سوشل میڈیا پر وزیر دفاع خواجہ آصف کی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں تقریر کے دوران کی ایک تصویر وائرل ہو رہی ہیں جس میں ان کے پیچھے ایک خاتون کو بھی بیٹھے دیکھا جا سکتا ہے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں متعلقہ خاتون کی پاکستانی وفد کے ساتھ موجودگی اور پھر خواجہ آصف کے پیچھے براجمان ہونے سے متعلق سوشل میڈیا پر شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا۔ وزیر دفاع خواجہ آصف نے سلامتی کونسل میں تقریر کے دوران اپنے پیچھے بیٹھی خاتون کے حوالے سے سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ یہ خاتون کون ہیں اور ان کے پیچھے کیسے بیٹھن، یہ وزارت خارجہ کی ذمہ داری ہے اس لیے مناسب ہے کہ اس معاملے کا جواب وہی دیں۔ سوشل میڈیا پر برپا ہونے والے طوفان پر خواجہ آصف بھی خاموش نہ رہے اور ایکس اکاؤنٹ پر ایک تفصیلی پوسٹ لکھ کر وائرل ہونے والی تصویر سے متعلق وضاحت پیش کی۔ دوسری جانب، وزارت خارجہ نے خواجہ آصف کی ٹوئٹ کا جواب دیتے ہوئے اس معاملے پر اپنی وضاحت پیش کی، جس نے اس تنازع کو مزید واضح کرنے کی کوشش کی ہے۔
پس منظر
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا یہ اجلاس 24 ستمبر 2025 کو منعقد ہوا، جہاں موضوع "آرٹیفیشل انٹیلی جنس اور بین الاقوامی امن و سلامتی: پیچیدگیوں، کثیرالجہتی اثرات اور ذمہ دارانہ استعمال” پر بحث کی گئی۔ وزیر دفاع خواجہ آصف نے وزیراعظم کی عدم موجودگی کی وجہ سے یہ تقریر کی، جس میں انہوں نے AI کی فوجی استعمال کے خطرات، تنازعات کی شدت، اور سفارتی اختیارات کی کمی پر زور دیا۔ تقریر کے دوران خواجہ آصف کی بعض الفاظ کی غلط ادائیگیاں بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہوئیں، جیسے "risk” کو "riks” اور "first time” کو "sirst time” کہنا، مگر اصل تنازع ان کی تقریر کے دوران ان کے پیچھے بیٹھی خاتون کی شناخت اور موجودگی پر مرکوز رہا۔
یہ تصویر، جو نیویارک میں سلامتی کونسل کے ہائی لیول اوپن ڈیبیٹ کے دوران لی گئی، تیزی سے سوشل میڈیا پر پھیل گئی اور صارفین نے اسے پاکستانی وفد کی ساخت، سیکیورٹی، اور سفارتی پروٹوکول پر سوالات اٹھائے۔ خاص طور پر، خاتون کی موجودگی کو بعض صارفین نے "غیر رسمی” اور "مشکوک” قرار دیا، جس نے قومی سطح پر بحث چھیڑ دی۔
خواجہ آصف کی وضاحت
خواجہ آصف نے اپنی پوسٹ میں لکھا کہ وزیراعظم مصروف تھے اس لیے ان کی جگہ میں نے سلامتی کونسل میں یہ تقریر کی تھی، یہ خاتون یا کس نے میرے پیچھے بیٹھنا ہے دفتر خارجہ کی صوابدید و اختیار تھا اور ہے۔ انہوں نے فلسطین کے مسئلے کے ساتھ میرا 60 سال سے جذباتی لگاؤ اور کمٹمنٹ ہے، جہاں ابو ظبی بینک میں ملازمت کے دوران فلسطینی دوست اور کولیگ بنے اور آج بھی ان کے ساتھ رابطہ ہے۔ غزہ سے متعلق میرے خیالات واضح ہیں اور میں ان کا برملا اظہار کرتا ہوں۔
وزیر دفاع نے لکھا کہ اسرائیل اور صیہونیت پر میرے خیالات نفرت کے سوا اور کچھ نہیں، یہ خاتون کون ہیں اور وفد میں ہمارے ساتھ کیوں ہیں اور ان کو میرے پیچھے کیوں بٹھایا گیا، ان سوالوں کا جواب دفتر خارجہ ہی دے سکتا ہے۔ خواجہ آصف نے مزید لکھا کہ میرے لیے مناسب نہیں کہ ان کی (دفتر خارجہ) جانب سے جواب دوں، میرا ٹوئٹر اکاؤنٹ کی ہسٹری اس بات کی شہادت ہے کہ میرا فلسطین کے ساتھ رشتہ ایمان کا حصہ ہے۔
اس وضاحت میں خواجہ آصف نے نہ صرف خاتون کی شناخت سے براء دست ہٹنے کی کوشش کی بلکہ اپنے فلسطینی مؤقف کو بھی دہرایا، جو ان کی تقریر کا مرکزی حصہ بھی تھا۔ ان کی پوسٹ نے ہزاروں لائکس اور ری ٹویٹس حاصل کیے، مگر تنازع کم کرنے کی بجائے اسے مزید ہوا دی۔
وزارت خارجہ کی وضاحت
