برطانیہ، کینیڈا اور آسٹریلیا کے بعد اب پرتگال نے بھی فلسطین کو ریاست تسلیم کرلیا

اسرائیل نے شرائط پوری نہ کیں، جو برطانیہ کو یہ قدم اٹھانے پر مجبور کرتا ہے۔کیئر اسٹارمر

مشرق وسطیٰ کی پرامن مستقبل کی امیدوں کو نئی زندگی ملی ہے، جہاں برطانیہ، کینیڈا، آسٹریلیا اور اب پرتگال نے فلسطین کو بطور ریاست تسلیم کرنے کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے۔ یہ قدم، جو غزہ کی جاری انسانی المیے اور اسرائیلی جارحیت کے تناظر میں اٹھایا گیا، دو ریاستی حل کی طرف ایک اہم سنگ میل ہے۔ برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے اسے فلسطینیوں اور اسرائیلیوں دونوں کے لیے امن کی امید کی بحالی قرار دیا، جبکہ پرتگال نے اسے اپنی خارجہ پالیسی کی بنیادی سوچ کا حصہ بتایا۔ یہ اعلانات اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس سے قبل سامنے آئے، جہاں مزید ممالک کی جانب سے فلسطین کی تسلیم کی توقع ہے، جو اسرائیل اور اس کے اتحادی امریکہ کے لیے ایک سفارتی دھچکا ہے۔ یہ پیش رفت نہ صرف 140 سے زائد ممالک کی صف میں ان مغربی طاقتوں کا شمول ہے بلکہ غزہ میں جنگ بندی کی فوری ضرورت پر بھی زور دیتی ہے، جو خطے کے استحکام کی بنیاد بن سکتی ہے۔

برطانیہ کا اعلان

برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر ایک ویڈیو بیان جاری کرتے ہوئے فلسطین کو بطور ریاست تسلیم کرنے کا اعلان کیا، جسے فلسطینیوں اور اسرائیلیوں دونوں کے لیے امن کی امید کی دوبارہ اجاگر کرنے کا قدم قرار دیا۔ اسٹارمر کا کہنا تھا کہ یہ فیصلہ غزہ کی بدترین صورتحال، حماس کے ساتھ جنگ بندی کی ناکامی، امداد کی رکاوٹ، مغربی کنارے پر قبضے کی دھمکیوں، اور دو ریاستی حل کی طرف اقدامات کی عدم موجودگی کی وجہ سے اٹھایا گیا ہے۔ جولائی میں دیے گئے الٹی میٹم کی تکمیل کرتے ہوئے، انہوں نے کہا کہ اسرائیل نے شرائط پوری نہ کیں، جو برطانیہ کو یہ قدم اٹھانے پر مجبور کرتا ہے۔ یہ اعلان دیگر 140 سے زائد ممالک کی پالیسی سے مطابقت رکھتا ہے، مگر اسرائیل اور امریکہ کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے، جو فلسطینی ریاست کی مخالفت کرتے رہے ہیں۔

لندن میں فلسطینی مشن کے سربراہ حسام زملط نے برطانیہ کے فیصلے کو خوش آمدید کہتے ہوئے کہا کہ یہ طویل انتظار کا نتیجہ ہے، جو نہ صرف فلسطین بلکہ برطانیہ کی اپنی تاریخی ذمہ داریوں کی تکمیل ہے۔ زملط نے اسے انصاف، امن، اور تاریخی غلطیوں کی ناقابلِ تنسیخ قرار دیا، جو برطانیہ کی 1917 کی بالفور ڈیکلریشن کی تلخ یادوں کو مدنظر رکھتا ہے۔

