ہم تیار ہیں، اگر حماس نہ مانی تو ہم اکیلے ہی اس کا کام تمام کر دیں گے: نیتن یاہو

یہ کام آسان طریقے سے بھی ہو سکتا ہے اور مشکل طریقے سے بھی

واشنگٹن/یروشلم: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کی وائٹ ہاؤس میں ہونے والی ملاقات کے بعد غزہ میں امن کی نئی امید جاگ اٹھی ہے، جہاں نیتن یاہو نے صدر ٹرمپ کے 20 نکاتی امن منصوبے کی حمایت کا اعلان کر دیا ہے۔ تاہم، انہوں نے حماس کو واضح خبردار کر دیا ہے کہ اگر یہ گروپ منصوبے کو قبول کرنے سے انکار کرتا ہے یا معاہدے سے پیچھے ہٹتا ہے تو اسرائیل اکیلا ہی حماس کا خاتمہ کر کے جنگ کو ہمیشہ کے لیے ختم کر دے گا۔ یہ بیان مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران دیا گیا، جس میں دونوں رہنماؤں نے اس منصوبے کو "مشرق وسطیٰ میں ابدی امن” کی بنیاد قرار دیا۔

عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق، نیتن یاہو نے صدر ٹرمپ کے منصوبے کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے اسے قبول کر لیا ہے، لیکن اگر حماس نے نہیں کیا تو ہم اکیلے ہی اس جنگ کو ہمیشہ کے لیے ختم کر دیں گے۔ انہوں نے مزید واضح کیا کہ یہ کام آسان طریقے سے بھی ہو سکتا ہے اور مشکل طریقے سے بھی، لیکن ہر صورت میں یہ کیا جائے گا۔ ہم آسان راستہ ترجیح دیتے ہیں، مگر مقصد ہر حال میں حاصل ہوگا۔ یہ الفاظ حماس کے لیے ایک واضح الٹی میٹم کی حیثیت رکھتے ہیں، جہاں نیتن یاہو نے زور دیا کہ اسرائیل کی سلامتی کو کوئی بھی خطرہ برداشت نہیں کیا جائے گا۔

نیتن یاہو نے غزہ جنگ ختم کرنے کے امریکی منصوبے کے پہلے قدم کے طور پر محدود انخلا اور 72 گھنٹوں کے اندر تمام یرغمالیوں کی رہائی کا ذکر کیا۔ انہوں نے بتایا کہ اس کے بعد ایک بین الاقوامی ادارہ حماس کو غیر مسلح کرنے اور غزہ کو ایک غیر فوجی علاقے میں تبدیل کرنے کی ذمہ داری سنبھالے گا۔ اگر یہ عمل کامیاب رہا تو جنگ ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائے گی، اور غزہ کی تعمیر نو کا عمل شروع ہو جائے گا، جس میں بنیادی ڈھانچے کی بحالی، انسانی امداد کی ترسیل اور معاشی ترقی شامل ہوگی۔

تاہم، اسرائیلی وزیراعظم نے مکمل فوجی انخلا کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ فی الحال اسرائیل غزہ کی سرحدوں پر سیکیورٹی دائرے میں موجود رہے گا، جو "قابلِ پیشِ نظر مستقبل” تک برقرار رہے گا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر حماس معاہدے کو قبول کرنے کے بعد اس سے پیچھے ہٹی تو اسرائیل اکیلا ہی حماس کا خاتمہ کر کے اپنی جنگ مکمل کرے گا۔ نیتن یاہو کا یہ موقف وائٹ ہاؤس کی جاری کردہ دستاویز سے جزوی طور پر مطابقت رکھتا ہے، جو مرحلہ وار انخلا اور حماس کی عدم شمولیت پر زور دیتی ہے، لیکن اسرائیلی سلامتی کی ضمانت کو مرکزی حیثیت دیتی ہے۔

اسرائیلی وزیراعظم نے فلسطینی اتھارٹی (پی اے) کے بارے میں بھی سخت موقف اپنایا، کہتے ہوئے کہ غزہ کی آئندہ حکومت میں اسے کوئی کردار اس وقت تک نہیں دیا جا سکتا جب تک وہ خود میں "بنیادی اور حقیقی تبدیلیاں” نہ کر لے۔ انہوں نے مزید کہا کہ "زیادہ تر اسرائیلیوں کو یقین نہیں کہ فلسطینی اتھارٹی اپنی پالیسی تبدیل کرے گی، لیکن صدر ٹرمپ کا منصوبہ ایک حقیقت پسندانہ راستہ فراہم کرتا ہے جس کے تحت غزہ کی انتظامیہ نہ تو حماس کے پاس ہوگی اور نہ ہی فلسطینی اتھارٹی کے پاس، بلکہ ان لوگوں کو دی جائے گی جو اسرائیل کے ساتھ حقیقی امن کے خواہاں ہیں۔” یہ تجویز ایک عارضی ٹرانزیشنل گورننس پر مبنی ہے، جس کی نگرانی ایک "بوڈ آف پیس” کرے گا، جس کی سربراہی صدر ٹرمپ خود کریں گے اور سابق برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیئر سمیت دیگر عالمی رہنما شامل ہوں گے۔

صدر ٹرمپ نے پریس کانفرنس میں نیتن یاہو کی حمایت کی اور کہا کہ "اگر حماس اسے قبول نہیں کرتی تو اسرائیل کو ہماری مکمل پشت پناہی حاصل ہوگی کہ وہ جو کرنا چاہے کرے۔” وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری کی گئی 20 نکاتی دستاویز میں فوری جنگ بندی، یرغمالیوں اور فلسطینی قیدیوں کا تبادلہ، حماس کی عدم شمولیت، غزہ کی تعمیر نو اور دو ریاستی حل کی طرف پیش رفت شامل ہے۔ ٹرمپ نے اسے "مشرق وسطیٰ میں ابدی امن” کا حصہ قرار دیا، جو ابراہام اکورڈز کی توسیع اور علاقائی استحکام کو فروغ دے گا۔

حماس کی جانب سے ابھی تک کوئی سرکاری ردعمل سامنے نہیں آیا ہے، لیکن عالمی مبصرین کا کہنا ہے کہ گروپ کی عدم شمولیت اور غزہ کی مستقبل کی حکومت میں اس کی خارج ہونے کی شرط اس منصوبے کی کامیابی کے لیے سب سے بڑا چیلنج ہے۔ مسلم ممالک، جن میں پاکستان، سعودی عرب اور مصر شامل ہیں، نے پہلے ہی اس منصوبے کی حمایت کا اعلان کر دیا ہے، جو اسے ایک عالمی سطح پر تسلیم شدہ اقدام بناتا ہے۔ نیتن یاہو کی یہ بیان بازی نہ صرف حماس پر دباؤ بڑھاتی ہے بلکہ اسرائیل کی اندرونی سیاست کو بھی متاثر کر سکتی ہے، جہاں ان کی دائیں بازو کی اتحادیوں نے فلسطینی ریاست کی کسی بھی شکل کی مخالفت کی ہے۔

یہ ملاقات مشرق وسطیٰ کی سیاست میں ایک اہم موڑ ہے، جہاں ٹرمپ کی سفارتی کوششیں نیتن یاہو کی فوجی حکمت عملی کو متوازن کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر حماس اسے قبول کر لیتا ہے تو غزہ میں انسانی بحران کا خاتمہ ممکن ہے، ورنہ تنازعہ مزید شدت اختیار کر سکتا ہے۔

صدر ٹرمپ کا 20 نکاتی امن منصوبہ اور نیتن یاہو کی اس کی حمایت فلسطین-اسرائیل تنازعے کے حل کی جانب ایک مثبت اور حقیقت پسندانہ پیش رفت ہے، جو نہ صرف فوری جنگ بندی اور انسانی امداد کی راہ ہموار کرتا ہے بلکہ طویل مدتی استحکام کی مضبوط بنیاد بھی رکھتا ہے۔ نیتن یاہو کا بیان، جو حماس کو الٹی میٹم دیتا ہے، اگرچہ سخت لگتا ہے، لیکن یہ اسرائیلی سلامتی کی ضمانت کو یقینی بناتے ہوئے امن عمل کو آگے بڑھانے کا ایک ذمہ دارانہ طریقہ ہے۔ یہ منصوبہ فلسطینی عوام کے حقوق اور اسرائیلی خدشات دونوں کو مدنظر رکھتا ہے، جو اسے ایک متوازن حل بناتا ہے اور مشرق وسطیٰ میں ابدی امن کی امید کو زندہ کرتا ہے۔