دوسری جانب وزارت خارجہ نے خواجہ آصف کی ٹوئٹ کا جواب دیتے ہوئے لکھا کہ سلامتی کونسل میں وزیر دفاع کی تقریر کے دوران ان کے پیچھے بیٹھی خاتون کے حوالے سے مختلف چیزیں سامنے آ رہی ہیں۔ وزارت خارجہ نے لکھا کہ یہ واضح ہے کہ متعلقہ شخصیت اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 80 ویں اجلاس کے لیے پاکستان کے اس آفیشل وفد کا حصہ نہیں ہے جسے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ نے منظور کیا اور نا ہی وزیر دفاع کی تقریر کے دوران متعلقہ خاتون کو وزیر دفاع کے پیچھے بیٹھنے کی منظوری وزیر دفاع نے دی تھی۔
وزارت خارجہ کی اس وضاحت میں واضح کیا گیا کہ خاتون، جن کا نام شاما جونیجو بتایا جا رہا ہے، نہ تو آفیشل وفد کی رکن تھیں اور نہ ہی ان کی نشست کی اجازت دی گئی تھی۔ یہ بیان 27 ستمبر 2025 کو جاری کیا گیا، جو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والے طوفان کو کم کرنے کی کوشش تھی۔ وزارت نے مزید کہا کہ یہ معاملہ سفارتی پروٹوکول کی خلاف ورزی کا نہیں بلکہ ایک انتظامی غلطی کا ہے، اور اس کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔
سوشل میڈیا کا ردعمل
سوشل میڈیا پر یہ تصویر ہزاروں شیئرز اور کمنٹس حاصل کر چکی ہے، جہاں بعض صارفین نے اسے "سیکیورٹی رسک” قرار دیا جبکہ دیگر نے خواجہ آصف کی وضاحت کو "بہانہ” کہا۔ تاہم، کچھ نے فلسطین پر ان کے مؤقف کی حمایت کی۔ یہ تنازع پاکستان کی سفارتی نمائندگی اور وفد کی تشکیل پر نئی بحث چھیڑ رہا ہے، خاص طور پر جب اقوام متحدہ جیسے عالمی فورمز پر قومی وقار کا معاملہ ہو۔
یہ تنازع، اگرچہ ابتدائی طور پر منفی لگتا ہے، مگر پاکستان کی سفارتی اور سیاسی نظام کے لیے ایک مثبت موقع فراہم کرتا ہے جو شفافیت، احتساب، اور بہتری کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ سب سے پہلے، خواجہ آصف کی فوری وضاحت اور وزارت خارجہ کا بروقت جواب اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ حکومت سوشل میڈیا کی تیز رفتار تنقید کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہے۔ یہ اقدام عوامی اعتماد کو بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگا، کیونکہ ماضی میں ایسے معاملات کو چھپایا جاتا رہا ہے، مگر یہاں کھلے پن سے معاملہ حل کرنے کی کوشش نظر آ رہی ہے۔ شاما جونیجو کی غیر رسمی موجودگی کو تسلیم کرنا اور تحقیقات کا اعلان ایک اچھا قدم ہے، جو مستقبل میں وفد کی تشکیل میں مزید احتیاط کو یقینی بنائے گا۔
دوسرا، یہ واقعہ پاکستان کی سفارتی ڈپلومیسی کو مضبوط بنانے کا موقع دیتا ہے۔ سلامتی کونسل جیسے اہم فورم پر AI اور امن جیسے عالمی مسائل پر پاکستان کی آواز کو اجاگر کرنے کے باوجود، یہ تنازع ہمیں سکھاتا ہے کہ پروٹوکول کی خلاف ورزیاں قومی ساکھ کو متاثر کر سکتی ہیں۔ مگر خواجہ آصف کا فلسطین پر جذباتی اور واضح مؤقف، جو ان کی 60 سالہ کمٹمنٹ کی عکاسی کرتا ہے، اس تنازع کو ایک مثبت زاویے سے جوڑتا ہے۔ یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ پاکستانی رہنما عالمی سطح پر فلسطین جیسے مسائل پر آواز اٹھاتے ہیں، جو قومی فخر کا باعث ہے اور نوجوان نسل کو متاثر کرتا ہے۔
تیسرا، سوشل میڈیا کا کردار یہاں مثبت ہے کیونکہ اس نے ایک ممکنہ غلطی کو جلد سامنے لایا، جس سے اصلاح کی گنجائش ملی۔ یہ پلیٹ فارم اب صرف تنقید کا ذریعہ نہیں بلکہ احتساب کا آلہ بن چکا ہے، جو حکومت کو جواب دہ بناتا ہے۔ وزارت خارجہ کی وضاحت سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ کی سطح پر وفد کی منظوری ایک منظم عمل ہے، جو اداروں کی باہمی ہم آہنگی کو ظاہر کرتا ہے۔
آخر میں، یہ تنازع پاکستان کی سیاسی پختگی کی نشاندہی کرتا ہے جہاں رہنما اپنے مؤقف کو واضح کرتے ہیں اور ادارے ایک دوسرے کی حمایت کرتے ہیں۔ خواجہ آصف کی ایکس ہسٹری، جو فلسطین پر ان کی مسلسل حمایت کی گواہی دیتی ہے، اس بات کی یاد دہانی کراتی ہے کہ ذاتی کمٹمنٹس قومی مفادات سے جڑی ہوتی ہیں۔ یہ واقعہ نہ صرف ایک سبق ہے بلکہ پاکستان کی عالمی نمائندگی کو مزید موثر بنانے کی ترغیب بھی، جو مستقبل میں سفارتی کامیابیوں کی بنیاد رکھے گا۔





