کینیڈا اور آسٹریلیا کی شمولیت

کینیڈا اور آسٹریلیا نے بھی فلسطین کی تسلیم کا اعلان کیا، جو ان مغربی ممالک کی مشترکہ سفارتی حکمت عملی کا حصہ ہے۔ کینیڈا کے وزیراعظم نے اسے "فلسطین اور اسرائیل کے درمیان پرامن مستقبل کی تعمیر” قرار دیا، جبکہ آسٹریلیا نے اسے دو ریاستی حل کی طرف نئی لمحہ کی بنیاد بتایا۔ یہ اعلانات نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس سے قبل سامنے آئے، جہاں مزید ممالک کی جانب سے فلسطین کی تسلیم کی توقع ہے۔ یہ قدم اسرائیل کی تنہائی کو بڑھاتے ہیں، جو غزہ میں جاری فوجی کارروائیوں کی وجہ سے عالمی دباؤ کا شکار ہے۔

پرتگال کا فیصلہ

پرتگال نے بھی فلسطین کو بطور ریاست تسلیم کرنے کا اعلان کیا، جو اس کی خارجہ پالیسی کی مستقل اور بنیادی سوچ کا حصہ ہے۔ نیویارک میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے پرتگالی وزیر خارجہ پاؤلو رینجل نے کہا کہ دو ریاستی حل ہی خطے میں پائیدار اور مستقل امن کا واحد راستہ ہے۔ رینجل نے تسلیم کیا کہ فلسطینی ریاست کی تسلیم غزہ کے انسانی بحران کو ختم نہ کرے گی، مگر انہوں نے فوری جنگ بندی کی ناگزیر ضرورت پر زور دیا۔ یہ اعلان، جو دیگر یورپی ممالک کی طرح ہے، اسرائیل کی مغربی کنارے پر آبادکاری اور غزہ میں تباہی کی مذمت کرتا ہے۔

عالمی ردعمل

اس اعلانات نے اسرائیل اور امریکہ کو شدید ناراضی کا سامنا کرنا پڑا ہے، جو فلسطینی ریاست کی مخالفت کرتے رہے ہیں۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے اسے "دہشت گردی کو انعام” قرار دیا، جبکہ امریکی صدر نے اسے "غیر ذمہ دارانہ” کہا۔ تاہم، فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس نے اسے "امن کی طرف اہم قدم” بتایا، جو دو ریاستی حل کی بنیاد ہے۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں مزید ممالک—جیسے فرانس، بیلجیم، اور لکسمبرگ—کی جانب سے فلسطین کی تسلیم کی توقع ہے، جو عالمی برادری کی طرف سے اسرائیل پر دباؤ بڑھائے گی۔

برطانیہ، کینیڈا، آسٹریلیا، اور پرتگال کی فلسطین کی تسلیم ایک سفارتی موڑ ہے، جو غزہ کی انسانی المیے اور اسرائیلی جارحیت کے تناظر میں دو ریاستی حل کی طرف نئی لمحہ کی بنیاد رکھتا ہے۔ جولائی کے الٹی میٹم کی تکمیل، جو اسرائیل کی شرائط کی ناکامی پر مبنی ہے، مغربی ممالک کی پالیسی میں تبدیلی کو ظاہر کرتی ہے، جو 140 سے زائد ممالک کی صف میں شمول ہے۔ حسام زملط کی تعریف اور پاؤلو رینجل کا زور فلسطینی ریاست کی تسلیم کو انصاف کی طرف قدم بتاتا ہے، مگر غزہ کی جنگ بندی کی ناگزیر ضرورت کو اجاگر کرتا ہے۔

اسرائیل اور امریکہ کی ناراضی، جو اسے "دہشت گردی کو انعامقرار دیتے ہیں، سفارتی تناؤ بڑھا سکتی ہے، مگر یہ قدم فلسطینی خودمختاری کی طرف دباؤ ہے۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں مزید تسلیم کی توقع عالمی برادری کی متحد آواز کو مضبوط کرے گی، جو اسرائیل کو مذاکرات کی طرف لے جائے گی۔ مجموعی طور پر، یہ پیش رفت امن کی امید ہے، مگر کامیابی جنگ بندی اور دو ریاستی حل پر منحصر ہےایک ایسا موڑ جو فلسطینی جدوجہد کو عالمی حمایت دے سکتا ہے، اگر عملی اقدامات اٹھائے جائیں

متعلقہ خبریں

مقبول ترین