منصوبے کی سب سے مثبت جہت اس کا مرحلہ وار نقطہ نظر ہے، جہاں پہلے 72 گھنٹوں میں یرغمالیوں کی رہائی اور محدود انخلا جیسے اقدامات فوری ریلیف فراہم کریں گے۔ غزہ میں دو سالہ جنگ نے ہزاروں جانیں لی ہیں اور بنیادی ڈھانچے کو تباہ کر دیا ہے؛ اس لیے حماس کی عدم مسلحی اور غزہ کو غیر فوجی علاقہ بنانے کی تجویز نہ صرف دہشت گردی کی جڑوں کو کاٹے گی بلکہ تعمیر نو کے مواقع پیدا کرے گی۔ بین الاقوامی ادارے کی نگرانی اور "بوڈ آف پیس” کا قیام شفافیت کو یقینی بنائے گا، جہاں ٹرمپ اور ٹونی بلیئر جیسے رہنماؤں کی شمولیت عالمی اعتماد بڑھائے گی۔ یہ اقدام غزہ کو ایک معاشی مرکز، جیسے "مڈل ایسٹ کی رِویئرا”، میں تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، جو لاکھوں فلسطینیوں کو روزگار اور خوشحالی دے گا۔

نیتن یاہو کی حماس کو خبردار کرنے والی بات، آسان یا مشکل طریقے سے کام ہوگا، امن کی سنجیدگی کو اجاگر کرتی ہے۔ یہ دباؤ حماس کو معاہدے کی طرف راغب کر سکتا ہے، کیونکہ گروپ کی خارج ہونے کی شرط اسے سیاسی طور پر کمزور کرے گی اور فلسطینی اتھارٹی کو مرکزی کردار دینے کا موقع دے گی۔ فلسطینی اتھارٹی پر تبدیلیوں کا مطالبہ بھی مثبت ہے، کیونکہ یہ اندرونی اصلاحات کو فروغ دے گا اور فلسطینی اتحاد کو مضبوط کرے گا۔ سیکیورٹی دائرے کا برقرار رہنا اسرائیل کی تشویشات دور کرے گا، جبکہ مرحلہ وار انخلا اعتماد کی تعمیر کرے گا۔

مسلم ممالک کی حمایت – پاکستان، سعودی عرب، اردن اور دیگر سے – اس منصوبے کی کامیابی کی کلید ہے، جو اسے ایک "عرب-مسلم-امریکی” شراکت داری میں تبدیل کر دیتی ہے۔ یہ اتحاد نہ صرف مالی اور سفارتی مدد فراہم کرے گا بلکہ ابراہام اکورڈز کی توسیع کے ذریعے علاقائی معیشت کو فروغ دے گا۔ ٹرمپ کی قیادت، جو 2024 انتخابی مہم میں امن کا وعدہ کر چکے تھے، ایک تاریخی موقع ہے جو غزہ کے انسانی بحران کو ختم کر سکتا ہے اور فلسطینیوں کو خودمختاری کی طرف لے جا سکتا ہے۔

مجموعی طور پر، یہ منصوبہ امید کی کرن ہے جو انصاف، تحفظ اور ترقی پر مبنی ہے۔ نیتن یاہو کی حمایت اور حماس پر دباؤ اسے عملی بنانے میں مددگار ثابت ہوگا، اور اگر تمام فریقین مل کر کام کریں تو یہ مشرق وسطیٰ میں ایک نئی صدی کا آغاز ہوگا – ایک ایسا دور جہاں امن نہ صرف ممکن ہو بلکہ پائیدار بھی ہو۔ یہ قدم فلسطینی جدوجہد کی فتح اور اسرائیلی سلامتی کی ضمانت دونوں کا ذریعہ بن سکتا ہے، جو عالمی سطح پر اسلام اور یہودیت کے درمیان مکالمے کو فروغ دے گا۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین