امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ قطر امریکا کے سب سے قریبی اتحادیوں میں شمار ہوتا ہے اور اس حقیقت کے پیش نظر اسرائیل کو اپنے رویے میں غیر معمولی احتیاط برتنی ہوگی۔
صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے قطر کو ایک "انتہائی معتبر ساتھی” قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا اور قطر کے درمیان گہرے تعلقات موجود ہیں اور یہ شراکت داری خطے کے لیے بھی اہمیت رکھتی ہے۔ ٹرمپ نے قطر کے امیر کی تعریف کرتے ہوئے انہیں ایک "قابلِ فخر اور عظیم رہنما کہا
ایک صحافی نے ان سے سوال کیا کہ قطر پر اسرائیلی حملوں کے تناظر میں وہ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کو کیا پیغام دینا چاہتے ہیں؟ اس پر صدر ٹرمپ نے واضح کیا کہ اسرائیل کو قدم اٹھانے سے پہلے سنجیدہ احتیاط سے کام لینا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل کو حماس کے خلاف اقدامات ضرور کرنے ہیں لیکن انہیں یہ بھی سمجھنا چاہیے کہ قطر امریکا کے لیے ایک کلیدی شراکت دار ہے جسے دنیا اکثر نظرانداز کر دیتی ہے۔
صدر ٹرمپ نے روس کے خلاف پالیسیوں پر بھی اظہارِ خیال کیا انہوں نے کہا کہ امریکا ماسکو پر مزید دباؤ ڈالنے کے لیے تیار ہے اور وہ چاہتا ہے کہ یورپی ممالک بھی اسی سخت حکمتِ عملی کو اختیار کریں۔ ان کے مطابق یورپ اس وقت روس سے بڑی مقدار میں تیل خرید رہا ہے، جو امریکا کے نزدیک ناقابلِ قبول ہے۔ واشنگٹن چاہتا ہے کہ یورپی ممالک روسی تیل پر انحصار کم کریں تاکہ ماسکو پر اقتصادی دباؤ میں اضافہ ہو۔
ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ بھارت کی جانب سے روسی تیل کی خریداری پر پہلے ہی بھاری ٹیرف عائد کیا جا چکا ہے۔ ان کے مطابق یہ اقدام اسی پالیسی کا حصہ ہے جس کے ذریعے روس کی معیشت پر قدغن لگائی جا رہی ہے۔
صدر ٹرمپ نے اپنی گفتگو میں یہ بھی اشارہ دیا کہ امریکا اور چین کے درمیان تجارتی معاہدوں پر بڑی پیش رفت کا امکان ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات مثبت سمت میں بڑھ رہے ہیں اور مستقبل قریب میں اہم فیصلے سامنے آ سکتے ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ کے یہ بیانات عالمی سیاست میں کئی پہلوؤں کو نمایاں کرتے ہیں۔ ایک طرف وہ مشرقِ وسطیٰ میں قطر کو نمایاں کر کے اسرائیل پر دباؤ ڈال رہے ہیں کہ وہ اپنی حکمتِ عملی میں نرمی دکھائے، تو دوسری جانب یورپ اور بھارت پر روسی تیل کے معاملے میں سخت رویہ اختیار کرنے پر زور دے رہے ہیں۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ امریکا ایک ساتھ کئی محاذوں پر اپنے مفادات کو محفوظ بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔ قطر کے حوالے سے ٹرمپ کے بیانات اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ خلیجی خطے میں واشنگٹن قطر کو ایک کلیدی کردار کے طور پر دیکھتا ہے، جبکہ روس کے خلاف ان کی پالیسی اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ امریکا توانائی کی منڈیوں میں ماسکو کے اثر و رسوخ کو کم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ آنے والے دنوں میں یہ حکمتِ عملی مشرقِ وسطیٰ اور یورپ دونوں کے لیے نئے چیلنجز اور مواقع پیدا کر سکتی ہے۔





















