والدین کے لیے سب سے بڑا امتحان بچوں کی ضد اور ان کی نہ سننے کی عادت ہوتی ہے۔ ڈانٹ ڈپٹ اکثر صورتحال کو مزید خراب کر دیتی ہے اور صرف محبت سے بھی ہر وقت بات نہیں بنتی۔ ایسے میں ضروری ہے کہ والدین بچے کے دل و دماغ تک پہنچنے کا درست طریقہ اختیار کریں۔ والدین کا سفر ہمیشہ آسان نہیں ہوتا، یہ خوشی اور آزمائش دونوں کا امتزاج ہے۔ کبھی بچوں کی معصوم مسکراہٹ دل موہ لیتی ہے تو کبھی ان کی ضد اور لاپرواہی والدین کو بے بس کر دیتی ہے۔ بعض اوقات تو حالات ایسے بن جاتے ہیں کہ والدین کو سمجھ ہی نہیں آتا کہ بچے کو کس طرح سمجھایا جائے، کیونکہ ڈانٹ سے بچہ مزید ضدی ہو جاتا ہے اور صرف پیار بھی کارآمد نظر نہیں آتا۔ ایسے وقت میں کیا کرنا چاہیے؟ اس حوالے سے ایک پیرنٹنگ کوچ کا کہنا ہے کہ جب بچہ والدین کی بات ماننے سے انکار کرتا ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ وہ غلط ہے، بلکہ اس وقت بچے کے دل تک پہنچنے کے لیے مناسب راستہ تلاش کرنا ضروری ہوتا ہے۔ آئیے دیکھتے ہیں ماہرین اس بارے میں کیا مشورہ دیتے ہیں۔
سب سے پہلے خود سننے کی عادت اپنائیں
اکثر والدین چاہتے ہیں کہ بچہ فوراً ان کی بات مان لے، مگر وہ خود بچے کی بات سننے میں کوتاہی کرتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق اس رویے سے بچوں کو لگتا ہے کہ ان کے جذبات کی کوئی اہمیت نہیں ہے اور صرف ان ہی سے ہر بات کی توقع کی جاتی ہے۔ جب آپ وقت نکال کر توجہ سے بچے کی بات سنتے ہیں تو بچہ بھی آہستہ آہستہ آپ کی بات کو اہمیت دینا شروع کر دیتا ہے۔ یہ سب سے اہم قدم ہے کیونکہ مضبوط تعلق ہمیشہ سننے سے شروع ہوتا ہے۔
صحیح وقت کا انتظار کریں
ہر بات فوراً کرنا ضروری نہیں ہوتا۔ کئی بار بچہ تھکا ہوا، پریشان یا چڑچڑا ہوتا ہے، اس وقت دی گئی نصیحت یا تعلیم بالکل بے اثر ہو جاتی ہے۔ والدین کو چاہیے کہ وہ اس وقت کا انتخاب کریں جب بچہ ذہنی طور پر پرسکون ہو، کیونکہ ایسے وقت میں کی گئی بات بچے کے دل تک پہنچتی ہے اور دیرپا اثر ڈالتی ہے۔
پڑھانے سے زیادہ سیکھنے والا انداز اپنائیں
اگر والدین ہر وقت نصیحتیں کرتے رہیں اور صرف سکھانے کی کوشش کریں تو بچہ ردعمل کے طور پر منفی رویہ دکھانے لگتا ہے، کبھی الٹے جواب دیتا ہے یا موضوع بدل دیتا ہے۔ لیکن اگر آپ بچے کے ساتھ سیکھنے کے انداز میں جڑیں گے تو وہ زیادہ آرام دہ محسوس کرے گا۔ جب بچہ یہ دیکھتا ہے کہ اسے سنا اور سمجھا جا رہا ہے تو وہ والدین کے مشوروں کو آسانی سے قبول کر لیتا ہے۔
مثال کے ذریعے سمجھانا زیادہ مؤثر ہے
اکثر براہ راست نصیحتیں بچوں کو بوجھ لگتی ہیں۔ ایسے میں بہتر یہ ہے کہ آپ کسی دوسرے بچے کی کہانی یا حقیقی زندگی سے جڑی کوئی مثال پیش کریں۔ ماہرین کے مطابق کہانیاں اور عملی مثالیں بچوں کے ذہن پر گہرا اور دیرپا اثر ڈالتی ہیں کیونکہ وہ ان سے اپنے آپ کو زیادہ آسانی سے جوڑ لیتے ہیں۔
تجزیہ
اس پورے موضوع کا نچوڑ یہ ہے کہ والدین اور بچوں کے درمیان رشتہ سننے اور سمجھنے پر قائم رہتا ہے۔ بچے ضد کرتے ہیں تو یہ ان کی فطرت کا حصہ ہے، لیکن والدین کا کردار یہ ہے کہ وہ اس ضد کو مثبت سمت میں موڑیں۔ اگر والدین سننے، صحیح وقت کے انتخاب، سیکھنے والے انداز اور مثالوں کے ذریعے سمجھانے کی عادت ڈالیں تو بچے بھی ان کے ساتھ ہم آہنگ ہو جاتے ہیں۔ محبت اور ڈانٹ کے بیچ ایک توازن قائم کرنا ضروری ہے، اور یہی توازن والدین اور بچوں کے تعلق کو مضبوط کرتا ہے۔ بچے کے دل تک پہنچنے کا راستہ کبھی مشکل ضرور لگتا ہے، لیکن جب والدین صبر، حکمت اور توجہ کے ساتھ آگے بڑھتے ہیں تو یہ سفر نہ صرف آسان ہوتا ہے بلکہ والدین اور بچے دونوں کے لیے خوشیوں سے بھرا ہوا ہو جاتا ہے۔





















