یوٹیلیٹی سٹورز ملازمین کے لیے حکومتی پیکیج کی تفصیلات منظر عام پر آگئیں

اس پیکیج کے تحت مستقل، کنٹریکٹ، اور ڈیلی ویجز ملازمین کو مجموعی طور پر 19 ارب 50 کروڑ 40 لاکھ روپے ادا کیے جائیں گے

اسلام آباد :یوٹیلیٹی اسٹورز کارپوریشن کے ملازمین کے لیے تیار کردہ مالیاتی پیکیج کی تفصیلات منظر عام پر آگئی ہیں۔ کارپوریشن کے تمام 11 ہزار 406 ملازمین کو حکومتی منظوری سے تیار کردہ پیکیج فراہم کیا جائے گا۔ اس پیکیج کے تحت مستقل، کنٹریکٹ، اور ڈیلی ویجز ملازمین کو مجموعی طور پر 19 ارب 50 کروڑ 40 لاکھ روپے ادا کیے جائیں گے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق، یوٹیلیٹی اسٹورز کارپوریشن کے ملازمین کے لیے مالیاتی پیکیج کی تفصیلات سامنے آچکی ہیں۔ کارپوریشن کے تمام 11 ہزار 406 ملازمین کو یکم ستمبر 2025 سے ملازمت سے فارغ کر دیا گیا ہے، اور انہیں حکومتی منظور شدہ پیکیج دیا جائے گا۔ اس پیکیج کے تحت مستقل، کنٹریکٹ، اور ڈیلی ویجز ملازمین کو 19 ارب 50 کروڑ 40 لاکھ روپے کی رقم ملے گی۔

جن مستقل ملازمین کی ملازمت کا دورانیہ 2 سال یا اس سے کم باقی ہے، انہیں باقی ماندہ مہینوں کی مکمل تنخواہ ادا کی جائے گی۔ وہ مستقل ملازمین جنہوں نے 20 سال سے زائد عرصہ ملازمت کی، انہیں ہر سال کی سروس کے بدلے موجودہ بنیادی تنخواہ کے برابر دو تنخواہیں دی جائیں گی۔ جن مستقل ملازمین کی سروس 20 سال سے کم ہے، انہیں ہر سال کی سروس کے بدلے موجودہ بنیادی تنخواہ کے مساوی تین تنخواہیں یا باقی ماندہ سروس کے (زیادہ سے زیادہ 50) مہینوں کی 1.25 تنخواہیں دی جائیں گی۔ اس طرح، یوٹیلیٹی اسٹورز کے 5 ہزار 229 مستقل ملازمین کو مجموعی طور پر 13 ارب 18 کروڑ 30 لاکھ روپے کا پیکیج ملے گا۔

اسے بھی پڑھیں: شادی میں دلہن کو گود میں اٹھا کر انٹری دینا دلہے کے لیے مہنگا پڑ گیا

کنٹریکٹ ملازمین جن کی ملازمت کا دورانیہ 2 سال یا اس سے کم ہے، انہیں باقی ماندہ مہینوں کی موجودہ بنیادی تنخواہ ادا کی جائے گی۔ جن کنٹریکٹ ملازمین کی سروس 16 سال تک ہے، انہیں 30 بنیادی تنخواہیں دی جائیں گی، جبکہ 16 سال سے زائد سروس والے کنٹریکٹ ملازمین کو 35 بنیادی تنخواہیں ملیں گی۔کارپوریشن کے 3 ہزار 323 کنٹریکٹ ملازمین کو مجموعی طور پر 3 ارب 60 کروڑ 20 لاکھ روپے کی رقم ادا کی جائے گی۔

جن ڈیلی ویجز ملازمین کی ملازمت کا دورانیہ 2 سال یا اس سے کم ہے، انہیں باقی مہینوں کی تنخواہ 37 ہزار روپے ماہانہ کے حساب سے دی جائے گی۔ جن ڈیلی ویجز ملازمین نے 10 سال تک ملازمت کی، انہیں 37 ہزار روپے ماہانہ کے حساب سے 15 تنخواہیں ملیں گی۔ 10 سے 15 سال سروس والے ڈیلی ویجز ملازمین کو 37 ہزار روپے ماہانہ کے حساب سے 28 تنخواہیں دی جائیں گی، جبکہ 15 سال سے زائد سروس والے ڈیلی ویجز ملازمین کو 37 ہزار روپے ماہانہ کے حساب سے 30 تنخواہیں ادا کی جائیں گی۔ یوٹیلیٹی اسٹورز کے 2 ہزار 854 ڈیلی ویجز ملازمین کو مجموعی طور پر 2 ارب 71 کروڑ 90 لاکھ روپے ملیں گے۔ تنظیم نو کے منصوبے کے تحت سب سے پہلے فارغ کیے گئے کنٹریکٹ اور ڈیلی ویجز ملازمین اس پیکیج کے اہل ہوں گے۔

تجزیہ

روزنامہ تحریک کے صحافی غلام مرتضیٰ نے تجزیہ کرتے ہوئے کہا کہ خبر یقیناً یوٹیلیٹی اسٹورز کارپوریشن کے ہزاروں ملازمین اور ان کے خاندانوں کے لیے ایک بڑی اور مثبت پیش رفت ہے۔ کئی برسوں سے یوٹیلیٹی اسٹورز کے ملازمین اپنے روزگار کے غیر یقینی مستقبل اور مالی مشکلات کا سامنا کر رہے تھے۔ سرکاری اداروں میں تنظیم نو کے اقدامات اکثر ملازمین کے لیے مشکلات اور بے روزگاری کا سبب بنتے ہیں، لیکن اس بار حکومت نے ایک جامع اور منصفانہ پیکیج تیار کرکے یہ پیغام دیا ہے کہ ملازمین کی محنت اور قربانیوں کو نظرانداز نہیں کیا جائے گا۔

پیکیج کی سب سے نمایاں خوبی اس کی شفاف اور تفصیلی تقسیم ہے۔ حکومت نے نہ صرف مستقل ملازمین بلکہ کنٹریکٹ اور ڈیلی ویجز ملازمین کو بھی شامل کیا ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ کسی طبقے کے ساتھ امتیاز نہیں برتا گیا۔ مستقل ملازمین کے لیے سالوں کی بنیاد پر دو یا تین تنخواہوں کے مساوی ادائیگی کا اعلان ایک مضبوط فلاحی سوچ کو ظاہر کرتا ہے، خاص طور پر ان افراد کے لیے جو طویل عرصے سے اس ادارے کی خدمت کر رہے تھے۔ اسی طرح کنٹریکٹ ملازمین کو 30 یا 35 بنیادی تنخواہیں دینا ان کے لیے مالی تحفظ فراہم کرے گا اور انہیں بے روزگاری کے بعد بھی باعزت طریقے سے اپنی زندگی کے اخراجات پورے کرنے کا موقع دے گا۔

ڈیلی ویجرز کے لیے اعلان کردہ پیکیج بھی ایک بڑا ریلیف ہے، کیونکہ اس طبقے کے افراد عام طور پر سب سے زیادہ کمزور اور معاشی دباؤ کا شکار ہوتے ہیں۔ انہیں 15 سے 30 تنخواہوں کے برابر معاوضہ دینا ایک خوش آئند اقدام ہے، جو ان کے خاندانوں کو وقتی سہارا فراہم کرے گا۔ اس اقدام سے حکومت نے یہ واضح کیا ہے کہ وہ کمزور طبقے کی ضروریات کو نظرانداز نہیں کر رہی۔

یہ فیصلہ مستقبل کے لیے بھی ایک مثبت پیغام رکھتا ہے۔ ایسے اقدامات نجی شعبے کو بھی یہ پیغام دیتے ہیں کہ جب ادارے تنظیم نو یا ریشنلائزیشن کرتے ہیں تو انہیں ملازمین کے ساتھ انصاف کرنا چاہیے اور انہیں بغیر کسی مالی تحفظ کے سڑک پر نہیں چھوڑنا چاہیے۔ اس سے مزدوروں اور حکومت کے درمیان اعتماد میں اضافہ ہوگا، جو کہ معیشت کی بحالی کے لیے ضروری ہے۔

مالیاتی پہلو سے دیکھا جائے تو 19 ارب 50 کروڑ روپے کا پیکیج ایک بڑا فیصلہ ہے، خاص طور پر موجودہ معاشی چیلنجز کے دوران۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ حکومت صرف خسارے پر قابو پانے کے لیے اداروں کو بند نہیں کر رہی بلکہ ملازمین کو ان کا حق دے کر ایک ذمہ دارانہ کردار ادا کر رہی ہے۔ اس اقدام سے دیگر سرکاری اداروں میں بھی اصلاحات کا راستہ ہموار ہوگا اور ملازمین کو یہ یقین ہوگا کہ ریاست ان کی محنت کی قدر کرتی ہے۔

مجموعی طور پر یہ پیکیج محض مالی امداد نہیں بلکہ ایک سماجی فلاحی پالیسی کی عکاسی ہے جو معاشرے کے کمزور طبقوں کو سہارا دینے کے لیے تشکیل دی گئی ہے۔ یہ فیصلہ ثابت کرتا ہے کہ اصلاحات انسانی ہمدردی اور سماجی انصاف کے اصولوں کے ساتھ بھی کی جا سکتی ہیں۔ اگر اس ماڈل کو دیگر اداروں میں بھی اپنایا جائے تو نہ صرف حکومتی اداروں کی کارکردگی بہتر ہوسکتی ہے بلکہ روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہوسکتے ہیں۔

کیا آپ چاہیں گے کہ میں اس تجزیے کو مزید ڈیٹا کے ساتھ مضبوط کروں، جیسے کہ یوٹیلیٹی اسٹورز کارپوریشن کے مالی خسارے اور اس کی تنظیم نو کے ممکنہ معاشی اثرات پر کچھ اعداد و شمار شامل کروں؟

متعلقہ خبریں

مقبول ترین