تحریر : پروفیسر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری (ماہر معاشیات )
کرپٹو کرنسی کا تصور محض ایک دہائی پر محیط ہے، لیکن اس نے عالمی مالیاتی ڈھانچے میں ایک بنیادی سوال کھڑا کر دیا ہے کہ کیا روایتی کرنسی نظام مستقبل میں اپنی موجودہ شکل برقرار رکھ سکے گا یا نہیں۔ 2009ء میں ’’ساتوشی ناکاموتو‘‘ کے نام سے ایک گمنام شخصیت نے بٹ کوائن متعارف کروایا، جس کا مقصد ایک ایسا مالیاتی ماڈل تشکیل دینا تھا جو ریاستی کنٹرول اور بینکاری نظام سے آزاد ہو۔ ابتدا میں یہ رجحان صرف ٹیکنالوجی کے ماہرین اور شوقین افراد تک محدود رہا، مگر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس کی قدر میں غیر معمولی اضافہ اور اس کے پھیلاؤ نے عالمی معیشت کو سنجیدہ سوالات کے کٹہرے میں کھڑا کر دیا ہے۔بٹ کوائن کے بعد ایتھیریئم، رپل اور لائٹ کوائن جیسی کرنسیاں بھی منظرِ عام پر آئیں، جنہوں نے محض لین دین تک محدود رہنے کے بجائے "اسمارٹ کانٹریکٹس” اور بلاک چین ٹیکنالوجی کے ذریعے اپنی اہمیت ثابت کی۔
عالمی سطح پر کرپٹو کرنسی کو لے کر ایک دوہرا رویہ پایا جاتا ہے۔ امریکہ، یورپ اور روس جیسے ممالک اس کو ریگولیٹری فریم ورک میں لانے کی کوشش کر رہے ہیں، جبکہ کئی ریاستیں اس کے خطرات کے باعث محتاط ہیں۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ اب تک کوئی بڑی معیشت کرپٹو کرنسی کو اپنی قومی کرنسی کے طور پر تسلیم نہیں کر سکی، تاہم سبھی بڑی ریاستیں اسے باریک بینی سے مانیٹر کر رہی ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ عوامی سطح پر کرپٹو کے استعمال میں اضافہ ہے، جس نے ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک کی حکومتوں کو اس پرواضح مؤقف اختیار کرنے پر مجبور کیا ہے۔ یہ دباؤ صرف مالیاتی نہیں بلکہ سیاسی بھی ہے۔
کرپٹو کرنسی آج دنیا بھر میں نہ صرف ایک معاشی مسئلے کے طور پر بلکہ ایک سماجی و فکری سوال کے طور پر بھی ابھر رہی ہے۔ یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ یہ دنیا کو مثبت سمت میں لے جائے گی یا منفی سمت میں دھکیل دے گی، تاہم عالمی سطح پر اس کی بڑھتے ہوئے استعمال نے حکومتوں کو محتاط کر دیا ہے۔ ایک دوسرا پہلو یہ بھی ہے کہ عوام اور حکومتوں کے پاس اس کرنسی کے بارے میں خاطر خواہ معلومات موجود نہیں ہیں۔ "بٹ کوائن ” کی قانونی حیثیت دنیا کے ہر ملک میں مختلف ہے۔ کچھ ریاستیں اسے باقاعدہ کرنسی کا درجہ دے کر اپنا چکی ہیں جبکہ کئی ممالک کرپٹو کرنسی پر مکمل پابندی کے حامی ہیں
پاکستان میں کرپٹو کرنسی کا سفر ابتداء میں غیر رسمی اور متنازعہ رہا۔ لیکن وقت کے ساتھ ساتھ عوامی سطح پر اس کا استعمال بڑھ رہا ہے ۔ 2025ء کے ابتداء میں حکومت نے ’’پاکستان کرپٹو کونسل‘‘ کے قیام کے ساتھ کرپٹو کو پالیسی سطح پر تسلیم کیا اور اسٹریٹجک بٹ کوائن ریزرو کی تشکیل کا اعلان بھی کیا۔ اس کے ساتھ حکومتی سطح پر ’’پاکستان ورچوئل ایسٹ ریگولیٹری اتھارٹی‘‘ (PVARA) بھی قائم کی گئی۔ رپورٹس کے مطابق پاکستان میں تقریباً 4 کروڑ سے زائد افراد کرپٹو کرنسی کے لین دین میں شامل ہیں اور سالانہ سیکڑوں ارب ڈالر کے برابر ڈیجیٹل کرنسی کو تجارتی سطح پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ مزید یہ کہ حکومت نے بٹ کوائن مائننگ اور مصنوعی ذہانت کے مراکز کے لیے 2 ہزار میگاواٹ اضافی بجلی مختص کی ہے۔
اس کا ایک اور دلچسپ پہلو یہ بھی ہے کہ ان سرکاری اقدامات سے قبل ہی پاکستان میں عوامی سطح پر کرپٹو کا استعمال غیر معمولی حد تک بڑھ چکا تھا۔ اب پاکستان کے لیے سب سے اہم سوال یہ ہے کہ آیا وہ اس کرنسی کو ریگولیٹ کر کے اپنے فائدے میں ڈھالے گا یا محض پابندیوں کے ذریعے اسے غیر رسمی دائرے میں دھکیلتا رہے گا۔ بہر صورت یہ خطرہ موجود ہے کہ اگر حکومتی سطح پر اس کو مانیٹر نہ کیا گیا تو کرپٹو کرنسی کے غیر قانونی استعمال سے عوام کا پیسہ ڈوبنے کے ساتھ ساتھ منی لانڈرنگ اور غیر قانونی سرگرمیوں میں بھی اضافہ ہو سکتا ہے۔
