ننھے یوٹیوبرز شیراز اور مسکان نے ٹوٹے پھوٹے اسکول کو ماڈرن تعلیمی مرکز میں تبدیل کردیا

یوٹیوب سے حاصل ہونے والی آمدنی کو اسکول کی تعمیر نو کے لیے وقف کر دیا

گلگت بلتستان کے ایک چھوٹے سے گاؤں غورس سے تعلق رکھنے والے ننھے یوٹیوبرز محمد شیراز اور ان کی بہن مسکان نے اپنی معصومیت اور محنت سے نہ صرف سوشل میڈیا پر لاکھوں دلوں کو جیت لیا بلکہ اپنے گاؤں کے بچوں کے مستقبل کو بھی روشن کر دیا ہے۔ انہوں نے اپنی یوٹیوب آمدنی کو ایک عظیم مقصد کے لیے استعمال کرتے ہوئے اپنے گاؤں کے مخدوش حال اسکول کو ایک جدید تعلیمی ادارے میں تبدیل کر دیا۔ 

گاؤں کے اسکول کی بدحالی

چند ماہ قبل، شیراز کے والد تقی نے اپنے یوٹیوب چینل شیرازی وی لاگز پر ایک ویڈیو شیئر کی تھی، جس نے گاؤں کے پرائمری اسکول کی دلخراش حالت کو اجاگر کیا۔ ویڈیو میں دکھایا گیا کہ اسکول کے بچے بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔ نہ تو وہاں مناسب کلاس رومز تھے، نہ بیٹھنے کے لیے میز و کرسیاں، اور نہ ہی دیگر ضروریات جیسے یونیفارم یا جوتے۔ طلبہ کھلے آسمان تلے سیڑھیوں پر بیٹھ کر پڑھائی کرتے تھے، جہاں وہ گرمی، سردی، اور بارش کی سختیوں کا شکار تھے۔ اسکول کی عمارت کی دیواریں ٹوٹ پھوٹ کا شکار تھیں، اور بچوں کے لیے تعلیمی ماحول نہ ہونے کے برابر تھا۔

یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی اور صارفین نے اس صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ شیراز کی معصوم آواز اور مسکان کی دل کش اداؤں نے نہ صرف لوگوں کو متاثر کیا بلکہ انہیں ایکشن لینے پر مجبور کیا۔ اس ویڈیو نے ننھے یوٹیوبرز کے خاندان کو ایک بڑا مقصد دیا: اپنے گاؤں کے بچوں کو بہتر تعلیمی مواقع فراہم کرنا۔

شیرازی فیملی کی شاندار کاوش

شیراز اور مسکان، جو اپنی سادہ دیہی زندگی کے وی لاگز کی بدولت لاکھوں مداحوں کے دلوں کی دھڑکن بن چکے ہیں، نے اپنے والد تقی کے ساتھ مل کر یوٹیوب سے حاصل ہونے والی آمدنی کو اسکول کی تعمیر نو کے لیے وقف کر دیا۔ ان کی محنت اور لگن نے گاؤں کے اس خستہ حال اسکول کو ایک جدید تعلیمی ادارے کی شکل دے دی۔ نئے اسکول میں کشادہ اور آرام دہ کلاس رومز، جدید تدریسی سہولیات، بچوں کے لیے تفریحی مقامات، اور ایک محفوظ تعلیمی ماحول شامل ہے۔

اس نئے ادارے میں طلبہ کو اب نہ صرف معیاری تعلیم تک رسائی حاصل ہو گی بلکہ وہ ایک ایسی جگہ پر پڑھیں گے جہاں ان کی تخلیقی صلاحیتوں اور ذہنی نشوونما کو فروغ دیا جائے گا۔ اسکول میں جدید تعلیمی وسائل جیسے پروجیکٹرز، لائبریری، اور کھیلوں کے میدان شامل کیے گئے ہیں، جو بچوں کو ایک جامع تعلیمی تجربہ فراہم کریں گے۔ اس کے علاوہ، اسکول نے طلبہ کے لیے یونیفارم اور جوتوں کا بندوبست بھی کیا ہے تاکہ وہ عزت نفس کے ساتھ تعلیم حاصل کر سکیں۔

شیراز کا پیغام

اسکول کی افتتاحی تقریب کے موقع پر شیرازی فیملی نے ایک ویڈیو جاری کی، جس میں ننھے شیراز نے اپنی معصوم آواز میں ایک گہرا پیغام دیا: ’’اگر یوٹیوبرز محنت، لگن، اور نیک نیتی سے کام کریں تو وہ اپنی آمدنی سے اپنی برادری اور معاشرے کی بھلائی کے لیے بہت کچھ کر سکتے ہیں۔‘‘ اس پیغام نے نہ صرف سوشل میڈیا صارفین کو متاثر کیا بلکہ دیگر یوٹیوبرز کے لیے بھی ایک مثال قائم کی کہ سوشل میڈیا کی طاقت کو مثبت تبدیلی کے لیے کیسے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

شیراز کی اس ویڈیو میں نئے اسکول کی جھلکیاں دکھائی گئیں، جہاں بچے خوشی سے نئے کلاس رومز میں پڑھ رہے تھے، کھیل کے میدان میں کھیل رہے تھے، اور ایک پرامن ماحول میں اپنی تعلیم جاری رکھے ہوئے تھے۔ مسکان نے بھی ویڈیو میں اپنی چھوٹی سی ادا سے سب کو مسحور کر دیا، جب اس نے نئے اسکول کے بارے میں اپنی خوشی کا اظہار کیا۔

سوشل میڈیا پر پذیرائی

شیراز اور مسکان کے اس کارنامے نے سوشل میڈیا پر بھرپور پذیرائی حاصل کی ہے۔ ایکس پر صارفین نے ان کے اقدام کی دل کھول کر تعریف کی۔ ایک صارف نے لکھا، ’’شیراز اور مسکان نے ثابت کر دیا کہ عمر کوئی رکاوٹ نہیں۔ یہ بچے ہم سب کے لیے ایک عظیم مثال ہیں۔‘‘ ایک اور صارف نے تبصرہ کیا، ’’یہ خاندان پوری قوم کے لیے مشعلِ راہ ہے۔ انہوں نے اپنی کمائی کو اپنے گاؤں کے بچوں کے مستقبل کے لیے وقف کر دیا۔‘‘ ایک مداح نے لکھا، ’’یہ ہے اصل کامیابی کا مطلب: دوسروں کی زندگیوں میں تبدیلی لانا۔‘‘

شیراز کے والد تقی کو بھی صارفین نے خراجِ تحسین پیش کیا، جنہوں نے نہ صرف اپنے بچوں کی صلاحیتوں کو اجاگر کیا بلکہ ان کی آمدنی کو ایک نیک مقصد کے لیے استعمال کیا۔ ایک صارف نے لکھا، ’’تقی بھائی جیسے والدین ہر بچے کے لیے ایک نعمت ہیں۔ انہوں نے اپنے بچوں کو نہ صرف شہرت دی بلکہ انسانیت کی خدمت کا سبق بھی سکھایا۔‘‘

شیراز اور مسکان کی شہرت کا سفر

محمد شیراز، جو محض چھ سال کی عمر میں گلگت بلتستان کے ضلع گھانچے کے گاؤں غورس سے یوٹیوب کی دنیا میں چھا گئے، اپنی سادہ اور معصوم وی لاگز کے لیے مشہور ہیں۔ ان کے والد تقی، جو خود ایک معروف یوٹیوبر ہیں، نے شیراز اور مسکان کو وی لاگنگ کی تربیت دی۔ شیراز کا یوٹیوب چینل شیرازی وی لاگز اب تک 92 ہزار سے زائد سبسکرائبرز اور لاکھوں ویوز حاصل کر چکا ہے۔ ان کی ویڈیوز میں دیہی زندگی کی سادگی، گاؤں کے مناظر، اور بچوں کی معصومیت نے نہ صرف پاکستانی بلکہ عالمی ناظرین کو بھی متاثر کیا ہے۔

مسکان، جو اپنی دلکش اداؤں اور معصوم باتوں سے سب کے دل جیت لیتی ہیں، شیراز کے وی لاگز کی ایک اہم حصہ ہیں۔ دونوں بہن بھائی کی جوڑی نے نہ صرف تفریح بلکہ سماجی بہبود کے لیے بھی اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہے۔ حال ہی میں انہوں نے اپنی یوٹیوب آمدنی سے ایک کار بھی خریدی، جسے وہ گاؤں کے لوگوں کو لفٹ دینے کے لیے استعمال کرتے ہیں، اور اس سے ان کی مقبولیت میں مزید اضافہ ہوا ہے۔

شیراز اور مسکان کی یہ کاوش نہ صرف ایک گاؤں کے بچوں کے لیے تعلیمی انقلاب کا پیش خیمہ ہے بلکہ یہ پاکستانی معاشرے کے لیے ایک عظیم پیغام بھی ہے۔ ان ننھے یوٹیوبرز نے ثابت کر دیا کہ عمر، وسائل، یا حالات کوئی رکاوٹ نہیں جب دل میں نیک نیتی اور معاشرے کی بہتری کا جذبہ ہو۔ ان کا یہ اقدام سوشل میڈیا کی طاقت کو مثبت تبدیلی کے لیے استعمال کرنے کی ایک روشن مثال ہے۔

یہ کیس پاکستان کے دیہی علاقوں میں تعلیمی ڈھانچے کی خستہ حالی کو بھی اجاگر کرتا ہے۔ گلگت بلتستان جیسے دور افتادہ علاقوں میں بنیادی سہولیات کی کمی ایک دیرینہ مسئلہ ہے۔ شیرازی فیملی کی کاوش سے جہاں ایک گاؤں کے بچوں کو بہتر مستقبل ملے گا، وہیں یہ حکومت کے لیے ایک سبق بھی ہے کہ تعلیمی اداروں کی حالت بہتر کرنے کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔

شیراز کے والد تقی کی رہنمائی اور ان کے بچوں کی محنت اس بات کی گواہی دیتی ہے کہ والدین کا کردار بچوں کی صلاحیتوں کو نکھارنے اور انہیں سماجی بہبود کے لیے استعمال کرنے میں کتنا اہم ہے۔ تاہم، یہ بھی ضروری ہے کہ شیراز اور مسکان کی تعلیم پر کوئی سمجھوتہ نہ کیا جائے، کیونکہ ان کے والد نے خود اس بات پر زور دیا ہے کہ تعلیم ہر چیز سے مقدم ہے۔

سوشل میڈیا پر ان کے اقدام کی پذیرائی سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستانی عوام مثبت تبدیلیوں کی قدر کرتے ہیں۔ یہ کیس دیگر یوٹیوبرز اور سوشل میڈیا انفلوئنسرز کے لیے ایک مثال ہے کہ وہ اپنی شہرت اور آمدنی کو معاشرے کی بہتری کے لیے استعمال کریں۔ اگر حکومتی ادارے اور نجی شعبہ بھی اسی طرح کے اقدامات اٹھائیں تو پاکستان کے دیہی علاقوں میں تعلیمی انقلاب برپا کیا جا سکتا ہے۔

شیراز اور مسکان کی یہ کاوش نہ صرف ان کے گاؤں بلکہ پوری قوم کے لیے ایک مشعلِ راہ ہے۔ انہوں نے ثابت کیا کہ چھوٹے ہاتھ بھی بڑے خواب پورے کر سکتے ہیں، اور یہ کہ سوشل میڈیا صرف تفریح کا ذریعہ نہیں بلکہ سماجی تبدیلی کا ایک طاقتور ہتھیار بھی ہو سکتا ہے۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین