اسلام آباد/واشنگٹن:آج ایک تاریخی موڑ پر پہنچنے والے فلسطین-اسرائیل تنازعے میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مجوزہ 20 نکاتی امن منصوبے نے نئی امید کی کرن جگائی ہے۔ پاکستان، اردن، متحدہ عرب امارات، انڈونیشیا، ترکی، سعودی عرب، قطر اور مصر سمیت کئی مسلم ممالک نے اس منصوبے کی مکمل حمایت کا اعلان کر دیا ہے، جسے ایک جامع اور متوازن حل قرار دیا جا رہا ہے۔ یہ منصوبہ غزہ میں جاری جنگ بندی کو مستحکم کرنے، انسانی امداد کی بلا روک ٹوک ترسیل کو یقینی بنانے، جبری بے دخلی کی روک تھام اور خطے میں پائیدار امن عمل کو فروغ دینے پر مبنی ہے۔
مشترکہ اعلامیہ، جو آج جاری کیا گیا، میں مسلم ممالک نے صدر ٹرمپ کی اس یقین دہانی کا خاص طور پر خیرمقدم کیا ہے کہ مغربی کنارے (ویسٹ بینک) کے انضمام کی کسی بھی صورت میں اجازت نہیں دی جائے گی، اور فلسطینی عوام کی جان و مال اور حقوق کے تحفظ کو ہر حال میں یقینی بنایا جائے گا۔ یہ بیان مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ کے اجلاس سے نکلا، جس میں انہوں نے زور دیا کہ یہ منصوبہ نہ صرف فوری بحران کا حل ہے بلکہ طویل مدتی استحکام کی بنیاد بھی رکھتا ہے۔
اعلامیے کی ایک اہم شق میں واضح کیا گیا ہے کہ مسلم ممالک امریکا، اسرائیل اور دیگر عالمی فریقین کے ساتھ مثبت اور تعمیری بات چیت کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں، تاکہ اس معاہدے کو حتمی اور قابل عمل شکل دی جا سکے۔ مسلم ممالک کے ترجمانوں کا کہنا ہے کہ یہ بات چیت غزہ کی تعمیر نو، انسانی بحران کا خاتمہ اور فلسطینی ریاست کے قیام جیسے کلیدی مسائل پر مرکوز ہوگی، اور اس میں تمام فریقین کی شمولیت کو یقینی بنایا جائے گا۔
صدر ٹرمپ کا یہ 20 نکاتی منصوبہ، جو گزشتہ ہفتے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سائیڈ لائنز پر عرب اور مسلم رہنماؤں کے ساتھ شیئر کیا گیا تھا، انتہائی تفصیلی اور عملی اقدامات پر مشتمل ہے۔ اس میں غزہ کی مکمل تعمیر نو کا واضح خاکہ پیش کیا گیا ہے، جس میں پانی، بجلی، سیوریج سسٹم اور ہسپتالوں کی بحالی شامل ہے۔ انسانی امداد کی فراہمی کو ترجیحی بنیادوں پر رکھا گیا ہے، جس میں رفاہ کراسنگ کو دونوں سمتوں سے کھولنے اور امداد کی بلا تعطل ترسیل کے لیے نئی میکانزم کا اعلان کیا گیا ہے۔ مزید برآں، فلسطینی قیدیوں کی رہائی، اسرائیلی افواج کا غزہ سے مکمل انخلا، اور حماس کے ارکان کو امن کی یقین دہانی پر معافی دینے جیسے اقدامات اس منصوبے کی روح کو اجاگر کرتے ہیں۔
منصوبے کا مرکزی نقطہ دو ریاستی حل پر مبنی ایک آزاد فلسطینی ریاست کا قیام ہے، جس میں غزہ اور ویسٹ بینک کو مشرقی یروشلم سمیت متحد کیا جائے گا۔ اس کے لیے ایک عارضی ٹرانزیشنل گورننس کا قیام تجویز کیا گیا ہے، جو فلسطینی ٹیکنوکریٹس اور بین الاقوامی ماہرین پر مشتمل ہوگا، اور اس کی نگرانی ایک نئے "بوڈ آف پیس” کے ذریعے ہوگی جس کی سربراہی امریکی صدر ٹرمپ خود کریں گے۔ سابق برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیئر سمیت دیگر عالمی رہنما اس بورڈ میں شامل ہوں گے۔ منصوبہ حماس کی عدم شمولیت کو یقینی بناتے ہوئے، فلسطینی اتھارٹی (پی اے) کو مرکزی کردار دیتا ہے، اور فلسطینیوں کی بے دخلی کی روک تھام کے لیے سخت ضمانتیں پیش کرتا ہے۔
مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ نے اپنے مشترکہ بیان میں زور دیا کہ یہ تمام اقدامات بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کے قراردادوں کے مکمل مطابق ہیں، اور یہ خطے میں پائیدار امن، سلامتی اور استحکام کے لیے ناگزیر ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ غزہ میں ہلاکتوں کی تعداد 66 ہزار سے تجاوز کر چکی ہے، اور یہ منصوبہ نہ صرف فوری جنگ بندی لائے گا بلکہ فلسطینی عوام کی معاشی اور سماجی بحالی کی راہ ہموار کرے گا۔ ایک اعلیٰ پاکستانی سفارتی ذرائع نے نام چھپانے کی شرط پر بتایا کہ "یہ منصوبہ مسلم دنیا کی مشترکہ خواہشات کا آئینہ ہے، اور ہم اسے نافذ کرنے کے لیے ہر ممکن تعاون کریں گے۔”
اس منصوبے کی منظوری کے بعد صدر ٹرمپ اور اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے وائٹ ہاؤس میں مشترکہ پریس کانفرنس کی، جہاں ٹرمپ نے اسے "تاریخی امن کا دن” قرار دیا۔ نیتن یاہو نے بھی اس کی حمایت کی، مگر خبردار کیا کہ اگر حماس اسے مسترد کرتا ہے تو اسرائیل "کام مکمل کرنے” کے لیے امریکی حمایت حاصل کرے گا۔ فلسطینی اتھارٹی نے بھی منصوبے کا خیرمقدم کیا ہے، اور حماس کی جانب سے ابھی تک کوئی سرکاری ردعمل نہیں آیا ہے۔
عالمی سطح پر یہ اعلان مسلم ممالک کی سفارتی کامیابی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جو گزشتہ ہفتے نیویارک میں منعقدہ اجلاسوں کا نتیجہ ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ منصوبہ نہ صرف غزہ کے بحران کو ختم کرے گا بلکہ مشرق وسطیٰ میں نارملائزیشن کے نئے دور کا آغاز بھی ہوگا، جس میں عرب ریاستوں اور اسرائیل کے درمیان تعلقات کو مزید مضبوط کیا جائے گا۔
ایک نئی امید کی کرن اور پائیدار امن کی بنیاد
صدر ٹرمپ کا 20 نکاتی منصوبہ فلسطین-اسرائیل تنازعے کی تاریخ میں ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے، جو نہ صرف فوری انسانی بحران کا حل پیش کرتا ہے بلکہ طویل مدتی سیاسی اور معاشی استحکام کی مضبوط بنیاد رکھتا ہے۔ اس منصوبے کی سب سے نمایاں خوبی اس کا متوازن اور جامع نقطہ نظر ہے، جو فلسطینیوں کے حقوق کو مرکزی حیثیت دیتے ہوئے اسرائیلی سلامتی کے خدشات کو بھی مدنظر رکھتا ہے۔ غزہ میں 66 ہزار سے زائد ہلاکتوں اور تباہی کے بعد، یہ منصوبہ انسانی امداد کی بلا روک ٹوک ترسیل اور تعمیر نو کے وعدے کے ذریعے فلسطینی عوام کو فوری ریلیف فراہم کرتا ہے، جو نہ صرف جانی نقصانات کو روکے گا بلکہ معاشی بحالی کی راہ ہموار کرے گا۔ مثال کے طور پر، انفراسٹرکچر کی بحالی اور روبڑ ہٹانے کے لیے درکار سامان کی ترسیل، غزہ کو ایک زندہ اور فعال علاقے میں تبدیل کرنے کی طرف پہلا قدم ہے۔
