امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے برطانیہ کے وزیر اعظم کیئر سٹارمر کو ملک میں امیگریشن روکنے کا مشورہ دیا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر ضرورت پڑے تو اس کے لیے فوج کا استعمال کریں۔
عرب ٹی وی کے مطابق، امریکی صدر نے کل لندن میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ دوسرے ملکوں سے لوگ برطانیہ آ رہے ہیں۔ میں نے برطانیہ کے وزیر اعظم سے کہا کہ اگر میں ان کی جگہ ہوتا تو یہ روک دیتا۔
انہوں نے کہا کہ تارکین وطن کو روکنے کے لیے فوج بلانے سمیت ہر ممکن طریقہ استعمال کرنا چاہیے۔
اس پر برطانیہ کے وزیر اعظم نے جواب دیا کہ برطانیہ کا فرانس کے ساتھ ایک ایسا معاہدہ اہم ہے جس میں ایک آئیں اور ایک جائیں۔ یہ ثابت کرنا ضروری ہے کہ یہ نظام کام کر سکتا ہے۔
امریکی صدر کے ساتھ پریس کانفرنس میں برطانیہ کے وزیر اعظم کیئر سٹارمر نے کہا کہ فرانس کے ساتھ مہاجرین کی واپسی کا معاہدہ مؤثر بنانا بہت اہم ہے۔ اس سے ملک میں غیر قانونی مہاجرین کی آمد پر قابو پایا جا سکتا ہے۔
امریکی صدر نے کہا کہ انہیں برطانیہ کے وزیر اعظم سے فلسطین کو ریاست کے طور پر تسلیم کرنے کے معاملے پر اختلاف ہے۔ دراصل، یہ ہمارے درمیان چند اختلافات میں سے ایک ہے۔
دوسری جانب، برطانیہ کے وزیر اعظم نے کہا کہ غزہ میں جاری جنگ ختم کرنے کے لیے اسرائیل اور فلسطین کے درمیان امن کا روڈ میپ
ضروری ہے۔ اس پر ان کا اور ٹرمپ کا موقف ایک جیسا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم اس بات پر پوری طرح متفق ہیں کہ امن اور ایک واضح روڈ میپ کی ضرورت ہے۔ کیونکہ غزہ کی صورتحال برداشت نہیں کی جا سکتی۔
ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری سے متعلق ایک بڑا معاہدہ بھی کیا۔
معاہدے کے بارے میں حکام کا کہنا ہے کہ یہ معاہدہ ہزاروں نوکریاں پیدا کرے گا۔ یہ مصنوعی ذہانت، کوانٹم کمپیوٹنگ اور ایٹمی توانائی کے شعبوں میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری لائے گا۔
یہ ملاقات دونوں رہنماؤں کے درمیان اتفاق اور اختلاف دونوں کو نمایاں کرتی ہے۔ امیگریشن پر ٹرمپ کا مشورہ کہ فوج استعمال کریں، ان کی اپنی پالیسیوں کا عکس ہے، جہاں انہوں نے امریکہ میں میکسیکو کی سرحد پر دیوار بنانے اور سخت اقدامات کیے تھے۔ سٹارمر نے اسے مسترد کرتے ہوئے فرانس کے ساتھ موجودہ ایک آئیں، ایک جائیں معاہدے پر زور دیا، جو UK کی موجودہ حکومت کی ترجیحات کو ظاہر کرتا ہے، یعنی قانونی راستوں پر توجہ اور انسانی حقوق کا احترام۔ یہ اختلاف UK میں سیاسی تناؤ کو بڑھا سکتا ہے، کیونکہ سٹارمر کی حکومت پہلے ہی دائیں بازو کی تنقید کا سامنا کر رہی ہے کہ امیگریشن پر نرم ہے۔
فلسطین اور غزہ پر، ٹرمپ کا فلسطین کو ریاست تسلیم نہ کرنے کا موقف ان کی اسرائیل نواز پالیسی سے مطابقت رکھتا ہے، جبکہ سٹارمر کی حکومت فلسطین کو تسلیم کرنے کی تیاری کر رہی ہے، جو 19 ستمبر 2025 کو UN میں ممکن ہے۔ تاہم، غزہ میں جنگ ختم کرنے اور امن روڈ میپ پر اتفاق ایک مثبت پہلو ہے، جو مشرق وسطیٰ میں ممکنہ تعاون کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ یہ UK کی خارجہ پالیسی میں شفٹ کو دکھاتا ہے، جہاں سٹارمر ٹرمپ کی طرح اسرائیل کی حمایت کرتے ہیں مگر فلسطینی حقوق پر زیادہ کھلے ہیں۔ غزہ کی ناقابل برداشت صورتحال کا ذکر انسانی بحران کو اجاگر کرتا ہے، جو 2023 سے جاری ہے۔
ٹیکنالوجی معاہدہ سب سے بڑی کامیابی ہے، جو ٹیکنالوجی پراسپیریٹی ڈیل کے نام سے $350 بلین کی سرمایہ کاری لائے گا۔ یہ AI، کوانٹم کمپیوٹنگ، اور نیوکلیئر انرجی میں تعاون پر مبنی ہے، جو ہزاروں نوکریاں پیدا کرے گا (UK میں 15,000 اور US میں 2,500 تک)۔ یہ معاہدہ دونوں ملکوں کے اقتصادی تعلقات کو مضبوط کرے گا، خاص طور پر بریگزٹ کے بعد UK کی سرمایہ کاری کی ضرورت اور ٹرمپ کی امریکہ فرسٹ پالیسی کے باوجود۔ یہ مستقبل کی ٹیکنالوجیز میں مغربی اتحاد کو چین کی مقابلے میں مضبوط بنائے گا، مگر ماحولیاتی اور اخلاقی مسائل جیسے AI کی ریگولیشن اور نیوکلیئر سیفٹی پر سوالات اٹھا سکتا ہے۔ مجموعی طور پر، یہ ملاقات ٹرمپ کی سخت لائن اور سٹارمر کی عملی اپروچ کے درمیان توازن دکھاتی ہے، جو دونوں ملکوں کے تعلقات کو مستحکم کر سکتی ہے۔





















