کم عمر بچوں اور بچیوں سے زیادتی کرنے والا ملزم گرفتار ،دل دہلا دینے والے انکشافات

پولیس نے ملزم کے موبائل فون سے 100 سے زائد ویڈیوز اور ایک یوایس بی سے مزید 200 سے زائد غیر اخلاقی ویڈیوز برآمد کیں

کراچی :قیوم آباد میں کم عمر بچوں اور بچیوں سے زیادتی کے سنگین کیس میں ملزم شبیر احمد کے خلاف پولیس کی تفتیش نے چونکا دینے والے حقائق سامنے لائے ہیں۔ جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی کی عدالت میں پولیس نے ملزم سے تفتیش کی رپورٹ پیش کی، جس میں چائلڈ پورنوگرافی سمیت دیگر سنگین دفعات شامل کی گئی ہیں۔ ملزم کے قبضے سے 200 سے زائد غیر اخلاقی ویڈیوز برآمد ہوئی ہیں، جو اس کے گھناؤنے جرائم کی شدت کو ظاہر کرتی ہیں۔

پولیس رپورٹ کے مطابق، ایبٹ آباد کا رہائشی ملزم شبیر احمد 2011 میں کراچی منتقل ہوا اور قیوم آباد میں پرچون کی دکان کھولی، جہاں وہ اسٹیشنری کا سامان فروخت کرتا تھا۔ دکان پر آنے والی کم عمر بچیوں کو وہ پیسوں کا لالچ دے کر اپنے گھر لے جاتا اور انہیں زیادتی کا نشانہ بناتا تھا۔ 2016 میں ملزم نے قیوم آباد کے بی ایریا میں شربت کا ٹھیلا لگانا شروع کیا اور اسے بطور ہتھکنڈہ استعمال کرتے ہوئے 5 سے 12 سال کی عمر کے بچوں اور بچیوں کو اپنی ہوس کا نشانہ بناتا رہا۔

تفتیش کے دوران ملزم نے اعتراف کیا کہ اس نے کم عمر بچوں کے ساتھ بدفعلی اور زیادتی کے واقعات کو ویڈیوز کی صورت میں ریکارڈ کیا۔ پولیس نے ملزم کے موبائل فون سے 100 سے زائد ویڈیوز اور ایک یوایس بی سے مزید 200 سے زائد غیر اخلاقی ویڈیوز برآمد کیں۔ ملزم نے ایک ڈائری بھی رکھی ہوئی تھی، جس میں اس نے اپنے متاثرین یعنی 70 سے 75 بچوں اور بچیوں کے ناموں کی فہرست درج کی تھی۔

رپورٹ کے مطابق، ملزم کا بھانڈا اس وقت پھوٹا جب ایک متاثرہ بچی نے ملزم کی یوایس بی ایک موبائل شاپ پر لے جا کر دکھائی، جس کے بعد پولیس حرکت میں آئی اور ملزم کو گرفتار کر لیا گیا۔ پولیس کے مطابق، ملزم کے خلاف دو بہنوں سمیت پانچ کم عمر بچیوں کے اہلخانہ کی شکایات پر تھانہ ڈیفنس میں چار مقدمات درج کیے گئے ہیں۔

ایس ایچ او ڈیفنس غلام نبی آفریدی نے بتایا کہ ملزم نے دوران تفتیش اپنے جرائم کا اعتراف کیا ہے اور اس کے پاس سے برآمد ہونے والی ویڈیوز اور تصاویر اس کے ظالمانہ رویے کی گواہی دیتی ہیں۔ عدالت نے ملزم شبیر احمد کو 5 روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا ہے اور تفتیشی افسر سے 17 ستمبر تک پیش رفت رپورٹ طلب کی ہے۔

یہ واقعہ نہ صرف کراچی بلکہ پورے ملک کے سماجی ڈھانچے پر ایک لرزہ خیز سوالیہ نشان کھڑا کرتا ہے۔ قیوم آباد میں بچوں اور بچیوں سے زیادتی کرنے والے ملزم شبیر احمد کی گرفتاری اور اس کے قبضے سے دو سو سے زائد ویڈیوز کی برآمدگی معاشرے میں موجود خاموش مجرموں کے خوفناک نیٹ ورک کی نشاندہی کرتی ہے۔ ایک سینئر صحافی کی حیثیت سے اس واقعے پر چند اہم پہلوؤں پر روشنی ڈالنا ضروری ہے۔

سب سے پہلے، یہ کیس قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لئے ایک امتحان ہے۔ ملزم کے قبضے سے جو مواد برآمد ہوا ہے، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ کئی سالوں سے یہ گھناؤنا کھیل کھیل رہا تھا، لیکن پولیس اور مقامی کمیونٹی کو اس کی خبر نہ ہو سکی۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ہمارے محلے اور علاقے ابھی تک کمیونٹی ویجیلنس کے کلچر کو فروغ نہیں دے سکے۔ ایسے کیسز میں مقامی لوگوں کی خاموشی اور بے حسی مجرم کو مزید طاقت دیتی ہے۔

دوسرا پہلو چائلڈ پروٹیکشن قوانین اور ان کے نفاذ کا ہے۔ پاکستان میں چائلڈ پروٹیکشن ایکٹ اور چائلڈ پورنوگرافی کے خلاف سخت قوانین موجود ہیں، لیکن ان پر عملدرآمد کمزور ہے۔ ایسے کیسز میں تفتیش کو نہایت باریک بینی اور جدید فرانزک ٹیکنالوجی کے ساتھ آگے بڑھانا ہوگا تاکہ کوئی ثبوت ضائع نہ ہو اور مجرم کو کڑی سزا دی جا سکے۔ عدالتوں میں ایسے کیسز کو فاسٹ ٹریک پر چلانا چاہیے تاکہ متاثرہ بچوں اور ان کے خاندانوں کو جلد انصاف ملے اور معاشرے کو ایک مضبوط پیغام جائے۔

تیسرا اور سب سے اہم نکتہ سماجی شعور اور تعلیم کا فقدان ہے۔ والدین اور اساتذہ کو بچوں کو یہ شعور دینا ہوگا کہ اگر کوئی شخص انہیں نامناسب طور پر چھوئے، یا کسی بہانے اکیلے لے جانے کی کوشش کرے تو فوراً اپنے والدین کو اطلاع دیں۔ اسکولوں میں چائلڈ سیفٹی پر باقاعدہ لیکچرز، ورکشاپس اور آگاہی پروگرامز ہونے چاہئیں تاکہ بچے سمجھ سکیں کہ ان کی حفاظت کیسے کی جا سکتی ہے۔

اس کیس نے یہ بھی واضح کر دیا ہے کہ جدید ڈیجیٹل جرائم (جیسے چائلڈ پورنوگرافی) اب ہمارے معاشرے میں عام ہو رہے ہیں اور ان کے سدباب کے لیے سائبر کرائم ونگ کو مزید مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔ پولیس کو جدید ٹریننگ، ٹیکنالوجی اور وسائل مہیا کرنا ہوں گے تاکہ وہ ایسے مجرموں کے نیٹ ورکس تک پہنچ سکے۔

یہ معاملہ محض ایک ملزم کی گرفتاری پر ختم نہیں ہونا چاہیے۔ یہ وقت ہے کہ ہم بحیثیت قوم اپنے رویوں پر غور کریں اور ایک ایسا نظام تشکیل دیں جہاں محلے، اسکول، والدین اور قانون نافذ کرنے والے ادارے مل کر بچوں کے تحفظ کے لیے کام کریں۔ یہ صرف قانونی نہیں بلکہ اخلاقی اور سماجی ذمہ داری بھی ہے۔ اگر ہم نے اس مسئلے کو سنجیدگی سے نہ لیا تو آنے والے وقت میں یہ ناسور مزید پھیل سکتا ہے۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین