سیلاب اور صحت کے مسائل،حکومتی اداروں اور فلاحی تنظیموں کی توجہ کے لئے

جس شخص کے گھر کی چھت گر جائے، کھیت کھلیان بہہ جائیں، مال مویشی ختم ہو جائیں اور روزگار کا کوئی سہارا باقی نہ رہے، وہ ریت کے ٹیلے پر بیٹھ کر فلاحی اداروں کے کھانے کے ڈبے تو لے سکتا ہے مگر اس کی آنکھوں میں امید کے دیے بجھ جاتے ہیں۔

سیلاب اور صحت کے مسائل،حکومتی اداروں اور فلاحی تنظیموں کی توجہ کے لئے

تحریر: رمیض حسین

سیلاب کی تباہی محض یہ نہیں کہ ایک ریلہ آئے، بستیاں اجاڑ دے، گھروں کو بہا لے جائے اور پھر میڈیا چند دن ان مناظر کو دکھا کر خاموش ہو جائے۔ اصل سانحہ تو اس کے بعد شروع ہوتا ہے، جب زندہ بچ جانے والے لوگ اپنی آنکھوں کے سامنے اپنی زندگی کی تمام بنیادیں ڈوبتے دیکھتے ہیں۔ وہ لوگ جسمانی طور پر تو زندہ ہوتے ہیں، لیکن اندر سے ایسے خالی ہو چکے ہوتے ہیں جیسے کوئی ان کی روح چھین لے۔

جس شخص کے گھر کی چھت گر جائے، کھیت کھلیان بہہ جائیں، مال مویشی ختم ہو جائیں اور روزگار کا کوئی سہارا باقی نہ رہے، وہ ریت کے ٹیلے پر بیٹھ کر فلاحی اداروں کے کھانے کے ڈبے تو لے سکتا ہے مگر اس کی آنکھوں میں امید کے دیے بجھ جاتے ہیں۔ کیا ایسے شخص کو واقعی ’’زندہ‘‘ کہا جا سکتا ہے؟

ایک محنت کش خاندان نسلوں تک زمین کاشت کرتا ہے، چند جانور پالتا ہے، اپنی محنت سے مستقبل سنوارتا ہے، اور پھر ایک لمحے میں سب کچھ پانی بہا لے جائے تو اس خاندان کو ’’زندہ بچ جانے‘‘ کی مبارکباد دینا تکلیف دہ مذاق معلوم ہوتا ہے۔ خاص طور پر پاکستان جیسے ملک میں جہاں ریاست فلاحی ذمہ داریوں کو پورا کرنے سے قاصر ہو، وہاں ایسے لوگوں کے لیے زندگی محض ایک بوجھ بن جاتی ہے۔ اس دکھ کا تصور بھی دل کو ہلا دینے کے لیے کافی ہے۔

پاکستان میں سیلاب اب کوئی غیر متوقع آفت نہیں رہے بلکہ ایک سالانہ آزمائش بن چکے ہیں۔ موسمیاتی تبدیلی اپنے اثرات پوری شدت سے دکھا رہی ہے اور بادل پھٹنے جیسی غیر معمولی موسمی کیفیت نئے خطرات کو جنم دے رہی ہے۔ اچانک برسنے والی موسلا دھار بارشیں، جو بعض اوقات پہاڑوں کو ہلانے پر مجبور کر دیتی ہیں، پورے دیہات اجاڑ دیتی ہیں، گھروں، کھیتوں، گاڑیوں اور حتیٰ کہ مویشیوں کو بھی بہا لے جاتی ہیں۔ یہ مناظر شمالی علاقوں کے ساتھ ساتھ بارانی اور میدانی علاقوں میں کئی بار دیکھے گئے، اور ہر بار یہ دکھ اور بے بسی کا ایک نیا باب رقم کر جاتے ہیں۔متاثرین کی مشکلات فوری بھی ہوتی ہیں اور طویل المدتی بھی، براہِ راست بھی اور بالواسطہ بھی۔

یہی وجہ ہے کہ سیلاب کے دوران کسی بھی ہنگامی امدادی منصوبے میں صحت کے پہلو کو مرکزی حیثیت دینا ناگزیر ہے۔ طبی مسائل کو عمومی طور پر پانچ بڑے گروپوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔

پہلا گروپ وہ ہے جو فوراً سامنے آتا ہے، جیسے ڈوبنے سے بچنے کی جدوجہد میں لگنے والی چوٹیں، عمارتوں کے گرنے سے زخمی ہونا، سانپ کے کاٹنے کے واقعات اور طویل وقت تک پانی میں رہنے سے جسم کے ٹھنڈا پڑ جانے کی کیفیت۔ ایسے متاثرین کو فوری طبی امداد، سرجری اور مناسب سہولیات تک پہنچانا ضروری ہوتا ہے۔

