ٹک ٹاکر ثنا یوسف کے قتل کیس میں اہم پیشرفت سامنے آگئی

ملزم پر 20 ستمبر 2025 کو باقاعدہ فرد جرم عائد کی جائے گی

اسلام آباد کے سیکٹر جی-13 میں 17 سالہ مشہور ٹک ٹاکر ثنا یوسف کے قتل کے کیس میں اہم پیشرفت سامنے آئی ہے۔ اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ نے ملزم عمر حیات پر فرد جرم عائد کرنے کے لیے 20 ستمبر 2025 کی تاریخ مقرر کر دی ہے۔ ملزم، جس نے اپنے اعترافی بیان میں ثنا یوسف کو اس کے گھر میں گھس کر گولیاں مار کر قتل کرنے کا اقرار کیا تھا، کو عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں اسے چالان کی نقول فراہم کی گئیں۔ یہ کیس نہ صرف پاکستان بلکہ عالمی سطح پر بھی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے، کیونکہ ثنا یوسف اپنی ویڈیوز کے ذریعے لاکھوں مداحوں کے دلوں میں جگہ بنا چکی تھیں۔

کیس کا پس منظر

ثنا یوسف، جو اپنی دلکش ٹک ٹاک اور انسٹاگرام ویڈیوز کی بدولت ایک مقبول سوشل میڈیا شخصیت تھیں، کو 2 جون 2025 کو اسلام آباد کے سیکٹر جی-13 میں واقع ان کے گھر میں گولی مار کر قتل کر دیا گیا تھا۔ 17 سالہ ثنا، جو چترال سے تعلق رکھتی تھیں، نے اپنی ویڈیوز کے ذریعے لاکھوں فالوورز حاصل کیے تھے اور وہ نئی نسل کے لیے ایک عظیم عزائم کی علامت بن چکی تھیں۔ ان کے قتل نے نہ صرف ان کے مداحوں بلکہ پورے ملک میں صدمے کی لہر دوڑا دی۔

پولیس نے واقعے کے 20 گھنٹوں کے اندر ملزم عمر حیات، جو خود بھی ایک ٹک ٹاکر ہے اور ’’کاکا‘‘ کے نام سے جانا جاتا ہے، کو فیصل آباد سے گرفتار کر لیا تھا۔ عمر حیات نے ابتدائی تفتیش کے دوران اپنے جرم کا اقرار کیا اور بتایا کہ اس نے ثنا کے گھر میں گھس کر ان پر دو گولیاں چلائیں، جس سے وہ موقع پر ہی جاں بحق ہو گئیں۔ پولیس کے مطابق، یہ قتل ذاتی تنازعے کا نتیجہ تھا، جس کی بنیادی وجہ ثنا کی جانب سے عمر کے بار بار رابطے کی کوششوں کو مسترد کرنا تھا۔

عدالتی کارروائی

13 ستمبر 2025 کو اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ میں ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج محمد افضل مجوکا کی سربراہی میں کیس کی سماعت ہوئی۔ ملزم عمر حیات کو سخت سیکیورٹی حصار میں عدالت میں پیش کیا گیا۔ سماعت کے دوران، عدالت نے ملزم کو چالان کی نقول فراہم کیں، جو قانونی تقاضوں کے مطابق ایک لازمی عمل ہے۔ جج نے اعلان کیا کہ ملزم پر 20 ستمبر 2025 کو باقاعدہ فرد جرم عائد کی جائے گی، جس کے بعد اس کیس کا باقاعدہ ٹرائل شروع ہو گا۔

اس سے قبل، اگست 2025 میں پولیس نے چالان کو حتمی شکل دے کر پراسیکیوشن کو جمع کرایا تھا، جس میں 31 گواہوں کی فہرست شامل کی گئی تھی۔ ان گواہوں میں ثنا کے اہل خانہ، پولیس حکام، طبی ماہرین، اور دیگر متعلقہ افراد شامل ہیں۔ چالان میں عمر حیات کو ثنا کے قتل کا بنیادی ملزم نامزد کیا گیا ہے، اور اس میں ملزم کا سیکشن 164 کے تحت دیا گیا اعترافی بیان بھی شامل ہے۔

ابتدائی تفتیش اور شواہد

پولیس نے اس کیس کی تفتیش کے دوران جدید ٹیکنالوجی کا سہارا لیا۔ سی سی ٹی وی فوٹیج اور جیو فینسنگ کے ذریعے ملزم کے مقام اور موبائل فون کی سرگرمیوں کا پتہ لگایا گیا، جس سے عمر حیات کی گرفتاری ممکن ہوئی۔ تفتیش کے دوران ملزم کی گاڑی برآمد کر لی گئی، لیکن اس کا موبائل فون اب تک پولیس کے ہاتھ نہیں لگا۔ پراسیکیوٹر راجہ نوید نے عدالت کو بتایا کہ ملزم دانستہ طور پر فون کی برآمدگی سے گریز کر رہا ہے، کیونکہ وہ اپنے جرم کی سنگینی سے بخوبی آگاہ ہے۔

جون 2025 میں، ڈیوٹی مجسٹریٹ احمد شہزاد گوندل نے ملزم کو 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا تھا تاکہ شناخت پریڈ کا عمل مکمل کیا جا سکے۔ اس دوران، عدالت نے ایڈیالہ جیل کے سپرنٹنڈنٹ کو ہدایت کی کہ شناخت پریڈ کے دوران ملزم کو کسی سے ملنے نہ دیا جائے۔

سماجی اور قانونی اثرات

ثنا یوسف کے قتل نے پاکستان میں خواتین کے خلاف تشدد اور سوشل میڈیا انفلوئنسرز کی حفاظت کے حوالے سے ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ ایکس پر مداحوں اور خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والوں نے اس واقعے پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا۔ ایک صارف نے لکھا، ’’ثنا یوسف کا قتل ہمارے معاشرے میں خواتین کے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں کی عکاسی کرتا ہے۔ ہمیں سخت قوانین کی ضرورت ہے۔‘‘ ایک اور صارف نے تبصرہ کیا، ’’سوشل میڈیا ستاروں کو تحفظ دینا حکومت کی ذمہ داری ہے۔‘‘

خواتین کے حقوق کی تنظیموں نے اس کیس کو پاکستان میں صنفی تشدد کے بڑھتے ہوئے رجحان سے جوڑا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ثنا کا قتل محض ایک انفرادی واقعہ نہیں بلکہ معاشرے میں گہری جڑیں رکھنے والی بدنیتی اور آن لائن ہراسانی کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ملزم کو قرار واقعی سزا دی جائے تاکہ مستقبل میں ایسی کارروائیوں کو روکا جا سکے۔

عدالتی عمل کی اہمیت

20 ستمبر کو فرد جرم عائد ہونے کے بعد اس کیس کا باقاعدہ ٹرائل شروع ہو گا، جو پاکستان کے عدالتی نظام کے لیے ایک امتحان ہوگا۔ اگر ملزم کو سزا ہوئی تو اسے پاکستانی قانون کے تحت سزائے موت یا عمر قید کی سزا ہو سکتی ہے۔ اس کیس کی سماعت نہ صرف ثنا کے خاندان بلکہ ان لاکھوں مداحوں کے لیے بھی اہم ہے جو اس کیس میں انصاف کے منتظر ہیں۔

ثنا یوسف قتل کیس پاکستان کے معاشرتی اور قانونی منظر نامے میں ایک اہم کیس کے طور پر ابھرا ہے۔ 17 سال کی عمر میں ایک ایسی لڑکی، جو اپنی محنت اور صلاحیتوں سے سوشل میڈیا پر شہرت کی بلندیوں تک پہنچی، کا اس طرح بے دردی سے قتل ہونا نہ صرف ایک المیہ ہے بلکہ معاشرے میں خواتین کی حفاظت کے بارے میں سنگین سوالات اٹھاتا ہے۔ ملزم عمر حیات کا اعترافی بیان اور پولیس کی تیز رفتار گرفتاری اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے اس کیس کو سنجیدگی سے لیا، لیکن اب اصل امتحان عدالت کا ہے کہ وہ کتنی تیزی اور شفافیت سے انصاف فراہم کرتی ہے۔

یہ کیس معاشرے میں صنفی تشدد اور آن لائن ہراسانی کے بڑھتے ہوئے مسائل کو اجاگر کرتا ہے۔ ثنا کی طرف سے ملزم کے رابطوں کو بار بار مسترد کرنا اور اس کے نتیجے میں اس کا قتل اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ کس طرح ذاتی دشمنی اور غیر صحت مند رویے خواتین کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔ خاص طور پر سوشل میڈیا کے دور میں، جہاں نوجوان لڑکیاں اپنی صلاحیتوں کو اجاگر کر رہی ہیں، ان کی حفاظت کو یقینی بنانا ایک بڑا چیلنج ہے۔

عدالت کا 20 ستمبر کو فرد جرم عائد کرنے کا فیصلہ اس کیس میں ایک اہم موڑ ہے۔ تاہم، اس کیس کا ٹرائل صرف ملزم کی سزا تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے ایک مثال قائم کرنی چاہیے کہ خواتین کے خلاف تشدد کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ سوشل میڈیا انفلوئنسرز کے تحفظ کے لیے خصوصی اقدامات کرے، جیسے کہ آن لائن ہراسانی کے خلاف سخت قوانین اور ان کی موثر عملداری۔

مزید برآں، یہ کیس معاشرے کے لیے ایک سبق ہے کہ ہمیں اپنی سوچ کو بدلنے کی ضرورت ہے۔ خواتین کی خودمختاری اور ان کے فیصلوں کا احترام کرنا سیکھنا ہوگا۔ ثنا یوسف کا قتل نہ صرف ایک خاندان کا نقصان ہے بلکہ ایک ایسی نسل کا نقصان ہے جو ڈیجیٹل دنیا میں اپنا مقام بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔ اگر اس کیس میں انصاف فراہم کیا گیا تو یہ نہ صرف ثنا کے خاندان بلکہ ان تمام خواتین کے لیے ایک امید کی کرن ہوگا جو اپنے خواب پورے کرنے کی جدوجہد میں مصروف ہیں۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین