اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے قطر کے دارالحکومت دوحہ میں حماس کے رہنماؤں پر کیے گئے حالیہ فضائی حملے کا دفاع کرتے ہوئے اسے پاکستان میں اسامہ بن لادن کے خلاف 2011 کے امریکی آپریشن سے تشبیہ دی ہے۔ نیتن یاہو نے اپنے ویڈیو بیان میں اس حملے کو 7 اکتوبر 2023 کے حماس حملوں کے جواب میں جائز قرار دیتے ہوئے عالمی برادری سے اسرائیل کے موقف کی حمایت کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے قطر پر حماس کو پناہ دینے اور مالی وسائل فراہم کرنے کا الزام عائد کیا، اور خبردار کیا کہ اگر قطر نے حماس کے رہنماؤں کو نکال باہر یا انصاف کے کٹہرے میں پیش نہ کیا تو اسرائیل خود کارروائی کرے گا۔
نیتن یاہو کا ویڈیو بیان
9 ستمبر 2025 کو دوحہ میں اسرائیلی فضائیہ نے حماس کے سیاسی رہنماؤں کے ایک اجلاس کو نشانہ بنایا، جسے اسرائیل نے 7 اکتوبر 2023 کے حملوں کا ذمہ دار قرار دیا۔ اس حملے کے بعد عالمی تنقید کا ایک طوفان اٹھا، لیکن نیتن یاہو نے 10 ستمبر کو ایک ویڈیو پیغام کے ذریعے اپنا موقف پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ 11 ستمبر 2001 کو امریکا پر ہونے والے دہشت گرد حملوں نے امریکی قوم کو ہلا کر رکھ دیا تھا، بالکل اسی طرح 7 اکتوبر 2023 کے حماس حملوں نے یہودی قوم کے لیے ایک ناقابل فراموش صدمہ پیدا کیا۔
نیتن یاہو نے زور دیا کہ جس طرح امریکا نے نائن الیون کے بعد دہشت گردوں کو ختم کرنے کا عہد کیا اور القاعدہ کے سرغنہ اسامہ بن لادن کو پاکستان کے ایبٹ آباد میں 2 مئی 2011 کو ہلاک کیا، اسی طرح اسرائیل نے بھی اپنے دشمنوں کو نشانہ بنانے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ دوحہ میں کی گئی کارروائی اسی اصول پر مبنی تھی جو امریکا نے اپنایا تھا جب اس نے افغانستان میں القاعدہ کے جنگجوؤں اور پاکستان میں بن لادن کو ہدف بنایا۔
قطر پر الزامات
نیتن یاہو نے قطر پر الزام لگایا کہ وہ حماس کے رہنماؤں کو نہ صرف پناہ دے رہا ہے بلکہ انہیں عالیشان رہائش گاہیں اور مالی امداد بھی فراہم کر رہا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ حماس کے یہ رہنما قطر سے اپنی سرگرمیاں چلا رہے ہیں، جو اسرائیل کے خلاف دہشت گردی کو ہوا دیتے ہیں۔ انہوں نے اپنے بیان میں عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ اس کارروائی کی مذمت کرنے کے بجائے اسرائیل کی حمایت کریں، کیونکہ یہ وہی اصول ہیں جن پر عمل کرتے ہوئے امریکا نے بن لادن کو ہلاک کیا تھا۔
انہوں نے عالمی طاقتوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ جب امریکا نے بن لادن کو ہلاک کیا تو کسی نے پاکستان یا افغانستان کے ساتھ ہمدردی کا اظہار نہیں کیا، بلکہ عالمی برادری نے اس کارروائی کی تعریف کی۔ ان کے مطابق، ’’اب دنیا کو اسرائیل کے اسی طرح کے اقدامات کی حمایت کرنی چاہیے، کیونکہ ہم وہی کر رہے ہیں جو امریکا نے کیا۔‘‘
سخت انتباہ
نیتن یاہو نے اپنے بیان میں قطر اور دیگر ممالک کو سخت لہجے میں خبردار کیا کہ وہ حماس کے رہنماؤں کو یا تو اپنے ملک سے نکال دیں یا انہیں انصاف کے کٹہرے میں لائیں۔ انہوں نے کہا، ’’اگر آپ یہ نہیں کریں گے تو ہم خود کارروائی کریں گے۔‘‘ انہوں نے اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کی اس قرارداد کا حوالہ دیا جو نائن الیون کے دو ہفتوں بعد منظور کی گئی تھی، جس میں کہا گیا تھا کہ کوئی بھی ملک دہشت گردوں کو پناہ نہیں دے سکتا۔
حملے کے نتائج
دوحہ میں کیے گئے حملے میں حماس کے سینئر رہنما خلیل الحیا کے بیٹے ہمام الحیا اور ان کے دفتر کے ڈائریکٹر جہاد لباد سمیت چھ افراد ہلاک ہوئے۔ تاہم، عرب میڈیا کے مطابق، حماس کے اہم سیاسی رہنما اس حملے میں بچ گئے کیونکہ وہ اجلاس کے وقت نماز کے لیے باہر نکل گئے تھے۔ اطلاعات کے مطابق، حماس کا دعویٰ ہے کہ یہ اجلاس غزہ میں جنگ بندی کے لیے مذاکرات کے سلسلے میں بلایا گیا تھا۔ قطر کی وزارت داخلہ نے بھی تصدیق کی کہ حملے میں ایک سیکیورٹی اہلکار ہلاک اور ایک زخمی ہوا۔
اس حملے نے قطر، جو غزہ تنازعے میں مصر اور واشنگٹن کے ساتھ ثالثی کا کردار ادا کر رہا تھا، کو شدید صدمہ پہنچایا۔ قطری وزارت خارجہ نے اسے ’’بزدلانہ حملہ‘‘ اور بین الاقوامی قوانین کی ’’صریح خلاف ورزی‘‘ قرار دیا۔ قطری وزیراعظم شیخ محمد بن عبدالرحمن آل ثانی نے سی این این کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ نیتن یاہو نے اس حملے سے اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی کے امکانات کو ’’ختم‘‘ کر دیا اور ثالثی کے عمل کو نقصان پہنچایا۔
عالمی ردعمل
اسرائیل کے اس حملے نے عالمی سطح پر شدید تنقید کو جنم دیا۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوٹیرس نے اس کارروائی کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ توجہ غزہ میں جنگ بندی پر ہونی چاہیے، نہ کہ اسے تباہ کرنے پر۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اس حملے پر ’’شدید ناخوشی‘‘ کا اظہار کیا، جبکہ اطلاعات کے مطابق امریکا کو اس حملے کی پیشگی اطلاع تھی۔ قطر نے نیتن یاہو کے بیانات کو ’’غیر ذمہ دارانہ‘‘ اور ’’بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی‘‘ قرار دیتے ہوئے سخت جواب دیا۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بھی اس معاملے نے خاصی توجہ حاصل کی۔ ایک صارف نے لکھا، ’’نیتن یاہو کا قطر پر حملہ اور اسے بن لادن آپریشن سے تشبیہ دینا خطے میں کشیدگی کو بڑھانے کی کوشش ہے۔‘‘ ایک اور صارف نے تبصرہ کیا، ’’اسرائیل کی یہ کارروائی ثالثی کے عمل کو سبوتاژ کرنے کی کوشش ہے۔ قطر کو نشانہ بنانا غلط تھا۔‘‘ یہ تبصرے عالمی سطح پر اس حملے کے خلاف جذبات کو ظاہر کرتے ہیں۔
نیتن یاہو کا قطر حملے کو اسامہ بن لادن کے خلاف امریکی آپریشن سے تشبیہ دینا ایک جرات مندانہ اور متنازع بیان ہے جو خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا سکتا ہے۔ ان کا یہ موقف کہ اسرائیل کا 7 اکتوبر کا حملہ نائن الیون جیسا تھا، ایک جذباتی اور سیاسی بیان ہے جو عالمی برادری کو اپنے موقف کی حمایت پر مجبور کرنے کی کوشش ہے۔ تاہم، یہ تشبیہ کئی وجوہات سے قابل اعتراض ہے۔ بن لادن آپریشن ایک خفیہ اور درست کارروائی تھی جس میں شہری ہلاکتیں نہیں ہوئیں، جبکہ دوحہ حملے میں چھ افراد، بشمول ایک قطری سیکیورٹی اہلکار، ہلاک ہوئے، اور یہ ایک ایسی جگہ پر کیا گیا جہاں حماس کے رہنما مبینہ طور پر جنگ بندی کے مذاکرات کر رہے تھے۔
نیتن یاہو کا قطر پر حماس کو پناہ دینے اور مالی امداد فراہم کرنے کا الزام جزوی طور پر درست ہو سکتا ہے، کیونکہ قطر نے طویل عرصے سے حماس کے سیاسی رہنماؤں کو پناہ دی ہے۔ تاہم، یہ پناہ غزہ تنازعے میں ثالثی کے کردار کے طور پر دی گئی تھی، جس میں قطر نے مصر اور امریکا کے ساتھ مل کر یرغمالیوں کی رہائی اور جنگ بندی کے لیے مذاکرات کیے ہیں۔ اس حملے نے قطر کے ثالثی کردار کو شدید نقصان پہنچایا ہے، اور شیخ محمد بن عبدالرحمن کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ قطر اب اس کردار پر نظرثانی کر سکتا ہے۔
اسرائیل کی اس کارروائی نے نہ صرف خطے میں کشیدگی کو بڑھایا بلکہ عالمی برادری کے ساتھ اس کے تعلقات کو بھی مزید پیچیدہ کر دیا ہے۔ نیتن یاہو کا عالمی طاقتوں کو ’’شرم دلانے‘‘ کا بیان ان کی سخت گیر پالیسی کی عکاسی کرتا ہے، لیکن یہ بین الاقوامی قوانین کی پاسداری اور سفارتی تعلقات کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ قطر جیسے ملک کو، جو ایک اہم علاقائی کھلاڑی ہے، براہ راست دھمکی دینا خطے میں ایک نئی جنگ یا سفارتی بحران کو جنم دے سکتا ہے۔
اس تنازع سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ اسرائیل اور حماس کے درمیان جاری کشیدگی کا حل صرف فوجی کارروائیوں سے ممکن نہیں۔ غزہ تنازعے کے حل کے لیے ثالثی اور سفارتی کوششوں کی ضرورت ہے، اور قطر جیسے ممالک اس میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ نیتن یاہو کو چاہیے کہ وہ اپنی فوجی حکمت عملی کے ساتھ ساتھ سفارتی راستوں پر بھی توجہ دیں تاکہ یرغمالیوں کی رہائی اور جنگ بندی ممکن ہو سکے۔ اس کے برعکس، اس طرح کے حملوں سے خطے میں امن کے امکانات کمزور ہوتے ہیں، اور یہ اسرائیل کے اپنے مفادات کے لیے بھی نقصان دہ ہو سکتا ہے۔





