دوسرا گروپ پانی سے پھیلنے والی بیماریوں پر مشتمل ہے۔ اسہال، ہیضہ، ٹائیفائیڈ اور ہیپاٹائٹس ای کے کیسز تیزی سے بڑھتے ہیں، جبکہ ملیریا اور ڈینگی جیسے امراض بھی کھڑے پانی کے باعث پھیل جاتے ہیں۔ اس مرحلے پر صاف پانی، محفوظ خوراک، صفائی اور بیماریوں سے بچاؤ کی آگاہی فراہم کرنا بنیادی ضرورت بن جاتی ہے۔ ان علاقوں میں پولیو کے بڑھتے خطرات کے پیشِ نظر خصوصی ویکسینیشن مہمات چلانا بھی نہایت اہم ہے تاکہ وائرس مزید نہ پھیلے۔

تیسرا گروپ ان افراد پر مشتمل ہے جو پہلے سے ذیابیطس، بلڈ پریشر اور سانس کے دائمی امراض میں مبتلا ہوتے ہیں۔ سیلاب ان کے علاج کا تسلسل توڑ دیتا ہے اور انسولین یا دیگر دواؤں کی فراہمی رک جاتی ہے، جو ان کی زندگی کو خطرے میں ڈال دیتا ہے۔

چوتھا گروپ ذہنی صحت کے مسائل کا ہے، جو بدقسمتی سے اکثر نظر انداز کر دیے جاتے ہیں۔ گھر، روزگار اور پیاروں کے کھو جانے کا صدمہ متاثرین کو شدید ذہنی دباؤ اور ڈپریشن میں مبتلا کر دیتا ہے۔ ایسے میں تربیت یافتہ ماہرینِ نفسیات کی خدمات کو طبی ٹیموں کا لازمی حصہ بنانا چاہیے تاکہ متاثرین کو بروقت مدد مل سکے اور پوسٹ ٹرامیٹک اسٹریس ڈس آرڈر جیسے مسائل کو کم کیا جا سکے۔

پانچواں اور آخری گروپ کمزور طبقات پر مشتمل ہے جن میں حاملہ خواتین، چھوٹے بچے، ضعیف افراد اور معذور شامل ہیں۔ ان کے لیے ترجیحی بنیادوں پر سہولیات فراہم کرنا ضروری ہے کیونکہ یہ سب سے زیادہ خطرے میں ہوتے ہیں۔

یہ تمام گروہ صحت کی منصوبہ بندی کے لیے رہنما اصول فراہم کرتے ہیں۔ اس ضمن میں بے تحاشا اور غیر منصوبہ بند دواؤں کی تقسیم بعض اوقات فائدے کے بجائے نقصان دہ ثابت ہوتی ہے۔ عالمی ادارۂ صحت نے ہنگامی حالات کے لیے ’’انٹرا ایجنسی ایمرجنسی ہیلتھ کٹ‘‘ اور ’’کولرا کٹ 2020‘‘ جیسے معیاری پیکجز تیار کیے ہیں، جو ہزاروں لوگوں کی طبی ضروریات کو باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت پورا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ان کٹس کا مطالعہ اور ان سے رہنمائی لینا پاکستان کے لیے بھی نہایت ضروری ہے۔

اصل امتحان تب شروع ہوتا ہے جب فوری امدادی ٹیمیں واپس جا چکی ہوتی ہیں، میڈیا کا دھیان ہٹ چکا ہوتا ہے اور متاثرہ افراد کو تنہائی میں اپنی زندگی دوبارہ تعمیر کرنے کے کٹھن مرحلے کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یہی وہ وقت ہوتا ہے جب ریلیف کو بحالی میں بدلنے کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ متاثرین کو اس نہج پر واپس لایا جا سکے جہاں وہ سیلاب سے پہلے کھڑے تھے۔

اگر ہم چاہیں کہ یہ سالانہ آفت ہماری آنے والی نسلوں کو تباہ نہ کرے تو ہمیں محض فوری امداد پر اکتفا نہیں کرنا چاہیے بلکہ ایک مکمل اور مربوط صحت، بحالی اور آگاہی کا نظام تشکیل دینا ہوگا۔ یہ صرف حکومت کی ذمہ داری نہیں بلکہ معاشرے کے ہر فرد اور ادارے کو اس عمل میں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ سیلاب قدرتی آفات ہیں، لیکن ان کے بعد ہونے والی انسانی تکالیف کو کم کرنا ہمارے اختیار میں ہے۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین