لاہور:تحریک منہاج القرآن کے بانی و سرپرست اعلیٰ شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کی تفسیر اور سیرت النبیؐ کے موضوعات پر 5 نئی ضخیم کتب کی تقریب رونمائی ایوان اقبال لاہور میں نظام المدارس پاکستان کے زیر اہتمام منعقد ہوئی۔

تقریب میں گفتگو کرتے ہوئے شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے کہا کہ میں اپنی کسی کتاب کی کوئی رائلٹی نہیں لیتا، ایک ایک پائی خدمت دین کے لئے وقف ہے، دعا ہے جو لکھتا ہوں اس سے اسلام کی روشنی قریہ قریہ پھیلے اور میری یہ مقدور بھر کوشش میرے لئے توشہ آخرت بن جائے۔
تقریب رونمائی سے خطاب کرتے ہوئے عروۃ الوثقیٰ کے سربراہ علامہ جواد نقوی نے کہا کہ شیخ الاسلام ڈاکٹر طاہر القادری نے 14 سال قبل دہشت گردی اور فتنہ الخوارج کے خلاف جو فتویٰ دیا تھا وہ آج ریاست پاکستان کا بیانیہ بن چکا ہے، شیخ الاسلام کی تصانیف سے بین المسالک ہم آہنگی کی راہ ہموار ہورہی ہے۔
سینئر صحافی،دانشور، کالم نویس سید ارشاد عارف نے اپنے خطاب میں کہا کہ ڈاکٹر طاہرالقادری نے اسلام اور سیرت مصطفیؐ کی اصل تصویر پیش کرنے کی کوشش کی۔ انہوں نے کہا کہ ادارہ منہاج القرآن نے کتاب اور تحقیق کے کلچر کو زندہ رکھا ہوا ہے۔ ڈاکٹر طاہرالقادری پوری دنیا میں اسلام کے امن بیانیہ کو فروغ دے رہے ہیں۔ ان کی دینی خدمات ہر اعتبار سے قابل تحسین ہیں۔
اسے بھی پڑھیں: سیرتِ مصطفیؐ کا پیغام اتحاد و اخوت اور خیر خواہی ہے: شیخ الاسلام ڈاکٹر طاہرالقادری
مرکزی امیر متحدہ جمعیت اہل حدیث سید ضیاء اللہ شاہ بخاری نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ شیخ الاسلام نے قرآن اور سنت کے علوم کی جس انداز سے خدمت کی ہے اس کے بعد یہ کہا جا سکتا ہے کہ وہ شیخ الاسلام کے لقب کے صحیح حقدار ہیں۔
تقریب رونمائی میں شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے ویڈیو لنک پر لندن سے شرکت کی۔ منہاج القرآن انٹرنیشنل کی سپریم کونسل کے چیئرمین ڈاکٹر حسن محی الدین قادری نے شرکائے تقریب کو خوش آمدید کہا۔
نامور ادیب ڈاکٹر معین نظامی ،صاحبزادہ پیر سیدشمس الرحمن مشہدی، ناظم اعلیٰ خرم نواز گنڈاپور، ممبر اسلامی نظریاتی کونسل صاحبزادہ پیر سید عتیق الرحمن شاہ ، صدر اتحاد المدارس العربیہ پاکستان علامہ مفتی زبیر فہیم، اوریا مقبول جان، صدر لاہور ہائیکورٹ بار آصف نسوانہ ایڈووکیٹ، ڈاکٹر صوفیہ بیدار، ، علامہ ڈاکٹر محمد شہزادمجددی، ڈائریکٹر اقبال اکیڈمی ڈاکٹر عبدالرئوف، ادارہ زبان و ادبیات کی ڈائریکٹر بصیرہ عنبرین، سربراہ تحریک حرمت رسول مولانا امیر حمزہ، ڈاکٹر میر آصف اکبر، ڈاکٹر محمد فاروق رانا، علامہ عین الحق بغدادی، علامہ اشفاق چشتی، ڈاکٹر سرور نقشبندی نے اظہار خیال کیا۔
ڈاکٹر معین نظامی نے کہا کہ شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کی یہ پانچ تصانیف محض کتابیں نہیں بلکہ ایک علمی وفکری خزانہ ہیں۔ میں ان 5 کتب کو ’’پنجگانہ قادری‘‘ سمجھتا ہوں جو علم و تحقیق کی دنیا میں ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہیں۔
علامہ مفتی زبیر فہیم نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کی یہ نئی کتب نہ صرف قرآن و سنت کی صحیح تعبیر پیش کرتی ہیں بلکہ نوجوان نسل کو فکری گمراہیوں سے نکال کر اعتدال و راہ ہدایت کی طرف لے جانے کاذریعہ بھی ہیں۔
ناظم اعلیٰ خرم نواز گنڈاپور نے اپنے خطاب میں کہا کہ آج کے اس پرفتن دور میں مسلمانوں کے مابین اتحاد و یکجہتی وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے ۔
مولاناامیر حمزہ نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ دن دور نہیں جب شیخ الاسلام کی قیادت میں پوری اُمت کے فرقے اور طبقات ایک پرچم تلے اکٹھے ہوں گے۔
اوریا مقبول جان نے کہا کہ شیخ الاسلام کی تصنیف سورہ فاتحہ کی تفسیر کا مطالعہ کیا تو اس کتاب نے میرے کئی بنیادی سوالات کے جوابات فراہم کئے ہیں۔ شیخ الاسلام کے ہاں تحقیق کا معیار قابل تحسین ہے۔
پیر سید عتیق الرحمن شاہ بخاری نے کہا کہ ڈاکٹر طاہرالقادری کا علم کتب کی صورت میں قیامت تک بولتا رہے گا۔
پیر سید شمس الرحمن مشہدی نے کہا کہ شیخ الاسلام کی تصنیف القول المبین محبت رسولؐ کا نادر شاہکار ہے۔
ڈاکٹر بصیرہ عنبرین نے کہا کہ شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کی تصانیف مسائل عصر کا حل پیش کرتی ہیں۔
صدر لاہور ہائیکورٹ بار آصف نسوانہ ایڈووکیٹ نے کہا کہ ڈاکٹر طاہرالقادری کی تصانیف اور خطابات آنے والی نسلوں کے لئے علم و عرفان کا عظیم خزانہ ہیں۔
صوفیہ بیدار نے اپنے خطاب میں کہا کہ شیخ الاسلام کی یہ انفرادیت ہے کہ وہ خواتین کو سماجی، تعلیمی اور فکری میدانوں میں مردوں کے شانہ بشانہ کھڑا دیکھنا چاہتے ہیں۔
کینیڈا سے آئے مہمان شیخ احمد بدرہ نے تقریب کے اختتام پر دعا کرواتے ہوئے کہا کہ شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے عصر حاضر کے ہرموضوع پر قلم اٹھایا اور اُمت مسلمہ کو علمی و فکری راہ نمائی فراہم کی۔





















