اسلام آباد: قومی اسمبلی کے اجلاس میں وزیراعلیٰ پنجاب کی پانی اور بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام) پر حالیہ تنقیدی بیانات کے بعد پیپلز پارٹی (پی پی پی) نے حکمران اتحاد سے الگ ہونے کی دھمکی دے دی اور احتجاجاً ایوان سے واک آؤٹ کر گئی۔ اس دوران پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حمایت یافتہ آزاد ارکان نے بھی شدید احتجاج کیا، جس کے نتیجے میں اسپیکر نے اجلاس ملتوی کر دیا۔ پی ٹی آئی ارکان نے اسپیکر ڈائس کے سامنے عوامی اسمبلی لگا لی، جہاں اہم قراردادیں منظور کی گئیں۔
اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں پی پی پی کے رکن سید نوید قمر نے نکتہ اعتراض اٹھاتے ہوئے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی حالیہ تقریروں اور بیانات پر کڑی تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ "ہمارا پانی، ہماری نہر، ہماری مرضی” جیسے بیانات کا کیا مطلب ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پانی دریائے سندھ کا ہے اور پانی پاکستان کا ہے، ایسی تقریروں سے شدید افسوس ہوا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں تو اس حکومت کو کندھا دینے کے طعنے مل رہے ہیں۔
سید نوید قمر نے واضح کیا کہ ہم کوئی فیس نہیں لے رہے کہ حکومتی بینچوں پر بیٹھے رہیں، ہم اپوزیشن بینچوں پر بھی بیٹھ سکتے ہیں۔ ان کے نکتہ اعتراض کے فوراً بعد پی پی پی کے تمام ارکان نے ایوان سے احتجاجاً واک آؤٹ کر دیا، جس سے ایوان میں کشیدگی عروج پر پہنچ گئی۔
اس دوران وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ اگر وزیراعلیٰ پنجاب کے بیانات سے کسی کی دل آزاری ہوئی ہے تو وہ اس پر معذرت خواہی کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے بڑے ایک ساتھ بیٹھ کر مسائل حل کر لیں گے، اتحاد کو مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔
دوسری جانب، پی ٹی آئی کی حمایت یافتہ آزاد ارکان نے پہلے اپنی نشستوں پر احتجاج کا آغاز کیا اور پھر اسپیکر ڈائس کی طرف بڑھنا شروع کر دیا۔ اس صورتحال پر اسپیکر سردار ایاز صادق نے فوری طور پر اجلاس کو جمعہ گیارہ بجے تک ملتوی کر دیا۔
اجلاس ملتوی ہونے کے بعد محمود خان اچکزئی کی قیادت میں پی ٹی آئی کے ارکان نے اسپیکر ڈائس کے سامنے اپنی الگ عوامی اسمبلی لگا لی۔ اس موقع پر سابق اسپیکر اسد قیصر نے اسپیکر کے فرائض سرانجام دیے اور ارکان نے مختلف تقاریر کیں۔
پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے قراردادیں پیش کیں، جنہیں متفقہ طور پر منظور کر لیا گیا۔ ان قراردادیں میں اسرائیل کو تسلیم کرنے کی کسی بھی کوشش کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے اعلان کیا گیا کہ اسرائیل کو تسلیم کرنے کی ابتدا یا انتہا دونوں صورتوں میں کسی بھی حال میں تسلیم نہ کیا جائے گا۔
اسی طرح پی ٹی آئی کی قراردادیں میں شمع جونیجو کی خفیہ دستاویزات تک رسائی کا مطالبہ کیا گیا۔ مزید برآں، بانی چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان اور بشری بی بی کو اڈیالہ جیل سے کسی دوسری جگہ منتقل کرنے کی کسی بھی کوشش کو سختی سے مسترد کر دیا گیا۔
اسے بھی پڑھیں: سونے کی قیمت میں ریکارڈ اضافہ جاری، آج بھی فی تولہ ہزاروں روپے مہنگا
عوامی اسمبلی جاری تھی کہ اس دوران پی پی پی کے سینئر رہنما سید نوید قمر بھی وہاں پہنچ گئے۔ پی ٹی آئی کے ارکان نے ان کا پرتپاک استقبال کیا اور تقریر کرنے کی دعوت دی، مگر وہ کچھ دیر بعد ہی اسپیکر آفس چلے گئے۔ عوامی اسمبلی کا اجلاس بھی جمعہ دن گیارہ بجے تک ملتوی کر دیا گیا۔
یہ واقعہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی حالیہ تقریروں کے تناظر میں سامنے آیا ہے، جن میں انہوں نے پانی کے معاملے پر صوبائی خودمختاری پر زور دیا اور بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام) کو سیلاب متاثرین کے لیے ناکافی قرار دیا۔ پنجاب میں حالیہ سیلاب کے بعد ریلیف کی تقسیم پر پی پی پی اور پی ایم ایل این کے درمیان تناؤ بڑھ چکا ہے، جہاں پی پی پی بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کو سب سے مؤثر ذریعہ قرار دے رہی ہے جبکہ مریم نواز اسے 10 ہزار روپے کی رقم کی وجہ سے ناکافی بتاتی ہیں اور پنجاب کی اپنی ریلیف کارڈ سسٹم کو ترجیح دے رہی ہیں۔
اس سیاسی ہنگامہ آرائی کے باوجود، قومی اسمبلی کے اس اجلاس میں کئی مثبت پہلو نمایاں ہیں جو پاکستان کی جمہوری روایات کی مضبوطی اور قیادت کی پختگی کو ظاہر کرتے ہیں۔ سب سے پہلے، احتجاج اور واک آؤٹ جیسے اقدامات، اگرچہ ایوان کی کارروائیوں میں خلل کا باعث بنے، مگر یہ جمہوریت کی روح کی عکاسی کرتے ہیں جہاں اختلاف رائے کو کھلے عام اظہار کرنے کی آزادی موجود ہے۔ سید نوید قمر کا نکتہ اعتراض اٹھانا اور پی پی پی کا فوری ردعمل نہ صرف صوبائی حقوق جیسے اہم مسائل کو اجاگر کرتا ہے بلکہ وفاقی سطح پر صوبوں کے درمیان پانی اور وسائل کی منصفانہ تقسیم کی بحث کو زندہ کر دیتا ہے، جو طویل مدتی حل کی بنیاد بن سکتا ہے۔
دوسرا، وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کا فوری معذرت خواہی کا اعلان اور بات چیت کی دعوت حکومت کی لچک اور اتحاد کو برقرار رکھنے کی خواہش کی نشاندہی کرتی ہے۔ یہ قدم نہ صرف تنازع کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے بلکہ حکمران اتحاد کو مزید مستحکم کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے، خاص طور پر جب ملک سیلاب جیسے قدرتی آفات کا شکار ہے۔ اسی طرح، پی پی پی اور پی ٹی آئی کے درمیان عوامی اسمبلی میں سید نوید قمر کا شرکت اور ان کا پرتپاک استقبال ایک مثبت اشارہ ہے جو مخالفین کے درمیان ممکنہ ڈائیلاگ کی راہ ہموار کر سکتا ہے، جو پاکستان کی متنازعہ سیاست میں نایاب ہے۔
تیسرا، پی ٹی آئی کی عوامی اسمبلی اور منظور شدہ قراردادیں، جیسے اسرائیل کی مخالفت، عمران خان اور بشری بی بی کی جیل کی حالتوں پر توجہ، اور شمع جونیجو کی دستاویزات کی رسائی کا مطالبہ، نہ صرف پارٹی کی اندرونی یکجہتی کو ظاہر کرتی ہیں بلکہ قومی سطح پر اہم ایشوز جیسے خارجہ پالیسی، انسانی حقوق، اور شفافیت کو سامنے لاتی ہیں۔ محمود خان اچکزئی اور اسد قیصر کی قیادت میں یہ اقدام پی ٹی آئی کی پارلیمانی موجودگی کو مضبوط بناتے ہیں اور عوام میں سیاسی شعور بیدار کرنے کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔
مجموعی طور پر، یہ واقعہ چیلنجز کے باوجود پاکستان کی سیاسی قوت کو اجاگر کرتا ہے جہاں احتجاج جمہوریت کی حفاظت کرتا ہے، اور قیادت کے ردعمل سے امید پیدا ہوتی ہے کہ اختلافات ڈائیلاگ کی شکل اختیار کر سکتے ہیں۔ اگر یہ مواقع استعمال کیے جائیں تو نہ صرف حکمران اتحاد بچایا جا سکتا ہے بلکہ سیلاب متاثرین کے لیے مؤثر ریلیف اور صوبائی وفاق کی مضبوطی کی طرف بھی پیش رفت ہو سکتی ہے، جو ملک کی مجموعی ترقی اور استحکام کی ضمانت ہے۔





















