اسلام آباد :وفاقی حکومت نے ملک بھر میں نئے گیس کنکشنز پر عائد کی گئی پابندی کو ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے، جو 2021 سے نافذ تھی۔ یہ فیصلہ وفاقی کابینہ کے اجلاس میں کیا گیا، جس کی صدارت وزیراعظم شہباز شریف نے کی۔ وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک اور وفاقی وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے مشترکہ پریس کانفرنس میں یہ اعلان کرتے ہوئے کہا کہ عوام کی مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ قدم اٹھایا گیا ہے۔ اب نئے کنکشنز ری گیسیفائیڈ لیکویفائیڈ نیچرل گیس (آر ایل این جی) کے ذریعے فراہم کی جائیں گی، جو درآمد شدہ لیکویفائیڈ پیٹرولیم گیس (ایل پی جی) سے 30 سے 35 فیصد سستی ہوگی۔
پریس کانفرنس میں وزیر علی پرویز ملک نے بتایا کہ کابینہ نے عوام کی پریشانیوں کو دیکھتے ہوئے گیس کنکشنز پر پابندی ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایل پی جی ایک مہنگا اور تکلیف دہ ایندھن ہے، جہاں لوگوں کو سلنڈر بھروانے میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ آر ایل این جی اگرچہ مقامی گیس سے مہنگی ہے، لیکن یہ ایل پی جی سے کافی کم قیمت پر دستیاب ہوگی، جو گھریلو صارفین کے لیے بڑی ریلیف کا باعث بنے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ سوئی گیس کمپنیاں (سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ – ایس این جی پی ایل اور سوئی سدرن گیس کمپنی – ایس ایس جی سی) نے میٹرز اور پائپ لائنز کی خریداری مکمل کر لی ہے، اور نوٹیفکیشن جاری ہوتے ہی پرانی اور نئی درخواستوں پر کام شروع ہو جائے گا۔
کابینہ اجلاس میں دیگر اہم فیصلوں کا بھی ذکر کیا گیا۔ سیلاب سے ہونے والے نقصانات کے بارے میں وفاقی حکومت اپنی ذمہ داریاں ادا کرے گی۔ اس کے علاوہ، حکومت نے ماحولیاتی اور زرعی ایمرجنسی کا اعلان بھی کیا ہے، تاکہ متاثرہ علاقوں میں بحالی کے کاموں کو تیز کیا جا سکے۔ وزیر نے بتایا کہ حکومت مقامی گیس کی پیداوار بڑھانے پر توجہ دے رہی ہے، اور ترکی، چین اور امریکہ کی کمپنیاں آن شور اور آف شور گیس کی تلاش کے لیے بولیاں دے رہی ہیں۔ ایک بڈنگ راؤنڈ مکمل ہو چکا ہے، جبکہ دوسرا جلد ختم ہو جائے گا۔ اس سے درآمد پر انحصار کم ہوگا اور گیس کی قیمتیں مزید کم ہو سکیں گی۔
یہ فیصلہ ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب ملک میں گیس کی طلب میں اضافہ ہو رہا ہے، خاص طور پر نئی ہاؤسنگ سوسائٹیوں میں جہاں لوگ ایل پی جی سلنڈرز پر منحصر ہیں۔ حکومت کا دعویٰ ہے کہ یہ قدم لاکھوں گھرانوں کو ریلیف دے گا اور معیشت کو استحکام بخشے گا۔
یہ منصوبہ حکومت نے کب شروع کیا تھا؟
پاکستان میں آر ایل این جی کا منصوبہ 2015 میں شروع کیا گیا تھا، جب ملک نے پہلی بار لیکویفائیڈ نیچرل گیس (ایل این جی) کی درآمد شروع کی۔ پہلا ایل این جی ٹرمینل پورٹ قاسم، کراچی میں قائم کیا گیا، جسے اینگرو ٹرمینل لمیٹڈ نے ریکارڈ 330 دنوں میں مکمل کیا۔ مارچ 2015 میں پہلا ایل این جی کارگو پاکستان پہنچا، جو ملک کی توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ایک تاریخی قدم تھا۔ اس سے قبل، 2004 میں متبادل توانائی کے ذرائع کی حکمت عملی تیار کی گئی تھی، لیکن عملی طور پر درآمد 2015 سے شروع ہوئی۔ حالیہ فیصلہ، یعنی نئی آر ایل این جی کنکشنز کی فراہمی، 10 ستمبر 2025 کو کابینہ کی منظوری سے شروع ہوا ہے، جو 2021 کی پابندی کے خاتمے کا نتیجہ ہے۔
یہ کنکشن عوام کو کیسے دیے جائیں گے؟
نئی آر ایل این جی کنکشنز سوئی گیس کمپنیوں کے ذریعے فراہم کی جائیں گی۔ ایس این جی پی ایل (پنجاب، خیبر پختونخوا اور اسلام آباد کے لیے) اور ایس ایس جی سی (سندھ اور بلوچستان کے لیے) درخواستوں پر کارروائی کریں گی۔ طریقہ کار درج ذیل ہے:
درخواست کا طریقہ: عوام ایس این جی پی ایل کی ویب سائٹ (sngpl.com.pk) پر آن لائن درخواست دے سکتے ہیں، یا ایس ایس جی سی کی ویب سائٹ (ssgc.com.pk) سے فارم ڈاؤن لوڈ کر کے جمع کروا سکتے ہیں۔ پرانی درخواستوں کو آر ایل این جی میں تبدیل کرنے کے لیے اوگرا (آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی) کو سیکیورٹی فیس ادا کرنی ہوگی۔ نئی درخواستوں کے لیے بھی یہی طریقہ اپنایا جائے گا۔
مطلوبہ دستاویزات: درخواست کے ساتھ شناختی کارڈ (سی این آئی سی) کی کاپی، جائیداد کا ثبوت (جیسے رجسٹری یا قانونی دستاویز)، سائٹ پلان، ہاؤسنگ سوسائٹی سے این او سی اور منظور شدہ ڈرائنگ جمع کرانی ہوں گی۔ آر ایل این جی کے لیے مخصوص فارم استعمال کیا جائے گا۔
چارجز اور عمل: کنکشن چارجز میں گیس میٹر، پائپ لائن اور سیکیورٹی ڈپازٹ شامل ہوں گے۔ نوٹیفکیشن جاری ہوتے ہی پروسیسنگ شروع ہو جائے گی، اور پرانی 120,000 سے زائد درخواستوں کو ترجیح دی جائے گی۔ مالی سال 2026 میں تقریباً 120,000 نئی کنکشنز جاری کرنے کا منصوبہ ہے (86,000 ایس ایس جی سی اور 35,000 ایس این جی پی ایل کے ذریعے)۔
تجزیہ
یہ فیصلہ پاکستان کی توانائی سیکٹر میں ایک مثبت پیش رفت ہے، جو لاکھوں گھرانوں کو براہ راست فائدہ پہنچائے گا۔ سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ عوام کو ایل پی جی سلنڈرز کی مہنگی اور تکلیف دہ وابستگی سے نجات ملے گی، جو نہ صرف مہنگی ہے بلکہ حفاظتی خطرات سے بھی بھری پڑی ہے۔ آر ایل این جی کی فراہمی سے گھریلو گیس کی قیمتوں میں 30-35 فیصد کمی آئے گی، جو غریب اور متوسط طبقے کے لیے بڑی معاشی ریلیف کا باعث بنے گی۔ خاص طور پر نئی ہاؤسنگ سوسائٹیوں اور دیہی علاقوں میں جہاں گیس کی سہولت نہ ہونے کی وجہ سے لوگ مشکلات کا شکار تھے، وہاں زندگی آسان ہو جائے گی۔
معاشی طور پر، یہ منصوبہ درآمدات پر انحصار کم کر کے مقامی پیداوار کو فروغ دے گا۔ حکومت کی جانب سے گیس کی تلاش کے نئے بڈنگ راؤنڈز سے ملکی گیس کی پیداوار بڑھے گی، جو طویل مدتی طور پر گیس کی قیمتیں مزید کم کرے گی اور توانائی کی خود کفالت کی طرف قدم بڑھائے گی۔ ماحولیاتی اعتبار سے، آر ایل این جی ایک کلینر ایندھن ہے جو کوئلہ یا تیل کی نسبت کم کاربن خارج کرتا ہے، جو پاکستان کے ماحولیاتی اہداف سے مطابقت رکھتا ہے۔ اس کے علاوہ، یہ فیصلہ حکومت کی عوام دوست پالیسیوں کا عکاس ہے، جو سیلاب متاثرین کی بحالی اور زرعی ایمرجنسی جیسے اقدامات سے جڑا ہوا ہے۔ مجموعی طور پر، یہ قدم معیشت کو استحکام دے گا، روزگار کے مواقع پیدا کرے گا (جیسے پائپ لائن کی تنصیب میں)، اور عوام کی زندگی کے معیار کو بہتر بنائے گا۔ اگر اسے موثر طریقے سے نافذ کیا گیا تو یہ پاکستان کی توانائی بحران کے حل کی طرف ایک اہم سنگ میل ثابت ہوگا۔





















