امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ارب پتی کاروباری شخصیت ایلون مسک کے درمیان کئی ماہ کی تلخی اور عوامی جھگڑے کے بعد ایک غیر متوقع اور خوشگوار ملاقات ہوئی ہے۔ یہ ملاقات اسی ہفتے، یعنی 21 ستمبر 2025 کو، ایریزونا کے گلنڈیل میں واقع اسٹیٹ فارم اسٹیڈیم میں منعقدہ تعزیتی تقریب کے موقع پر ہوئی، جہاں دونوں نے قدامت پسند رہنما اور ٹرننگ پوائنٹ یو ایس اے کے بانی چارلی کرک کی یاد میں جمع تھے۔ یہ تقریب چارلی کرک کی 10 ستمبر 2025 کو یوٹاہ یونیورسٹی کیمپس پر ہلاکت کے بعد منعقد کی گئی تھی، جسے ایک قتل قرار دیا گیا ہے۔ دونوں رہنماؤں کی یہ ملاقات نہ صرف ان کی سابقہ دشمنی کو بھلانے کی نشاندہی کرتی ہے بلکہ امریکی قدامت پسند حلقوں میں ایک نئی امید کی کرن بھی جگاتی ہے۔
پس منظر
ایلون مسک، جو ٹرمپ کی دوسری مدت صدارت کے ابتدائی مہینوں میں ڈیپارٹمنٹ آف گورنمنٹ ایفیکشنسی (DOGE) کے سربراہ کے طور پر کام کر چکے تھے، نے صدر ٹرمپ کی انتخابی مہم کو بھی زبردست مالی اور تکنیکی مدد فراہم کی تھی۔ تاہم، چند ماہ قبل، ٹرمپ کی متنازعہ "بگ، بیوٹیفل بل” (ایک بڑے پیمانے پر سرکاری اخراجات کی پالیسی) پر اختلافات نے دونوں کے درمیان شدید عوامی جھگڑا چھڑا دیا۔ مسک نے اس بل کو "غیر موثر اور فضول” قرار دیتے ہوئے ٹرمپ کی حکومت سے استعفیٰ دے دیا اور حال ہی میں ایک نئی سیاسی جماعت "امریکا فرسٹ پارٹی” کا اعلان کیا، جو قدامت پسند اقدار کو مزید شدت سے آگے بڑھانے کا دعویٰ کرتی ہے۔
اس جھگڑے کے نتیجے میں دونوں کی عوامی اور ذاتی تعلقات منجمد ہو گئے تھے، اور میڈیا نے اسے "حلیفوں کا بریک اپ” قرار دیا۔ ٹرمپ نے مسک کو "غدار” جبکہ مسک نے ٹرمپ کو "قدیم سوچ کا حامل” کہہ کر تنقید کی تھی۔ تاہم، چارلی کرک کی موت نے ایک ایسا موقع فراہم کیا جہاں دونوں کو ایک جگہ اکٹھا ہونے کا اتفاق ہوا۔ کرک، جو ٹرمپ کے قریبی ساتھی اور نوجوان قدامت پسندوں کے رہنما تھے، نے زندگی بھر دونوں کی تعریف کی تھی اور بار بار کہا تھا کہ "ٹرمپ اور مسک کی شراکت مستقبل کی کلید ہے
ملاقات کا تفصیلی منظر
تعزیتی تقریب اسٹیٹ فارم اسٹیڈیم میں ہزاروں کی تعداد میں شرکاء کی موجودگی میں منعقد ہوئی، جہاں سیکیورٹی کی وجہ سے کچھ سیٹیں روپوش تھیں مگر باقی تمام بھری پڑی تھیں۔ تقریب کی تصاویر اور ویڈیوز سے پتہ چلتا ہے کہ صدر ٹرمپ، نائب صدر جے ڈی وینس، وزیر خارجہ مارکو روبیو، اور دیگر قدامت پسند رہنما جیسے ٹکر کارلسن اور پیٹ ہیگسیتھ نے خطاب کیا۔ ایلون مسک بھی تقریب میں موجود تھے اور انہوں نے ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر ایک ویڈیو شیئر کی جس میں اسٹیڈیم کی بھری ہوئی سیٹیں دکھائی گئیں، اور کیپشن میں لکھا: "اس بڑے اسٹیڈیم کی ہر سیٹ، جو سیکیورٹی کی وجہ سے روپوش نہ ہو، چھت تک بھری ہوئی ہے۔ یہاں ہونے کا شرف محسوس کر رہا ہوں۔ سب چارلی کرک کے لیے۔
اس دوران، ٹرمپ اور مسک کی ملاقات ایک نجی باکس میں ہوئی جہاں دونوں بلٹ پروف شیشے کے پیچھے کھڑے ہوئے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق، مسک نے ٹرمپ کی طرف قدم بڑھایا، دونوں نے مسکراہٹوں کا تبادلہ کیا، اور گرمجوشی سے ہاتھ ملایا۔ یہ لمحہ کئی فوٹوگرافرز نے کیپچر کیا، جو تیزی سے سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئے۔ مسک نے بعد میں ایکس پر ایک تصویر شیئر کی جس میں دونوں ایک ساتھ بیٹھے نظر آ رہے تھے، اور کیپشن میں لکھا: "یہ چارلی کے لیے ہے”۔ یہ کیپشن نہ صرف کرک کی یاد کو خراج عقیدت پیش کرتا ہے بلکہ دونوں کی ملاقات کو ایک جذباتی اور مشترکہ وجہ سے جوڑتا ہے۔
صدر ٹرمپ نے تقریب کے بعد ایئر فورس ون میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا: "ایلون آئے اور ہیلو کہا، یہ اچھا تھا۔ ہمارا رشتہ بہت اچھا رہا ہے، اور یہ خوشی کی بات ہے کہ وہ آئے۔” مسک نے بھی ایک ٹویٹ میں کرک کی موت کو "ڈارک کی طرف سے لائٹ دکھانے والے پر حملہ” قرار دیا، جو ان کی قدامت پسند جڑوں کی عکاسی کرتا ہے۔
چارلی کرک کی یاد میں تقریب کی اہمیت
چارلی کرک، جو صرف 31 سال کی عمر میں قتل ہوئے، امریکی قدامت پسند تحریک کے ایک ابھرتے ستارے تھے۔ ان کی تنظیم ٹرننگ پوائنٹ یو ایس اے نے نوجوانوں میں قدامت پسندی کو فروغ دیا، اور کرک ٹرمپ کی 2024 کی انتخابی مہم کے اہم حامی تھے۔ ان کی موت نے پورے قدامت پسند کیمپ کو ہلا کر رکھ دیا، اور یہ تقریب نہ صرف ان کی یاد تازہ کرنے بلکہ ان کی "لائٹ” کو آگے بڑھانے کا عہد بھی تھی۔ ہزاروں شرکاء، جن میں بلیک کمیونٹی کے رہنما بھی شامل تھے، نے کرک کی تعریف کی کہ وہ "نسل پرستی کی جھوٹی الزامات کے باوجود سب کے لیے کھڑے رہے”۔
یہ ملاقات امریکی سیاست کے منظر نامے میں ایک مثبت موڑ کی نشاندہی کرتی ہے، جو تلخیوں کے باوجود اتحاد کی طاقت کو اجاگر کرتی ہے۔ سب سے پہلے، یہ چارلی کرک کی وراثت کی طاقت کو ظاہر کرتی ہے کہ ایک شخص کی موت کس طرح تقسیم شدہ حلقوں کو اکٹھا کر سکتی ہے۔ کرک کی زندگی نے ٹرمپ اور مسک جیسے طاقتور شخصیات کو ایک پلیٹ فارم دیا جہاں وہ اپنے اختلافات کو ایک طرف رکھ سکتے ہیں، جو قدامت پسند تحریک کی لچک اور جذباتی گہرائی کی عکاسی کرتا ہے۔
دوسرا، یہ واقعہ ٹرمپ-مسک اتحاد کی ممکنہ بحالی کی امید دلاتا ہے۔ مسک کی "امریکا فرسٹ پارٹی” کا اعلان ایک الگ راستہ لگتا تھا، مگر یہ ملاقات اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ دونوں اب بھی مشترکہ اقدار جیسے سرکاری اخراجات میں کمی، ٹیکنالوجی کی ترقی، اور قدامت پسند پالیسیاں پر اتفاق رکھتے ہیں۔ ٹرمپ کی DOGE کی ناکامی کے بعد مسک کی واپسی امریکی معیشت اور خلائی پروگراموں (جیسے اسپیس ایکس) کے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکتی ہے، جہاں مسک کی مہارت ٹرمپ کی پالیسیوں کو تقویت دے سکتی ہے۔
تیسرا، سوشل میڈیا کی طاقت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ مسک کی ایکس پوسٹس نے لاکھوں لائکس اور شیئرز حاصل کیے، جو عوامی جذبات کو متحد کرنے میں مددگار ثابت ہوئیں۔ یہ نہ صرف قدامت پسند ووٹرز کو متحرک کرتا ہے بلکہ نوجوان نسل کو بھی پیغام دیتا ہے کہ اختلافات کے باوجود تعاون ممکن ہے۔
آخر میں، یہ ملاقات امریکی جمہوریت کی مثبت تصویر پیش کرتی ہے جہاں ذاتی دشمنیاں قومی مفادات کے آگے پسِ پشت ہو جاتی ہیں۔ چارلی کرک کی "لائٹ” واقعی زندہ رہ سکتی ہے اگر ایسے اتحاد مستقل ہوں، جو نہ صرف سیاسی بلکہ سماجی سطح پر بھی استحکام لائے گا۔ یہ واقعہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ فطرت انسانی رشتوں کی بحالی کی حوصلہ افزائی کرتی ہے، اور مستقبل میں ٹرمپ-مسک شراکت امریکی ترقی کی نئی راہ ہموار کر سکتی ہے۔





















