لاہور:تحریک منہاج القرآن کے بانی و سرپرست اعلیٰ شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کی تفسیرِ قرآن، حدیثِ نبوی ؐاور سیرت طیبہ ؐ کے موضوعات پر تصنیف کردہ 5 نئی کُتب کی پروقار تقریب رونمائی آج 8 ستمبر 2025ء دوپہر 2بجے ایوان اقبال لاہور میں ہو گی۔
تقریب رونمائی سے کینیڈا سے آئے ہوئے مہمان اعزاز شیخ احمد بدرہ، چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل ڈاکٹر راغب نعیمی، سید ضیا اللہ شاہ بخاری، جسٹس(ر) نذیر احمد غازی، اوریا مقبول جان، مفتی زبیرفہیم، ارشاد احمد عارف، مولانا سید فہیم الحسن تھانوی، علامہ سید جواد نقوی، ڈاکٹر طاہر رضا بخاری، مولانا امیر حمزہ،ڈاکٹر معین نظامی، ڈاکٹر بصیرہ عنبرین، صوفیہ بیدار، صاحبزادہ پیر سید عتیق الرحمن شاہ، پیر سید شمس الرحمن مشہدی، علامہ ڈاکٹر شہزاد مجددی، آصف نسوانہ ایڈووکیٹ صدر ہائیکورٹ بار خطاب کریں گے۔
شیخ الاسلام نے الفتح الکبیر فی علوم التفسیر، تفسیر سورہ فاتحہ، الروض الباسم من خلق النبی القاسم، القول المبین، الانوار من سیرۃ سید الابرارؐ کے عنوانات کے تحت 5 کتب تصنیف کی ہیں، بعض کتب متعدد جلدوں پر محیط ہیں۔ شیخ الاسلام نے اردو اور انگریزی زبانوں میں کتب تصنیف کی ہیں۔
تقریب پذیرائی میں پروفیسر ڈاکٹر حسن محی الدین قادری اور پروفیسر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری کے علاوہ علوم اسلامیہ کے اساتذہ، مختلف یونیورسٹیز کے اسلامک ڈیپارٹمنٹ کے سربراہان اور وائس چانسلرز حضرات شریک ہوں گے۔ شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری لندن سے بذریعہ ویڈیو لنک تقریب میں شرکت اور اظہار خیال کریں گے۔
روزنامہ تحریک کے سینئر صحافی محمد کاشف جان نے تجزیہ کرتے ہوئے کہا کہ شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کی جانب سے تفسیرِ قرآن، حدیثِ نبویؐ اور سیرتِ طیبہؐ جیسے بنیادی اور عظیم موضوعات پر پانچ نئی کتب کی اشاعت ایک غیر معمولی علمی اور فکری پیش رفت ہے۔ یہ بات کسی شک و شبہ سے بالاتر ہے کہ برصغیر کے موجودہ علمی ماحول میں قرآن و سنت کی عصری تقاضوں کے مطابق توضیح و تشریح کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ ہے۔ اس کمی کو پورا کرنے کے لیے ایسی علمی کاوشیں نئی نسل کے ذہنوں کو اجالا فراہم کریں گی اور اسلام کے سنہری پیغام کو زیادہ مؤثر انداز میں دنیا کے سامنے پیش کریں گی۔
اسے بھی پڑھیں: سیرتِ مصطفیؐ کا پیغام اتحاد و اخوت اور خیر خواہی ہے: شیخ الاسلام ڈاکٹر طاہرالقادری
ایوانِ اقبال لاہور میں منعقد ہونے والی یہ تقریب نہ صرف ایک ادبی و علمی اجتماع ہے بلکہ فکری ہم آہنگی اور مذہبی مکالمے کی تازہ ہوا بھی ہے۔ مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے جید علما، دانشوروں اور ماہرین کا ایک ہی پلیٹ فارم پر جمع ہونا اس بات کی علامت ہے کہ علم و تحقیق کی دنیا میں اتحاد و اتفاق کے دروازے کھلے ہیں۔
ڈاکٹر طاہرالقادری کی تصنیفات کا ایک خاص پہلو یہ ہے کہ وہ اردو اور انگریزی دونوں زبانوں میں اسلام کی تعلیمات کو پیش کرتے ہیں۔ یہ رویہ عالمی سطح پر اسلام کے مثبت اور تعمیری تصور کو اجاگر کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ آج کے دور میں جب کہ نوجوان نسل مغربی ذرائع علم سے براہِ راست متاثر ہو رہی ہے، ایسے وقت میں انگریزی زبان میں اسلامی تعلیمات کی معتبر اور جامع تشریحات ایک قیمتی سرمایہ ہیں۔
بطور سینئر صحافی میں یہ سمجھتا ہوں کہ ایسی تقاریب صرف علمی دنیا کے لیے ہی نہیں بلکہ معاشرتی سطح پر بھی مثبت اثر ڈالتی ہیں۔ یہ ہمیں یاد دلاتی ہیں کہ علم و تحقیق ہی وہ راستہ ہے جس سے ہم اپنے ماضی کی روشنی کو حال اور مستقبل تک پہنچا سکتے ہیں۔ شیخ الاسلام کی یہ علمی کاوشیں یقیناً آنے والی نسلوں کے لیے علمی ورثے کی حیثیت رکھتی ہیں، اور ان کے ذریعے دینِ اسلام کا پیغام نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر میں مزید اثر انگیز انداز میں پھیلے گا۔





