مسلم ممالک کی حمایت اس منصوبے کی کامیابی کی ضمانت ہے، کیونکہ یہ ممالک – پاکستان سے لے کر سعودی عرب اور انڈونیشیا تک نہ صرف مالی اور سفارتی وسائل فراہم کر سکتے ہیں بلکہ علاقائی استحکام کو یقینی بنانے میں کلیدی کردار ادا کر سکتے ہیں۔ ان کی تیاری مثبت بات چیت کے لیے ایک ایسا پلیٹ فارم فراہم کرتی ہے جو پہلے کبھی نہیں دیکھا گیا، جہاں امریکا کی قیادت میں عالمی فریقین مل کر کام کریں گے۔ مغربی کنارے کے انضمام کی روک تھام اور فلسطینی تحفظ کی یقین دہانی، جو منصوبے کا بنیادی جزو ہے، فلسطینیوں میں اعتماد بحال کرے گی اور جبری بے دخلی جیسے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو روکے گی۔
دو ریاستی حل کی طرف اشارہ اس منصوبے کی سب سے مثبت جہت ہے، جو غزہ اور ویسٹ بینک کو متحد کرتے ہوئے ایک آزاد فلسطینی ریاست کی بنیاد رکھتا ہے۔ "بوڈ آف پیس” جیسا نیا میکانزم، جس کی سربراہی ٹرمپ اور ٹونی بلیئر جیسے عالمی رہنما کریں گے، شفافیت اور جوابدہی کو یقینی بنائے گا، جبکہ حماس کی عدم شمولیت فلسطینی اتھارٹی کو مرکزی حیثیت دے گی۔ یہ اقدام نہ صرف حماس کے اثر و رسوخ کو کم کرے گا بلکہ فلسطینیوں کے درمیان سیاسی اتحاد کو فروغ دے گا، جو تنازعے کی جڑیں کاٹنے کا بہترین طریقہ ہے۔
عالمی سطح پر، یہ منصوبہ مشرق وسطیٰ کی سیاست کو تبدیل کرنے کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ عرب ریاستوں کی نارملائزیشن کی طرف پیش رفت، جو ٹرمپ کی پہلی مدت میں شروع ہوئی تھی، اب فلسطینی ریاست کے قیام سے جڑ جائے گی، جس سے علاقائی معیشت کو فروغ ملے گا۔ غزہ کو "مڈل ایسٹ کی رِویئرا” بنانے کا وعدہ، اگرچہ متنازعہ لگتا ہے، تو ایک معاشی انقلاب لائے گا جو لاکھوں فلسطینیوں کو روزگار اور خوشحالی دے گا۔ مسلم ممالک کی شمولیت سے یہ منصوبہ ایک "مسلم-عرب-امریکی” شراکت داری کی شکل اختیار کر لے گا، جو عالمی سطح پر اسلاموفوبیا کو کم کرنے اور بین المذاہب مکالمے کو فروغ دے گی۔
مجموعی طور پر، یہ منصوبہ ایک مثبت موڑ ہے جو امید کی کرن جگاتا ہے۔ اگر حماس اور دیگر فریقین اسے قبول کر لیتے ہیں، تو یہ نہ صرف غزہ کی تباہی کو روکے گا بلکہ ایک نئی صدی کے امن کی بنیاد رکھے گا – ایک ایسا امن جو انصاف، تحفظ اور خوشحالی پر مبنی ہو۔ مسلم دنیا کی حمایت اس کی کامیابی کی کلید ہے، اور یہ قدم فلسطینی جدوجہد کی فتح کا آغاز ثابت ہو سکتا ہے۔





