مجموعی طور پر اسلامی تاریخ میں کرنسی کے اجراء کا اختیار اور کنٹرول زیادہ تر ریاست کے پاس رہا ہے۔ ایک اور اہم بات یہ ہے کہ ایک ہی فتویٰ یا رائے تمام کرپٹو کرنسیوں (Cryptocurrencies) پر لاگو نہیں ہو سکتی، کیونکہ یہ اپنی نوعیت، مقصد اور کام کے طریقوں میں ایک دوسرے سے بہت مختلف ہیں۔ مثلاً، بٹ کوائن جیسی کچھ کرپٹو کرنسیوں کا مقصد تبادلے کے ذریعہ کے طور پر کام کرنا ہے، جبکہ کچھ دوسری کرنسیوں، جیسے یوٹیلیٹی ٹوکنز یا سکیورٹی ٹوکنز، خاص پلیٹ فارمز یا منصوبوں سے منسلک ہوتی ہیں اور مختلف مقاصد کے لیے استعمال ہوتی ہیں۔
شریعت کرنسی کے معاملے میں جوئے اور قیاس آرائیوں سے منع کرتی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ کرنسی کے لین دین میں ضرورت سے زیادہ قیاس آرائی یا جوئے جیسے عناصر شامل نہیں ہونے چاہئیں۔ وہ لین دین جو خالصتاً قیاس آرائی پر مبنی ہوں یا جن میں حد سے زیادہ غیر یقینی اور خطرہ شامل ہو، وہ غیر شرعی سمجھے جاسکتے ہیں۔ شریعت کے مطابق کرپٹو کرنسیوں کو ممکنہ خطرات اور کمزوریوں سے محفوظ رکھنے کے لیے مضبوط حفاظتی تدابیر اپنانا ضروری ہے
اسلامی تعلیمات میں کرپٹو کرنسی کی حلت یا حرمت کا انحصار اس کے طریقۂ استعمال پر ہے۔ بلکہ یہ دیکھتا ہے کہ اس کے نتیجے میں سرمایہ کار اور سماج کو فائدہ پہنچ رہا ہے یا نقصان۔ کرپٹو کے بارے میں سب سے بڑی تشویش یہ ہے کہ سرمایہ کار کے تحفظ کے لیے کوئی مرکزی نظام موجود نہیں۔ اگر اچانک یہ مارکیٹ کریش ہو جائے تو سرمایہ کار کے پاس اپنی رقوم واپس لینے کا کوئی پلیٹ فارم نہیں۔ یہی پہلو فقہی اور اخلاقی طور پر سب سے بڑا سوالیہ نشان ہے۔
اسلام ایک مکمل دین اور ضابطۂ حیات ہے، جو نہ صرف مذہبی بلکہ معاشی رویوں کی بھی رہنمائی کرتا ہے۔ لین دین کے اصول و ضوابط کے ساتھ ساتھ اسلام تاجر اور صارف دونوں کے معاشی حقوق کے تحفظ پر زور دیتا ہے۔ اس نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو کوئی بھی نظام یا کرنسی اگر غرر (غیر یقینی) پر مبنی ہو اور صارف کے مالی تحفظ کی ضمانت فراہم نہ کرے تو وہ اسلامی نقطۂ نظر سے ناپسندیدہ قرار پاتا ہے۔ موجودہ حالات میں کرپٹو کرنسی کے بارے میں یہی خدشات زیادہ نمایاں ہیں۔ تاہم، اگر یہی کرنسی حکومت کے زیرِ انتظام متعارف کروائی جائے اور اسے ریاستی سطح پر ڈیجیٹلائز کر دیا جائے تو اس سے متعلق کئی شرعی اور عملی قباحتوں کا ازالہ ممکن ہو سکتا ہے۔
موجودہ دور چونکہ ٹیکنالوجی کا دور ہے اور روزانہ نئی ایجادات سامنے آ رہی ہیں، اس لیے حکومتوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ ان پر فوری ردِعمل دیں، لیکن انتہائی احتیاط کے ساتھ۔ کرپٹو کرنسی پر مکمل پابندی اس مسئلے کا حل نہیں، بلکہ اس پر باریک بینی سے جائزہ لے کر مؤثر قانون سازی کی جانی چاہیے۔
موجودہ صورتِ حال کے پیشِ نظر سب سے موزوں حکمتِ عملی یہ ہے کہ ریاست اپنی مرکزی ڈیجیٹل کرنسی متعارف کروائے تاکہ غیر ریگولیٹڈ اور غیر شفاف کرنسیوں کی حوصلہ شکنی کی جا سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ کرپٹو لین دین کے لیے ایک جامع قانونی فریم ورک اور ریگولیٹری اتھارٹی قائم کی جائے جو سرمایہ کار کے تحفظ کو یقینی بنائے۔ عوامی سطح پر آگاہی اور تعلیمی پروگرام متعارف کروانا بھی ضروری ہے تاکہ لوگ اندھی سرمایہ کاری کے بجائے باخبر اور دانشمندانہ فیصلے کر سکیں۔ مزید یہ کہ علماء، ماہرینِ معاشیات اور ٹیکنالوجی کے ماہرین پر مشتمل ایک مشترکہ مشاورتی بورڈ تشکیل دیا جانا چاہیے جو اس نظام کی شرعی و معاشی حیثیت پر رہنمائی فراہم کرے۔ اگر ممکن ہو تو کرپٹو کرنسی کو سونے یا دیگر حقیقی اثاثوں کے ساتھ منسلک کر دیا جائے تاکہ اس کی قدر میں استحکام اور اعتماد پیدا کیا جا سکے۔





















