عوام پر اضافی دباؤ،کراچی سمیت ملک بھر کے صارفین کے لیے بجلی مہنگی ہونے کا امکان

صارفین کو ہر بل میں اوسطاً 50 سے 100 روپے کا اضافی بوجھ برداشت کرنا پڑے گا

پاکستان کی معیشت پر توانائی کے بحران کی ایک نئی لہر ابھر رہی ہے، جہاں بجلی کی تقسیم کار کمپنیاں صارفین کو مزید مالی دباؤ میں ڈالنے کی تیاری کر رہی ہیں۔ نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) کو جمع کرائی گئی درخواستوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ اگست کے لیے ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ (ایف سی اے) کی مد میں فی یونٹ 19 پیسے کا اضافہ تجویز کیا گیا ہے، جو کراچی سمیت ملک بھر کے لاکھوں صارفین کی جیبوں پر براہ راست اثر ڈالے گا۔ یہ اضافہ، جو مرکزی پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے جی) کی جانب سے پیش کیا گیا ہے، بجلی کی پیداوار کی بڑھتی ہوئی لاگت اور ریفرنس ریٹ کے فرق کی وجہ سے ہے، اور اس کی سماعت 29 ستمبر کو متوقع ہے۔ ی

اضافے کی بنیادی وجوہات

سی پی پی اے جی کی درخواست میں تفصیلات سے پتہ چلتا ہے کہ اگست 2025 کے دوران مجموعی طور پر 14 ارب 22 کروڑ یونٹس بجلی کی پیداوار ہوئی، جس میں سے 13 ارب 71 کروڑ 50 لاکھ یونٹس تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) کو فراہم کی گئیں۔ اس ماہ بجلی کی اوسط لاگت 7 روپے 50 پیسے فی یونٹ رہی، جبکہ حکومت کی طرف سے مقرر کردہ ریفرنس لاگت 7 روپے 31 پیسے فی یونٹ تھی۔ اس فرق کی وجہ سے پیدا ہونے والے مالی خسارے کو پورا کرنے کے لیے 19 پیسے فی یونٹ کا اضافہ مانگا گیا ہے، جو تقریباً 26 ارب روپے کی رقم کی واپسی کا باعث بنے گا۔ یہ ایڈجسٹمنٹ نہ صرف ایکس ڈبلیو ڈسکوز بلکہ کیلیکٹرک (کے الیکٹرک) کے صارفین پر بھی لاگو ہوگی، جو ملک بھر میں یکساں اطلاق کی ضمانت دیتی ہے۔

یہ اضافہ، جو مہنگائی کی موجودہ لہر میں ایک اور ضرب کی مانند ہے، بجلی کی پیداوار میں فوسل فیولز کی بڑھتی ہوئی لاگت اور ہائیڈل جنریشن کی غیر یقینی کی وجہ سے ہے۔ اگست میں ہائیڈل کا حصہ 38.80 فیصد رہا، جو پیداوار کو سستا بنانے میں مددگار تو تھا مگر مجموعی طور پر لاگت میں اضافہ ہوا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ایڈجسٹمنٹ صارفین کی کمر توڑنے والی ہوگی، خاص طور پر جب کہ پہلے ہی جولائی میں 24.5 ارب روپے کی واپسی کی منظوری ملی تھی۔

نیپرا کی سماعت

نیپرا نے سی پی پی اے جی کی درخواست پر 29 ستمبر کو عوامی سماعت کا اعلان کر دیا ہے، جہاں صارفین، صنعت کاروں اور دیگر متعلقہ فریقین اپنے تحفظات پیش کر سکیں گے۔ یہ سماعت نہ صرف اضافے کی منظوری کا فیصلہ کرے گی بلکہ اس کی نفاذ کی شرائط بھی طے کرے گی، جو اکتوبر کے بلز میں شامل ہوگی۔ پچھلے مہینوں کی طرح، نیپرا کی طرف سے جزوی منظوری کا امکان ہے، مگر 19 پیسے کا پورا اضافہ منظور ہونے سے صارفین کو ہر بل میں اوسطاً 50 سے 100 روپے کا اضافی بوجھ برداشت کرنا پڑے گا، جو غریب گھرانوں کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔

کراچی، جو کیلیکٹرک کی حدود میں ہے، میں یہ اضافہ خاص طور پر شدید ہوگا، جہاں پہلے ہی لوڈشیڈنگ اور بلنگ کے مسائل عام ہیں۔ ملک بھر کی ڈسکوز جیسے لیسکو، ایسکو اور پی پی اینڈ ڈی جیسے اداروں کے صارفین بھی اس سے متاثر ہوں گے، جو مجموعی طور پر 35 ملین سے زائد گھرانوں کی زندگیوں کو چھوئے گا۔

تاجکستان کی مثال

اس تناظر میں، وسطی ایشیا کا ملک تاجکستان ایک دلچسپ مثال پیش کر رہا ہے، جہاں توانائی کے بحران نے حکومت کو سخت اقدامات پر مجبور کر دیا ہے۔ تازہ ترین ترامیم کے تحت، بجلی کی چوری یا میٹر میں ہیرا پھیری کرنے والوں کو 10 سال تک کی قید کی سزا سنائی جا سکتی ہے۔ یہ قانون، جو اپریل 2025 میں نافذ ہوا، بجلی کی غیر قانونی استعمال کو جرائم قرار دیتا ہے، خاص طور پر جب یہ بڑے پیمانے پر یا گروہی طور پر کیا جائے۔ تاجکستان میں پانی کی کمی کی وجہ سے ہائیڈرو الیکٹرک پاور کی پیداوار متاثر ہو رہی ہے، جو 95 فیصد بجلی کی بنیاد ہے، اور اس نے حکومت کو ایسے سخت قوانین کی طرف دھکیلا ہے۔ پاکستان کے تناظر میں، یہ مثال بجلی کی بچت اور چوری کی روک تھام کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے، جہاں سسٹم لاسز 17-20 فیصد تک پہنچ چکی ہیں، جو صارفین پر ہی بوجھ ڈالتے ہیں۔

صارفین کی مشکلات

یہ اضافہ اس وقت آ رہا ہے جب پاکستان کی معیشت پہلے ہی آئی ایم ایف کی شرائط اور مہنگائی کی زنجیروں میں جکڑی ہوئی ہے۔ اگست میں بجلی کی پیداوار میں 7.5 فیصد اضافہ ہوا، مگر لاگت میں بھی اتنا ہی اضافہ دیکھا گیا، جو صارفین کی کمر توڑ رہا ہے۔ اوسط بلنگ 300 یونٹس سے زائد صارفین کو 30 روپے فی یونٹ سے زائد ادا کرنا پڑ رہا ہے، اور یہ 19 پیسے کا اضافہ ان کی مشکلات کو مزید گہرا کر دے گا۔ صنعتی شعبہ، جو پہلے ہی پیداواری لاگت میں اضافے کی وجہ سے متاثر ہے، اس سے مزید برآمدات پر اثر پڑے گا، جو معیشت کی بحالی کو سست کر دے گا۔

یہ بجلی کی قیمتوں میں تجویز کردہ اضافہ پاکستان کی توانائی کی دنیا میں ایک مسلسل بحران کی عکاسی کرتا ہے، جہاں ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ جیسے اقدامات صارفین پر بوجھ ڈالتے رہتے ہیں بغیر بنیادی مسائل کا حل کیے۔ اگست کی پیداوار کی لاگت اور ریفرنس ریٹ کا فرق، جو 19 پیسے کا اضافہ لانے والا ہے، فوسل فیولز کی مہنگائی اور ہائیڈل کی غیر یقینی کی وجہ سے ہے، مگر نیپرا کی 29 ستمبر کی سماعت اسے مزید واضح کرے گی۔ تاجکستان کی 10 سال قید کی سزا جیسی مثالیں، جو توانائی کی بچت پر زور دیتی ہیں، پاکستان کے لیے سبق ہیں جہاں سسٹم لاسز اور چوری 20 فیصد تک پہنچ چکی ہیں، جو صارفین کی جیبوں سے وصول کیے جاتے ہیں۔

یہ اضافہ، جو 26 ارب روپے کی واپسی کا باعث بنے گا، غریب گھرانوں اور صنعت کو مزید کمزور کرے گا، خاص طور پر جب کہ آئی ایم ایف کی شرائط صارفین پر سبسڈی ختم کرنے کا دباؤ ڈال رہی ہیں۔ حکومت کو نہ صرف سولر اور قابل تجدید توانائی کو فروغ دینا چاہیے بلکہ چوری کی روک تھام اور پیداواری لاگت کم کرنے کے لیے فوری اقدامات اٹھانے چاہییں۔ مجموعی طور پر، یہ صورتحال عوام کی برداشت کی حد کو آزما رہی ہے، اور اگر طویل مدتی اصلاحات نہ آئیں تو معاشی استحکام کا خواب دور ہی رہے گا۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین