لاہور(خصوصی تجریاتی رپورٹ:رمیض حسین)چیئرمین واپڈا نے اعلان کیا ہے کہ 5 ارب ڈالر کا نیلم جہلم پراجیکٹ 2028ء تک کیلئے بند رہے گا۔ سستی بجلی پیدا کرنے کا یہ ریاستی پراجیکٹ بند کرنے کے اعلان کے ساتھ کچھ سوالات بھی ذہن میں ابھرتے ہیں۔ نیلم جہلم پراجیکٹ کا تعمیراتی کام مکمل ہو چکا ہے۔ سستی بجلی کے اس لگ بھگ1000 میگاواٹ کے منصوبے کو فنکشنل نہیں ہونے دیا جارہا حالانکہ اسے تحویل میں دینے کی تمام کاغذی کارروائی بھی مکمل ہو چکی ہے۔ دوسری طرف ہم دیکھتے ہیں آئی پی پیز کے 100 فیصد منصوبے مارچ 1997ء سے لیکر جون 2003ء تک مکمل ہو جاتے ہیں لیکن جس سستی بجلی کے منصوبے کی فزیبلٹی 1984ء میں تیار ہوتی ہے اور جس کے پیسے بھی بجلی کے بلوں کے ذریعے وصول کرنے کا آغاز 1984ء سے ہی کر دیا گیا تھا اس منصوبے کے بارے میں 41 سال بعد بتایا جارہا ہے کہ وہ 2028ء تک بند رہے گا۔ ایک سوال یہ ہے کہ وہ بہترین دماغ جو اپنے ذاتی بجلی گھروں کی تکمیل محض 4 سے 5 سال کے اندر کر سکتے ہیں عوام کے پیسے سے قائم ہونے والے منصوبے کے بارے میں ان کی یہ انتظامی صلاحتیں کہاں چلی گئی ہیں؟
چیئرمین واپڈا کے اس بیان سے صاف نظر آرہا ہے کہ کوئی تو ہے جو ذاتی بجلی گھر چلارہا ہے اور ریاستی منصوبے التواء کا شکار بنارہا ہے۔ ن لیگ اور پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت اگر چاہتی تو کوئی وجہ نہیں تھی کہ پاکستان کے عوام، تاجر، صنعتکار آج 20 روپے سے کم یونٹ والی ہائیڈل بجلی استعمال کررہے ہوتے مگر سوال یہ ہے کہ اگر سستی بجلی کے منصوبے مکمل ہو جاتے تو پھر آئی پی پیز کے ذریعے حاصل ہونے والا اربوں روپے کا خالص منافع جیبوں میں کیسے آتا؟ آئیے نیلم جہلم پراجیکٹ کی مختصر تاریخ کے بارے میں آگاہی حاصل کرتے ہیں۔
پاکستان کے اہم ترین پن بجلی منصوبوں میں شمار ہونے والا 969 میگاواٹ کا نیلم جہلم پن بجلی منصوبہ طویل تاخیر کے بعد 2018ء میں مکمل ہوا، تاہم زیر زمین سرنگ کو پہنچنے والے نقصان کے باعث منصوبے سے بجلی کی پیداوار اس وقت معطل ہے۔
منصوبے کی ابتدائی فزیبلٹی اور خاکہ 1984ء میں تیار کیا گیا تھا، جبکہ قومی اقتصادی کونسل کی انتظامی کمیٹی نے 31 دسمبر 1989ء کو اس کی باقاعدہ منظوری دی۔ ابتدائی منصوبہ بندی کے مطابق اسے 1996ء تک مکمل کیا جانا تھا، لیکن مالی وسائل کی کمی، انتظامی رکاوٹوں اور مختلف تکنیکی مسائل کے باعث عملی تعمیر کا آغاز نہ ہوسکا۔
نیلم جہلم پن بجلی منصوبے پر باقاعدہ تعمیراتی کام 30 جنوری 2008ء کو شروع ہوا۔ تعمیراتی معاہدے کے تحت منصوبے کو اکتوبر 2015ء تک مکمل کیا جانا تھا، تاہم مختلف وجوہات کی بنا پر تکمیل کی مدت میں متعدد مرتبہ توسیع کی گئی۔ بعدازاں منصوبے کے چاروں پیداواری یونٹ 2018ء میں مرحلہ وار فعال ہوئے اور 14 اگست 2018ء کو منصوبے نے اپنی مکمل پیداواری صلاحیت 969 میگاواٹ حاصل کرلی۔
دستیاب سرکاری معلومات کے مطابق منصوبے کی تعمیراتی پیش رفت تقریباً سو فیصد مکمل ہوچکی تھی، جبکہ دسمبر 2021ء میں منصوبے کے مکمل کام کا تحویلی سرٹیفکیٹ بھی جاری کردیا گیا تھا۔
تاہم اپریل 2024ء میں منصوبے کی زیر زمین پانی منتقل کرنے والی سرنگ کو شدید نقصان پہنچنے کے بعد بجلی کی پیداوار روک دی گئی۔ اس وقت منصوبہ تعمیراتی اعتبار سے مکمل ہے، لیکن سرنگ کی مرمت اور بحالی کے کام کے باعث قومی نظام کو بجلی فراہم نہیں کر رہا۔
متعلقہ حکام کے مطابق متاثرہ سرنگ کی مرمت اور بحالی کا عمل جاری ہے اور منصوبے سے بجلی کی پیداوار دوبارہ شروع کرنے کا متوقع ہدف مارچ 2028ء مقرر کیا گیا ہے۔ تاہم مرمتی کام کی موجودہ مرحلہ وار یا فیصدی پیش رفت کے حوالے سے تاحال کوئی واضح اور حتمی سرکاری اعداد و شمار سامنے نہیں آئے۔
نیلم جہلم پن بجلی منصوبہ ملکی توانائی ضروریات پوری کرنے کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ منصوبے کی طویل بندش سے نہ صرف قومی نظام کو 969 میگاواٹ سستی پن بجلی سے محرومی کا سامنا ہے بلکہ قومی خزانے پر مہنگے متبادل ذرائع سے بجلی پیدا کرنے کا اضافی بوجھ بھی پڑ رہا ہے۔
توانائی ماہرین نے منصوبے کی جلد، محفوظ اور پائیدار بحالی کے ساتھ ساتھ سرنگ کو نقصان پہنچنے کی وجوہات، تعمیراتی معیار اور نگرانی کے نظام سے متعلق مکمل تحقیقات اور ذمہ داروں کے تعین کی ضرورت پر بھی زور دیا ہے۔





















