکی وہاں محکمہ نے تعلیم کی شمع روشن کی۔
سیکرٹری لٹریسی سید اقبال حیدر نے گفتگو کے دوران مزید کہا کہ تعلیم کے معیار کو یقینی بنانے کیلئے طلبہ کی جانچ اور امتحانات کا شفاف نظام اپنایا گیا ہے۔ رواں برس 57 ہزار سے زائد طلبہ نے جماعت پنجم کے امتحانات پاس کئے اور ایک لاکھ بیس ہزار طلبہ کو سرکاری سکولوں میں ضم کیا گیا۔ ان میں وہ بچے بھی شامل ہیں جنہوں نے نان فارمل نظام سے جماعت پنجم مکمل کر کے براہِ راست جماعت ششم میں داخلہ لیا۔ معیار کو برقرار رکھنے کیلئے اساتذہ کے اعزازیہ میں اضافہ کیا گیا اور تربیت کا فریم ورک وضع کیا گیا۔ بالغ طلبہ کے نصاب میں مارکیٹ میں استعمال ہونے والی عملی مہارتوں کو بھی شامل کیا گیا تاکہ وہ روزگار کے مواقع حاصل کر سکیں۔ امتحانات میں جدت لاتے ہوئے اس سال تقریباً دو لاکھ طلبہ کی تشخیص موبائل ایپس کے ذریعے کی گئی جبکہ چار لاکھ سے زائد طلبہ پروموشنل امتحانات میں شریک ہوئے جن کی کامیابی کی شرح 98 فیصد رہی۔
محکمہ نے شفافیت اور احتساب کیلئے ٹیکنالوجی پر مبنی مانیٹرنگ کا نظام اپنایا۔ سال بھر میں تین لاکھ سے زائد وزٹس کو آئی ٹی سسٹم کے ذریعے ریکارڈ کیا گیا اور اساتذہ کو جدید سہولتوں کیلئے ایک ہزار سات سو اکتالیس ٹیبلیٹس فراہم کئے گئے۔ پالیسی سطح پر اسٹریٹجک پلان 2025-30 ترتیب دیا گیا ہے جس کا ہدف صوبے کو صفر سکول سے باہر بچوں اور سو فیصد خواندگی تک پہنچانا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ نان فارمل ایجوکیشن کیلئے کم سے کم معیارات بھی وضع کیے گئے ہیں تاکہ تمام مراکز میں ایک جیسے اور معیاری اقدامات کیے جا سکیں۔ اس ماڈل کی سب سے بڑی کامیابی اس کی لاگت ہے۔ ایک طالب علم پر صرف 620 روپے ماہانہ خرچ آتا ہے، جبکہ سکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ میں یہ لاگت چار ہزار روپے فی طالب علم ہے، اس طرح یہ نظام بیک وقت شمولیتی، مؤثر اور پائیدار ہے۔
اس نظام کی کامیابیاں صرف اعداد و شمار تک محدود نہیں بلکہ حقیقی زندگیوں میں نظر آتی ہیں۔ نان فارمل مراکز سے تعلیم پانے والے طلبہ آج میڈیکل، انجینئرنگ اور دیگر پروفیشنل تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ کچھ پنجاب پولیس میں خدمات انجام دے رہے ہیں، کچھ ایم بی بی ایس ڈاکٹر بن گئے ہیں اور کچھ لیکچرار کی حیثیت سے نوجوان نسل کی تعلیم میں حصہ ڈال رہے ہیں۔ ان طالب علموں میں عروج فاطمہ، آصفہ بتول، محمد شاہد اقبال اور تحریم فاطمہ جیسے نام نمایاں ہیں جو آج اپنی محنت اور اس نظام کی بدولت کامیابیاں سمیٹ رہے ہیں۔
سید اقبال حیدرکایہ بھی کہنا تھا کہ محکمہ اب مستقبل کی طرف بڑھ رہا ہے اور اس نے اپنی حکمت عملی واضح کر لی ہے۔ سکول سے باہر بڑے بچوں پر خصوصی توجہ دے کر انہیں دوبارہ تعلیم کے دھارے میں شامل کیا جائے گا جبکہ بالغوں کیلئے ایک جدید موبائل ایپ تیار کی جا رہی ہے جس کے ذریعے ڈیجیٹل لرننگ اور لائف لانگ ایجوکیشن کو فروغ ملے گا۔ یہ دوہری حکمت عملی پنجاب کو ناخواندگی سے نجات دلانے اور تعلیم کو ہر گھر تک پہنچانے کا ذریعہ بنے گی۔ اس طرح لٹریسی اینڈ نان فارمل ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ صرف ایک تعلیمی ادارہ نہیں بلکہ مستقبل کو سنوارنے والی ایک تحریک ہے جو زندگیوں کو بدل رہی ہے، خاندانوں کو غربت اور محرومی سے نکال رہی ہے اور ایک روشن، تعلیم یافتہ پنجاب کی بنیاد رکھ رہی ہے۔





















