امریکی جنگی بحری جہاز خلیج فارس سے نکل گئے، پاسداران انقلاب کا دعویٰ

جنگ کے وقت خلیج فارس میں امریکا کے 30 سے 40 جنگی بحری جہاز موجود تھے، حسین محبی

تہران (خصوصی رپورٹ: غلام مرتضیٰ)ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ خلیج فارس میں اس وقت امریکا کا کوئی جنگی بحری جہاز موجود نہیں ہے۔ پاسدارانِ انقلاب کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل حسین محبی کے مطابق ایران کے خلاف جنگ کے بعد خطے میں امریکی بحری طاقت کی موجودگی ختم ہوگئی ہے۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق بریگیڈیئر جنرل حسین محبی نے اپنے بیان میں کہا کہ رمضان کے دوران ایران کے خلاف جنگ کے وقت خلیج فارس میں امریکا کے 30 سے 40 جنگی بحری جہاز موجود تھے، جبکہ ایران عراق جنگ کے دوران امریکا نے 100 سے زائد جنگی جہاز خطے میں تعینات کیے تھے۔

ایرانی ترجمان نے تاہم خلیج فارس میں موجود امریکی جنگی بحری جہازوں یا ان کے انخلا کے حوالے سے مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔

ایران کے جوابی اقدامات کا دعویٰ

حسین محبی نے دعویٰ کیا کہ ایران کی جانب سے کیے گئے جوابی اقدامات کے نتیجے میں مخالف قوتوں کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا اور دشمن کے لیے جنگ کو اسی شدت کے ساتھ جاری رکھنا مشکل ہوگیا۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ امریکا نے ایران کی ساؤتھ پارس گیس فیلڈ اور اسالویہ انرجی حب کو نشانہ بنایا، جس کے جواب میں ایران نے امریکا، اسرائیل اور ان کے اتحادیوں کے خلاف کارروائیاں کیں۔

پاسدارانِ انقلاب کے ترجمان نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ ایران نے خطے میں اپنی دفاعی اور جوابی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا ہے اور مستقبل میں بھی کسی ممکنہ خطرے کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہے۔

توانائی اور عالمی انٹرنیٹ انفرااسٹرکچر سے متعلق دھمکی

حسین محبی نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر ایران کو دوبارہ خطرات کا سامنا ہوا تو خطے میں امریکی اور دیگر ممالک کے توانائی نظام سمیت عالمی انٹرنیٹ انفرااسٹرکچر کو بھی نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کے اثرات خلیج فارس اور مشرقِ وسطیٰ کی سلامتی کے ساتھ ساتھ توانائی اور عالمی بحری تجارت پر بھی مرتب ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

سینئر صحافی غلام مرتضیٰ کے مطابق خلیج فارس میں امریکی جنگی بحری موجودگی ختم ہونے سے متعلق ایرانی پاسدارانِ انقلاب کا دعویٰ خطے میں جاری عسکری صورتحال کے حوالے سے اہم ہے، تاہم امریکی بحری جہازوں کی موجودگی یا انخلا سے متعلق اس دعوے کی آزادانہ تصدیق تاحال سامنے نہیں آئی۔

ایسے حساس فوجی معاملات میں دونوں جانب سے سامنے آنے والے دعوؤں کو الگ الگ دیکھنا اور آزاد ذرائع سے تصدیق کا انتظار کرنا ضروری ہے۔

عوامی رائے

سوشل میڈیا پر ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے اس دعوے کے بعد مختلف ردعمل سامنے آسکتے ہیں۔ بعض صارفین اسے ایران کی عسکری کامیابی قرار دے سکتے ہیں، جبکہ دیگر امریکی بحری طاقت اور خطے میں موجود فوجی صورتحال کے حوالے سے مزید قابلِ اعتماد معلومات سامنے آنے کا انتظار کریں گے۔

ماہرین کی رائے

دفاعی ماہرین کے مطابق خلیج فارس میں امریکی بحری موجودگی عالمی سطح پر اسٹریٹیجک اہمیت رکھتی ہے، کیونکہ یہ خطہ توانائی کی عالمی ترسیل کے لیے انتہائی اہم ہے۔ کسی بھی بڑی فوجی تبدیلی کے اثرات صرف ایران اور امریکا تک محدود نہیں رہتے بلکہ خلیجی ممالک، عالمی توانائی منڈی اور سمندری تجارت بھی اس سے متاثر ہو سکتی ہے۔

خلیج فارس میں امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی خطے کے لیے انتہائی حساس صورتحال پیدا کر سکتی ہے۔ توانائی کے بنیادی ڈھانچے اور عالمی انٹرنیٹ نظام کو نشانہ بنانے کی دھمکیوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ تنازع وسیع ہونے کی صورت میں اس کے اثرات خطے سے کہیں آگے تک پہنچ سکتے ہیں۔ تمام فریقوں کو ایسے اقدامات سے گریز کرنا چاہیے جو بڑے تصادم کا سبب بن سکتے ہوں۔

میری رائے میں خلیج فارس سے امریکی جنگی بحری موجودگی ختم ہونے سے متعلق ایرانی دعویٰ اہم ضرور ہے، لیکن اس کی آزادانہ تصدیق کے بغیر اسے حتمی حقیقت قرار دینا مناسب نہیں۔ موجودہ کشیدہ صورتحال میں کسی بھی عسکری دعوے کو احتیاط کے ساتھ دیکھنا اور دونوں جانب سے سامنے آنے والی معلومات کا تقابلی جائزہ لینا ہی ذمہ دارانہ صحافت کا تقاضا ہے۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین